Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 113

جرم آزادی

بچپن میں ہمارے محکمے میں بلکہ پورے کراچی میں ہی بنگالی ایک چھوٹی سی تین پہیوں والی ٹھیلے نما گاڑی لایا کرتے تھے۔ جس میں چھوٹی چھوٹی برنیوں میں مچھلیاں جو کہ زندہ ہوتی تھیں اس کے علاوہ چورن کھجور کے بنائے ہوئے لڈو اور مختلف بچوں کے کھانے پینے کی اشیاءہوا کرتی تھیں۔ غربت، بے چارگی اور مایوسی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی تھی اور محلے کے لڑکے ان کو تنگ کررہے ہوتے تھے ان کا مذاق اڑا رہے ہوتے تھے اور آس پاس سے گزرنے والے پختہ عمر کے لوگ بھی ان کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ ہنستے تھے کیوں کہ ظلم بنگالی پر ہو رہا تھا۔ اور اسے پاکستان میں رہنے کا حق نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں ہوتا تھا اور اس کیوں؟ کا جواب کبھی نہیں مل سکا۔ یہ تو ایک بہت ہی چھوٹے سے پیمانے کی بات تھی لیکن اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ مغربی پاکستان میں بنگالی ایک اچھوت کی مانند تھے۔ کراچی میں ایک موسیٰ کالونی تھی جو لیاقت آباد کے نزدیک تھی، ٹوٹ پھوٹی جھونپڑیوں پر مشتمل یہ بنگالیوں کی بستی تھی، مخیر حضرات امراءجب کوئی نیاز کرتے یا تریب ہوتی تو چاولوں کی دیگ اسی بستی کے غریب باشندوں کو بھی دی جاتی تھی۔ ہم بھی کبھی اپنے بڑوں کے ساتھ چاول تقسیم کرنے اس بستی میں گئے۔ جس طرح سے ننگ دھڑنگ بچے بے تابی سے کھا رہے تھے اور ان کے والدین بھی چاولوں کے لئے بے تاب تھے اس غربت اس بھوک کا منظر آج تک نگاہوں کے سامنے ہے۔ ہم اپنے ان پاکستانیوں سے اس حد تک واف تھے کہ یہ بھوکے بنگالی کہلاتے ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ اس لفظ سے واقف ہے۔ یہ نام بنگالیوں کو پاکستان بنتے ہی عطا ہو گیا تھا اور لوگ آج تک اس نام سے واقف ہیں۔ وہ ہمارا پاکستانی بھائی نہیں بلکہ بھوکا بنگالی تھا اور اس کی کوئی عزت، کوئی حیثیت نہیں تھی۔ مشرقی پاکستان میں گورنمنٹ کے محکموں میں مغربی پاکستان سے بھرتی ہوتی تھی۔ ہمارے کئی رشتے دار وہاں نوکری کی وجہ سے رہ گئے ان کو مغربی پاکستان میں رہ کر مشرقی پاکستان میں اہم نوکریاں ملیں۔ کچھ لوگ کاروبار کرنے جاتے تھے۔ بنگالی بہت سستے مزدور ہوا کرتے تھے۔ غربت اور بے روزگاری عروج پر تھی۔ اسی وجہ سے مغربی پاکستان سے جانے والے کو وہاں بنگالی عورتیں بھی گھر میں رکھنے کو مل جاتی تھیں۔ ایک بنگالی بچے نے جب اس ماحول میں آنکھ کھولی اور جوان ہونے تک سے اپنی حیثیت اپنی محرومی کا احساس ہو چکا تھا۔
مشرقی پاکستان کا تعلیمی معیار مغربی پاکستان سے بہت اچھا تھا۔ اس کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل کرنے پر کوئی مغربی پاکستان کا شخص سبقت لے جاتا تھا اور اسے نوکری ملنا محال تھی۔ اسے اگر نوکری ملتی بھی تو کسی مغربی پاکستان کے کاروباری شخص کے پاس ملتی تھی۔ بغاوت اور علیحدگی کے جراثیم تو ہم نے خود پیدا کئے تھے۔ آج یہ سبق دیا جاتا ہے کہ مجیب الرحمن اور ہندوستان کی سازش نے اس سانحے کو جنم دیا۔ کہا جاتا ہے مشرقی پاکستان کے اسکولوں میں ہندو اساتذہ تھے جو کہ طالبعلموں کو بھڑکا رہے تھے ان کو باغی بنا رہے تھے اگر یہ سب ہو رہا تھا تو کیا آپ لوگ سو رہے تھے اور ہندو اور ریسائی استاد تو مغربی پاکستان میں بھی تھے یہاں ایسا کیوں نہیں ہوا؟ یہاں تو چیف جسٹس بھی ہندو رہے ہیں۔ باقی مغربی پاکستان میں یہ ضرور ہوا کہ کراچی اور بلوچستان میں تحریکوں نے جنم لیا۔ وجہ بالکل مشرقی پاکستان جیسی ہے۔ محرومی اور نا انصافی نے کراچی اور بلوچستان والوں کو بھی تحریک کا ساتھ دینے پر مجبور کیا۔ بدقسمتی سے کچھ مفاد پرستوں نے زخموں پر جعلی مرہم لگا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور لوگ بھی پسے ہوئے تھے ان کے جال میں آگئے کیوں کہ لوگوں نے ان کو اپنا ہمدرد سمجھا۔ بالکل اسی طرح مشرقی پاکستان میں ہوا۔ نا انصافی اور محرومی نے ان کو ایسے لوگوں کا ساتھ دینے پر مجبور کردیا کہ جو مفاد پرست تھے اسی طرح ہندوستان نے مشرقی پاکستان کے عوام کی محرومی اور ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کا فائدہ اٹھایا اور اپنی ہمدردیاں پیش کیں لیکن علیحدہ ہوتے ہی مشرقی پاکستان کے لوگوں نے سب سے پہلے مفاد پرستوں سے پیچھا چھڑایا اور اسی وجہ سے کامیاب رہے۔ میں تو کہتا ہوں بنگلہ دیش بننے کی سازش مشرقی پاکستان میں نہیں بلکہ مغربی پاکستان میں بنی تھی۔ حالات ایسے پیدا کئے گئے کہ مشرقی پاکستان سے حکومت نہ بن سکے۔ سیاست دان خوف زدہ تھے کہ جمہوریت میں الیک ہوئے تو حکومت سو فیصد بنگال سے بنے گی۔ کیا یہ ہندوستان کی سازش تھی کہ جب الیکشن ہوئے مجیب الرحمن کی اکثریت سے کامیابی ہوئی تو اسے حکومت دینے سے انکار کردیا گیا۔ اور یہی چیز علیحدگی کا سبب بنی۔ ایک بنگالی ہمارے اوپر حکومت کرے ناممکن ہے۔
بھٹو صاحب، یحییٰ خان پر حاوی تھے، فوج نے ہتھیار پھینکے نہیں تھے، پھنکوائے گئے تھے کیوں کہ اس وقت کی فوج حکومت کے احکامات کی پابندی کرتی تھی۔ لیکن بعد میں فوج کو اندازہ ہو گیا کہ سیاست دانوں کی چالوں سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہذا فوج میں بھی تبدیلی آگئی۔ مجھے آج تک بھٹو صاحب کی اس بات کا جواب نہیں ملا کہ انہوں نے بھرے جلسے میں قوم سے خود ہی سوال کیا اور خود ہی جواب بھی دے دیا۔ ابھی بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ سوال تھا کہ آپ لوگ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں اور پھر خود ہی جواب دیا کہ ٹھیک ہے اگر آپ لوگ نہیں چاہتے تو وہ لوگ جائیں جہنم میں۔ اور ایک غلط لفظ بھی استعمال کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود ہی فیصلہ کیا کہ ٹھیک ہے انہیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا ہے۔ انہیں بنگلہ دیش بنانے دو، ورنہ اس سوال کا مطلب کیا تھا اور کیوں اور کیوں کیا گیا تھا۔ کیا اس وقت بھی ہمارے پاس موقع تھا کہ اگر قوم کہتی کہ ہاں ہم ان کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو کیا حکومت ان کو دے دی جاتی اور بنگلہ دیش نہیں بنتا۔ دراصل بھٹو نے خود ہی سوال اور خود ہی جواب سے چال چلی کہ ہم ان کو حکومت نہیں دیں گے اور علیحدہ ہو جانے دو، یہ پلان بھی پرانا تھا۔ کیا یہ ہندوستان کی سازش تھی کہ اکثریت سے جیتنے کے بعد بھی ان کو حکومت دینے سے انکار کردیا گیا۔ ایک بھوکا بنگالی ہمارے اوپر حکومت کرے ناممکن ہے اور پاکستان تقسیم ہو گیا۔ دنیا میں تقسیم کا یہ عمل کئی صدیوں سے جاری ہے۔
زمین کا جغرافیہ تبدیل ہوتا رہا اور یہ تقسیم کئی عوامل کا نتیجہ ہے۔ کہیں قدرتی آفات نے نقل مکانی کی صورت میں تقسیم کیا تو کہیں طاقتور بادشاہوں کے حملوں اور قبضوں نے تقسیم کیا۔ آج عرب کے کئی ممالک ہیں جو کبھی ایک ہوا کرتے تھے۔ اس طرح کوریا، چائنا ایشیا کے کئی ممالک اور اسی طرح یوروپی ممالک تقسیم ہوئے۔ انسان ہمیشہ سے ظالم ہی رہا ہے اور مظلوم بھی، زمینوں کے ٹکڑے، لالچ، خود غرضی، نفرت اور حق تلفی کے باعث ہی بنتے ہیں۔ کیا رنج اس بات کا ہے کہ کچھ مظلوم ہمارے ہاتھ سے نکل گئے جو ہماری تسکین کا باعث تھے۔ ظلم کا بازار تو بچے کھچے پاکستان میں بھی لگا ہے۔ لیکن یہ افسوس بھی ہے کہ وہ بنگالی جن پر ہم ظلم کرتے تھے ان کو جائز حقوق سے محروم رکھا تھا۔ ہائے وہ ہمارے پنجے سے کیوں نکل گئے اگر وہ علیحدہ نہ ہوتے تو شاید آج بھی ہم ان کو پاکستانی بھائی نہ مانتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں