42

میری ماں

شاعر کی بیوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس کے نصیب برے ہوں وہ شاعر کی بیوی ہوتی ہے۔ میری ماں بھی شاعر کی بیوی تھی اس کے نصیب خراب تھے یا خوش نصیب کہ وہ ہمارے والد کی اہلیہ تھیں۔ میری ماں کے سگے ماموں اکثر ہمیں تاکید کرتے کہ تمہاری ماں کا بچپن بڑی محرومیوں میں گزرا ہے۔ چھوٹی عمر میں ان کا نکاح ایک شاعر سے کروادیا گیا۔ جن سے ہم نو بھائی بہنیں تھے۔ انہوں نے اپنی باقی زندگی کو ان خواہشات تک محدود رکھا کہ وہ اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ اپنے بچوں میں اعلیٰ انسانی صفات پیدا کرنا چاہتی تھیں ان کو بہترین تعلیم دلا کر اعلیٰ انسان بنانا چاہتی تھیں یہ ہی ان کی زندگی کا خواب تھا۔ بڑے خواب دیکھنے کے لئے انہوں نے اپنے شاعر شوہر کو مکمل آزاد رکھا تھا۔ شاید ایک چھوٹی سی خواہش یہ بھی تھی کہ ان کا اپنا ایک گھر ہو کیونکہ بچپن میں ماں کا گھر جلدی چھوڑنا پڑا اور شوہر کا گھر بسانا چاہا مگر ہندوستان سے ہجرت بھی جلدی کرنی پڑی۔ پھر حیدرآباد سندھ میں گھر بنانا چاہتا تو کراچی میں ناظم آباد میں قیام کرنا، پھر گلشن میں کچھ عرصہ گزار کر سخی حسن میں اپنے شوہر کی قبر کے ساتھ ایک مستقل گھر میں سکونت پذیر ہو گئیں۔ میری ماں نے جس طرح ٹوٹ کر اپنے شریک زندگی سے محبت کی اس کا مکمل اظہار ان کے اس عمل سے ہوتا رہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کو شوہر کی اطاعت اور اس کی اولاد سے بے پناہ محبت دے کر کیا۔ اپنے شریک زندگی کی نگاہوں کو اپنے لئے دستور سمجھ کر ان پر من و عن تن من سے عمل یپرا ہو کر کیا۔ انہوں نے شریک زندگی کی مرضی و رضا کو اپنے ایمان کا جُز بنا لیا یعنی عورت کو اگر سجدہ جائز ہوتا تو وہ اپنے شوہر کو ہی کرتی۔ وہ اپنے شوہر کی خوشی دینے کو اس کو سہولتیں پہنچانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتی۔ اس طرح سے مکمل طور پر اپنے آپ کو شوہر کی مرضی کے تابع رکھا ان کی یہ کوششیں انتہاﺅں پر پہنچی ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق ہر رشتہ پر اپنی شریک زندگی اور اپنی اولاد کو فوقیت دی انہوں نے اپنے شریک زندگی اور اس کی اولاد کے لئے خود اپنے آپ کو اور اپنے دوسرے رشتوں کو فراموش کئے رکھا۔ ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کو عروج پر پہنچتا دیکھیں اور یہ بھی کوشش تھی کہ اولاد کو بھی عروج پر پہنچانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے اپنے شریک زندگی کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے ہر قسم کی قربانی خوشی خوشی دینے میں کبھی دیر نہیں لگائی۔ انہوں نے اپنے شریک زندگی کی اولاد سے بھی ٹوٹ کر پیار محبت کی انہیں ایک مثالی کردار کا حامل بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ یہ حقیقت ہے کہ اولاد کی زندگی اعلیٰ اقدار قائم کرنے میں بھی ان کی تمام توانائی صرف ہوئی۔ یوں اولاد نے اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حال کی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر پہنچی اور اخلاقیات کے تمام اصولوں کو بھی مدنظر رکھا۔
ایک شاعر کے گھرانہ میں ان اعلیٰ انسانی صفات میں ہمارے والد نے اپنے آپ کو ایک رول ماڈل بنا رکھا تھا۔ جو کچھ اولاد نے والد میں دیکھا اور والدہ کی بہترین تربیت سے سیکھا اس نے معاشڑتی برائیوں سے ان کو دور رکھا جو اس زمانے میں رائج تھیں۔ تمام تر عملی تربیت کی ذمہ دار صرف ہماری والدہ تھیں کیونکہ ہمارے والد نے تو ہماری تربیت میں براہ راست کوئی حصہ نہیں لیا۔ یعنی ہم سب بہنیں بھائیوں کو اچھا انسان بنانے میں تو تمام تر قربانیاں خود والدہ نے ہی دیں لیکن اولاد میں شوہر کی محبت کو بھی پروان ایسے ہی چڑھایا جیسی خود اپنے شریک زندگی سے کرتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تمام بھائی بہن ماں سے زیادہ والد کی محبت میں دیوانے ہیں۔ ایک بار ہمارے ایک بھائی صاحب نے والدہ کی محبت میں یا اپنی اہلیہ کی تعریف میں کہا کہ ”میری اہلیہ اپنے بچوں سے ٹوٹ کر محبت کرتی ہے جیسے ہماری والدہ کرتی ہیں“ ہم چھوٹے تھے ہمارا منہ بھی چھوٹا تھا، بات بڑی کرتے تھے، ہم نے کہا کہ یقیناً وہ اپنی اولاد سے بہت محبت کرتی ہیں مگر ہماری ماں کی فضیلت یہ تھی کہ خود خدمت تو اپنی اولاد کی مگر محبت کا جذبہ اپنے شوہر کے لئے ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔ آج ماں کے مقابلہ میں تمام اولاد ماں کی تمام تر خدمات کے باوجود باپ کی محبت کی دیوانی ہے۔ اس احساس محرومی کا شائبہ اپنی اولاد پر کبھی پڑنے نہیں دیا۔ خود قربانیاں دیں محبت اپنے شوہر سے کروائی۔ وہ جنتی محبت کرنے والی ماں تھیں اس سے زیادہ شریک زندگی کی اطاعت گزار اور فرمانبردار، کبھی اپنے شوہر کی کسی کے سامنے برائی کرنے کا سوچا تک نہیں۔ وہ اپنے شریک زندگی سے بھی محبت کرتی تھیں اس کے تمام رشتوں سے محبت کرتی تھیں۔ شوہر کی شاعری سے بھی محبت کرتی تھیں۔ حالانکہ ہمارے گھر میں جو کہ ایک شاعر کا گھر تھا اکثر محفلیں سجتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ اکثر ان محفلوں میں جوش صاحب اپنے لاﺅ لشکر اور لوازمات کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ ہماری والدہ کھانے پینے کا بہترین انتظام کرواتیں۔ اس لشکر میں میں مال غنیمت کی جو لوٹ مار ہوتی اور محفلوں کے بعد اس لشکر کے شریک لوگوں کے ڈگمگاتے قدموں کو سہارا دے کر ان کی منزل مقصود پر بھی بھائی پہنچایا کرتے تھے اس کے باوجود ہماری تربیت یہ تھی
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جاﺅ
دامن نچوڑ دیں تو فرشتہ وضو کریں
اس کی تمام تر ذمہ دار صرف اور صرف ہماری والدہ تھیں۔ انہوں نے اپنی تمما خواہشات اور تمام ارمانوں کو پورا کرنے کے لئے ہم تمام بہن بھائیوں کو تیار کیا۔ ہماری خود بھی یہ تمنا ہوتی تھی کہ کسی طرح اپنے والد اور والدہ کی خواہشات کو پورا کریں اور اپنے والد سے ٹوٹ کر محبت بھی کریں۔ میری ماں نے اپنے شریک زندگی کو عروج پر پہنچے ہوئے دیکھا اور اولاد کو بھی جنہیں دنیا کی تمام وہ آسائشیں میسر ہوئیں جن سے میری ماں محروم رہی۔ شریک زندگی نے تو اپنے عروج پر ہی ریٹائرمنٹ لے لی۔ ماں کے بعد اولاد نے اپنے عروج کو خود زوال بنالیا۔ میری ماں خوش نصیب تھی کہ اولاد کو عروج پر پہنچا کر رخصت ہوئی جب ہم سب بھائی بہنوں نے اپنے اپنے الگ گھر بسالئے تو اس نے بھی اپنا الگ گھر بسا لیا۔ جس روز اس نے ہم سے منہ موڑا تو ان کی اولاد ذہنی اور جسمانی طور پر دنیا کے مختلف گوشوں میں بسنے کے باوجود ان کے پاس موجود تھی۔
ہمارے ایک بھائی ٹیلی ویژن کے اہم اور اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ٹیلی ویژن کے گیٹ کا سرخ سفید پٹھان سفید باریش دیکھنے میں کسی آستانہ کا پیر۔ پہلی بار میں نے اس کو بھائی کے دفتر میں جو کسی دربار کا منظر دکھائی دیتا اس ہال نما کمرے میں بڑے بڑے اعلیٰ افسر اور اس وقت کے بڑے فنکاروں کے ہجوم میں بھائی کی میز کے قریب کرسی پر اس طرح بیٹھا دیکھا جیسے مریض ڈاکٹر کے پاس، وہ کہہ رہا تھا ”آپ نے کمر کے درد کے لئے جو گولی دیا اس سے ہمارا درد کم بلکہ ختم ہوگیا“ بھائی نے جھک کر میز سے دو گولی نکالی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی وہ دعا دیتا رخصت ہوگیا۔ والدہ کے انتقال والے دن وہ ہم سے گلے ملتے ہوئے کہہ رہا تھا ”آپ کا والدہ جنتی تھا، آپ کا والدہ جنتی تھا“ یہی بات جب ان کی برسی پر دہرائی تو میں نے تمسخرانہ انداز سے پوچھا کہ تم ہماری والدہ سے کبھی ملے نہیں پھر ایسی بات کیسے کہہ رہے ہو اس نے عالمانہ انداز میں جواب دیا ”نہ ہم نے آپ کا والدہ کو دیکھا نہ ان سے ملا ہم نے تو ان کی اولاد سے اندازہ لگایا کہ جس کی اولاد ایسا نیک ہو اس کی والدہ جنتی ہوگا۔ کیونکہ جنتی ماﺅں کے بچے ہی نیک ہوتے ہیں۔ اولاد میں بھی ماں باپ کی ایک ایک خصوصیت آئی۔ والد نیک انسا تھے اولاد بھی سراسر نیک۔ ماں اپنے شریک زندگی کی اطاعت گزار، وفادار، یہی خصوصیت اولاد نے مکمل اپنائی، اپنے اپنے شریک زندگی کی اطاعت گزار۔ ہماری ماں نے اپنے شریک زندگی کی نگاہوں کو ایک ان دیکھا دستور سمجھ کر اس کی ایک ایک شق پر من و عن عمل کیا، یہی ان کی اولاد اپنے شریک زندگی پر نثار ہو کر کیا۔ ہماری والدہ نے شریک زندگی اور اپنے بچوں کو اپنے سب رشتوں پر فوقیت دی ان اولاد نے بھی ہوبہو یہی کیا اور اپنے قریبی رشتوں کو بھی فراموش کردیا۔
میری ماں نے صبر و ایثار میں حضرت یعقوبؑ کے پیروی کی تو اولاد نے اولاد حضرت یعقوبؑ کی۔ میں یتیم تھا، مجھے اپنی یتمی کا احساس باپ کے مرنے کے بعد نہیں، ماں کی وفات پا جانے کے بعد ہوا۔ میری ماں نے مجھے یہ احساس ہی نہیں ہونے دیا کہ میرا باپ مر گیا ہے۔ میری ماں کے مرنے کے بعد میں یتیم بھی ہوگیا۔ یسیر بھی۔
اُجڑا، ٹوٹا، بکھرا پھر
آج ہوا ہوں تنہا پھر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں