133

طلاق تو ٹھیک۔۔۔ پر آگے!!

دوست کا بار بار فون آرہا تھا۔ مصروفیت کی بنا پر اٹھا نہیں پارہی تھی۔ پھر کال بیک کیا تواس نے ایک خاتون کے بارے میں خبر دی کہ وہ میاں سے علیحدہ ہوگئی۔ یقینا ً ہر عورت کا حق ہے مذہبی اور قانونی بھی کہ اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی بھی طرح سے خوش یا مطمئن نہیں تو وہ اس سے علیحدہ ہونے کا مکمل اختیار بھی رکھتی ہے اور حق بھی۔ پر مجھے پریشانی ہورہی تھی حالانکہ میرا اس خاتون سے کوئی دور کابھی واسطہ نہیں لیکن ایک عورت ہونے کے ناطے میں اس کے Financial Statistics پر غور کرنے کی ناکام کوشش کرنے پرمجبور تھی۔میں نے دوست سے پوچھاکہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہے علیحدہ ہوکر۔ یقیناً کسی سے بات تک کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ میری تو میاں سے لڑائی ہوجائے تو منہ تک دھونے کو دل نہیں کرتانہ کسی سے بات کرنے کو۔گھر کا سکون انسانی زندگی کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جتنے بھی اختلاف ہوں مرد اور عورت دونوں اس سکون کو قائم رکھنے کیلئے اپنے آپ سے غافل ہوتے جاتے ہیں۔ خیر جب نہ قائم رہ سکے تو مذہب اور معاشرہ ایک دوسرے سے الگ ہوجانے کا اختیار دیتے ہیں۔ جس ماحول میں ہم لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے وہاں طلاق سے بڑی کوئی آفت تصور نہیں کی جاسکتی اور مجھے معاشرے کے اس روئے پر شدید اختلاف بھی ہے لیکن میرے اس اختلاف سے صرف میری اپنی سوچ ہی وسیع ہوتی ہے اور حاصل کچھ خاص نہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں صرف لاہور کی عدالتوں میں بیس ہزار فیملی مقدمات درج ہوئے جن میں رواں سال میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے یہ ایک ایسے ملک کی داستاں ہے جہاں شادی کرنے کیلئے پہلے ڈھیروں پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ ڈھیروں جھوٹ بول کے فلمی سٹائل کی شادی قیام پذیر لانا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔
یہ توتھا پاکستان کے ایک شہر کا حال۔ایک چھوٹا سا پاکستان ٹورنٹومیں بھی بستاہے جہاں یہ لوگ بحیثیت ایک کمیونٹی اگر آگےآرہے ہیں تو ان کا فیملی نظام اکثر جگہ زوال کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ کینیڈا میں ایک سروے کے مطابق، ہر 10میں سے چار فیملیز کا نظام درہم برہم ہوتا جارہا ہے اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں یہ ایک بہت لمبی چوڑی اور کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے مگر اصل مسئلہ فیملی نظام کی خرابی ہے جس کے نتیجے میں اور بہت سے مسائل کا انبار جنم لیتا ہے۔ ہر گھر پرفیکٹ نہں ہوسکتا مگر کیا ہر شخص ہر لحاظ سے اتنا ہی پرفیکٹ ہے ہے کہ دوسرے کو اس کی امپرفیکشنز کےباعث کہیں بھی چھوڑ کے قدم آگے بڑھا دیا جائے۔ مردوں کی دوسری شادی اور عورتوں پہ ہونے والے ناگہانی ظلم پہ میں نے ہمیشہ قلم اٹھایا ہے مگر آج عورت کی جلدبازی اور معاشی کم فہمی نے مجھے یہ سب لکھنے پر مجبور کردیا کہ خلع لیں طلاق لیں ضرور لیں۔’مگر آگے کیا کرنا ہے اس بارےمیں بھی ضرور سوچیں۔
سو جن خاتون کے متعلق لکھ رہی تھی انھوں نے بچے میاں کے منہ پہ مارے اور خود شیلٹر ہوم میں چلی گئیں۔ بھلا ہو شیلٹر ہومزکا جو مظلوم و بے سہارا عورتوں کو اپنے پاس پناہ دیتے ہیں
مگر شیلٹر ہومز آجکل اتنے بھرگئے ہیں کہ وہاں بھی جگہ ملنا محال ہوگیا ہے مل بھی جائے تو ان جگہوں کے بھی اپنے اصول ہیں آپ ایک مخصوص وقت سے زیادہ وہاں ٹھہر نہیں سکتے اور آپ کو جاب کرنا ہی کرنا ہے۔ اپنے گھر میں جو پراﺅیسی اور آرام عورت کو میسر آتا ہے اس کا ان شیلٹرہومز سے کیا مقابلہ۔ پاکستان میں تو ایسے شیلٹر ہومز میں عورتوں کے ساتھ ساتھ اب ان کے بچوں کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں رہتیں۔ کچھ بھی ہو سکتاہے۔
سو مسئلہ تو یہ ہے کہ بچوں کی خاطر عورت واقعی ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی تک تیاگ دیتی ہے جس کےساتھ اس کا کوئی بھی جوڑ نہ ہو حالانکہ یہ بھی عورت پر ایک ظلم ہے مگر دوسری طرف اگر عورت ان قربانیوں اور اس ایثار کا مظاہرہ نہ کرے تو سوچیں ایسےبچوں کا مستقبل ؟ ان کی ذہنی وجذباتی نشوونما کیا ہوگی۔ کیا وہ معاشرے کیلئے ایک بہتر انسان ثابت ہوسکیں گے۔ بالکل بھی نہیں۔ یقیناً بچے پیدا ہوجانے پر انسانی اختیار ثانوی حیثیت رکھتا ہے مگر عورت کیلئے بچوں کے سامنے دنیا کی ہر شے ثانوی ہوجاتی ہے
سو موصوفہ نے چار بچے شوہر کے حوالے کر کے خود شیلٹر ہوم کا راستہ لیا۔ ابھی پچھلے دنوں ایک دوست نے ذکر کیا کہ یہاں عورتیں خصوصاً پاکستانی عورتیں ڈپریشن کی مریض ہوکر بھی دوائی نہیں کھاتیں کہ پھر ان کےریکارڈ پر آجاتا ہے اور میاں بیوی میں طلاق کے موقع پرمیاں عورت کو نفسیاتی مریض ثابت کرکے بچے اپنی تحویل میں لےسکتا ہے۔ میں دونوں فریقین کی اس اعلیٰ سوچ کو محض سلام ہی پیش کرسکتی ہوں
وہ شیلٹر ہوم میں پرسکون ہے اسے آزادی مل گئی ہے۔ ایسے موقع پر جب انسان اپنوں تک سے ملنا بات کرنا چھوڑ دیتا ہے وہ محترمہ سوشل میڈیا پر “بریک اپ” کا سٹیٹس لگاکے منہ بولے بھائیوں سے ڈھیروں ہمدردیاں وصول کررہی ہیں۔ کیا یہ سٹیٹس اتنا ضروری ہے۔جو گھر واقعی میں ٹوٹ جائے وہاں کے مکینوں کو ایسے چونچلوں کا ہوش رہتا ہے۔ ماشائ اللہ سے ایک عام سی عورت کو اس شاندار کارنامے پر 200/300لائیکس اور اس سے ڈبل ٹرپل ہمدردانہ کمنٹس وصول ہوئے ہیں۔ جب ان اے پوچھاگیا کہ تم پریشان ہو تو اسنےبولا کہ نہیں میں بہت مطمئن ہوں۔ آگے کیا کرنا ہے “ پتہ نہیں” مطلب محترمہ اس وقت الہڑ پن کے ایسے دور میں قدم رکھ رہی ہیں کہ انھیں ہوش ہی نہیں اپنی اور اپنے بچوں کی آنے والی زندگی کا۔کیا ایک ذمہ دار بیوی اور ماں کا رویہ ایسا ہونا چاہئے؟ کیامستقبل کے معمار ایسی گود میں پل کر دنیا تسخیر کریں گے؟
یقیناً کسی کے بے بنیاد سبزباغوں کی بنیاد پر کوئی بیوقوف عورت ایسا قدم اٹھا سکتی ہے۔ طلاق ایک حق ہے مگر عیاشی نہیں۔ اس حق کو استعمال ضرور کریں مگر اسے ایک مذاق مت بنائیں۔ گھر بہت مشکل سے بنتا ہے انھیں وقتی چارم اور لوگوں کی باتوں میں آکرنہ توڑیں۔ یہاں سگے بہن بھائی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ پاتے وقت پڑنے پر تو یہ منہ بولے بھائی کیامددکریں گے۔مجھے تو آج تک نہ ہی کوئی ایسی منہ بولی بہن ملی نہ ہی کوئی اتنا عظیم الشان بھائی۔ شاید میں ہوں ہی نالائق میں نے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ فیملی لائف کی مشکلات کو صبر اور تحمل سے برداشت کرناسیکھیں۔ طلاق صرف اس صورت میں لی جائے جب واقعی ناگزیر ہوجائے۔یہ سب جو میں نے آج لکھا وہ ایک تکلیف ہے جو میں اس عورت اور اس جیسی ناسمجھ اور جلد باز عورتوں کیلئے محسوس کررہی ہوں جنھیں یہ تک نہیں پتہ کہ طلاق کا پراسیس تین چار سال پر محیط ہوتا ہے اور وکیل کو پیسے اپنی جیب سے دینے پڑتے ہیں نہ کہ حکومت مدد کرتی ہے اس مد میں اورہرچیز سیٹل ڈاو¿ن ہونے میں تین چار سال لگ جاتے ہیں۔ اس دوران عورت کتنے بڑے ذہنی،معاشی اور جسمانی بحران سے گزرتی ہے جہاں مدد کو کوئی نہیں آتا۔ اس سب کا علم ہر عورت کو ہونا چاہئے کہ طلاق ایک بہت مشکل مرحلہ ہے یہ قدم جوش میں نہیں بلکہ ہوش میں اٹھائیں۔ کاش میں کچھ کر سکوں ایسی خواتین کیلئے ان کے گھر ٹوٹنے سے پہلے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں