80

ایک حکایت / ایک حقیقت (2)

وہ جو کہتے ہیں کہ بعض اوقات چور کو بھی مور لگ جاتے ہیں اسی طرح کا ہاتھ زرداری کے ساتھ بھی ہوا۔ حسین حقانی جو کہ آصف زرداری کے دوستوں میں گنا جاتا تھا اسے اس نے امریکہ میں سفیر بنا دیا۔ یہ بہت مکار اور ابن الوقت شخص جس نے پاکستان کی بنیادوں پر کاری ضرب لگائی اور افواج پاکستان کے خلاف امریکہ اور ہندوستان میں اپنی مکروہ کارروائیاں کیں اور زرداری کے یہودی لابسٹ کے ساتھ مل کر پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد بند کرانے کے لئے امریکہ میں لابی کی اور زرداری نے اسے اس مقصد کے لئے قومی خزانے سے بے حد سرمایہ فراہم کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس کی بیوی فرح ناز اصفہانی کو ایم این اے اور پیپلزپارٹی کا ترجمان بنایا جس کا دفتر ایوان صدر میں تھا اور اسے بے انتہا اختیارات حاصل تھے اور ایک طرح سے یہ امریکی شہری دراصل امریکہ کے مفادات کی دیکھ بھال اور حساس معلومات امریکہ کو فراہم کرتی تھی۔ دونوں میاں بیوی نے زرداری سے بہت مال حاصل کیا اور جب اس نے دیکھا کہ اب زرداری کا چل چلاﺅ ہے اور میمو گیٹ کے سلسلے میں اس کی گرفت ہونی والی ہے تو صاف نکل کر امریکہ جا کر بیٹھ گیا اور سپریم کورٹ کے متعدد بار طلب کرنے کے باوجود پاکستان نہیں آیا بلکہ ہندوستان جا کر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرتا رہا۔
زرداری کا ایک اور کارندہ جو زرداری کے احکامات کے تحت جس نے کراچی میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کئے رکھا تھا۔ لیاری میں اس کی بادشاہت تھی، جہاں سندھ کے وزیر اعلیٰ زرداری کی بہن المعروف پھولن دیوی، وزراءکرام اور پوری انتظامیہ اس کے گھر جا کر اس کی خوشنودی حاصل کرتی تھی۔ اس نے بھی اس بہتی گنگا میں خوب خوب غوطے لگائے۔ کراچی کے تاجروں کو اغواءکراکر کروڑ ہا روپیہ وصول کئے۔ بھٹے کے نیٹ ورک قائم کرکے صنعت کاروں اور تاجروں کا جینا حرام کردیا مگر جب زرداری نے دیکھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عزیر بلوچ کا باب بند کردیا جائے اور اسے حسب سابق اپنے رازداروں کی طرح ختم کردیا جائے اور عزیر بلوچ جو جیل میں تھا کو مروا دیا جائے تو کس ترکیب سے اس نے فوج سے رابطہ قائم کرکے زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا عندیہ دیا جس پر فوج نے اسے اپنی تحویل میں لے کر اسے بچالیا۔ جس کے بعد عزیر بلوچ زرداری اینڈ کمپنی کے ایک ایک سیاہ کرتوتوں کو بیان کردیا۔
آصف زرداری کی ہوس کی کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ 1983ءمیں پاکستان کے ممتاز ترین تاجر اور ہوٹل انڈسٹری کے بانی صدر الدین ہاشوانی کو رات کو ساڑھے گیارہ بجے ایک کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ ”سر ہوٹل کے ڈسکو میں جھگڑا ہو گیا ہے“ یہ کال میریٹ ہوٹل کے مینجر نے کی تھی، اس نے بتایا کہ دو افراد لڑ پڑے ہیں اور دونوں کے گروہ نے اسلحہ نکال لیا ہے جس سے ڈسکو میں فائرنگ ہو رہی ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ہوٹل میں بھگڈر مچ گئی ہے۔ صدر الدین ہاشوانی نے حکم دیا کہ سیکیورٹی سے کہہ کر دونوں گروہ کے افراد کو ہوٹل سے نکال باہر پھینک دیا جائے۔ دراصل یہ جھگڑا نواب اکبر بگٹی کے بیٹے سلیم بگٹی اور زرداری کے درمیان ہوا تھا۔ اس وقت اکبر بگٹی ایک بہت طاقتور شخصیت تھے اور کنگلا زرداری ابھی اپنے باپ کے سینما کے ٹکٹوں کی بلیک کرکے اپنا مستقبل بنانے میں مصروف تھا۔ نتیجتاً اس معاملے میں جیت اکبر بگٹی کے بیٹے سلیم بگٹی کی ہوئی اور زرداری کو سیکیورٹی والوں نے اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔ اس وقت ہاشوانی کو کیا معلوم تھا کہ یہی باہر اُٹھا کر باہر پھینکے جانا والا ”کنگلا“ ایک وقت میں بے نظیر کا شوہر بنے گا جو ملک کی وزیر اعظم بنے گی اور پھر پیپلزپارٹی کا شریک چیئرمین بنے گا اور پھر پاکستان کی بدقسمتی سے صدر بن جائے گا۔ خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ تو پھر ان لوگوں کی بدبختی شروع ہوئی جنہوں نے زرداری کی شیطانی اور خفیہ صلاحیتں نہیں پہنچانی تھیں۔ صدر الدین ہاشوانی بتاتے ہیں کہ زرداری نے ڈسکو سے باہر نکال کر پھینکے جانے کو فراموش نہیں کیا بلکہ اس کینہ پرور نے اسے اپنے دل میں محفوظ رکھا۔ جب اس کی بیوی بے نظیر وزیر اعظم بنی تو زرداری ہاشوانی اور ان جیسے دوسروں لوگوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ ہاشوانی کے بقول زرداری نے بیوی کے اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی اور اقتصادی طور پر خود کو طاقتور بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک روز ان کے پاس زرداری کا ٹیلی فون آیا کہ انہیں صدر الدین ہاشوانی کی زمین کی ضرورت ہے۔ ہاشوانی نے اسے پیشکش کی کہ وہ زمین کو اسی قیمت میں فروخت کر دیں گے جس پر انہوں نے خریدی تھی۔ (حالانکہ اس وقت اس زمین کی قیمت کئی گناہ بڑھ چکی تھی) مگر زرداری جب اس زمین کی ڈیل کرنے آیا تو اس نے اس زمین کو مفت میں حاصل کرنا چاہا لیکن ہاشوانی نے اس کی نیت بھانپ لی اور زمین کی وہی قیمت وصول کی جو انہوں نے بتائی تھی۔ ہاشوانی بتاتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی گاڑی کا تعاقب شروع کردیا گیا اور تعاقب کرنے والے مشتبہ افراد تھے جہاں وہ جاتے ایسے افراد ان کے گرد منڈلاتے رہتے، ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے اور متعدد بار وہ ان کے دفتر تک پہنچ جاتے۔ ایک بار ہاشوانی کو ان کے بینک مینجر نے ٹیلی فون کیا کہ آپ نے اپنے ہوٹل کے کاغذات ہمارے لاکر میں رکھے ہوئے ہیں برائے مہربانی ان کو وہاں سے نکوالیں کیونکہ کسی کی ان پر بُری نظر ہے۔ ایک دن ہاشوانی کے دفتر میں چار افراد آئے ان میں سے ایک نے دن میں بھی سیاہ چشمہ لگا رکھا تھا انہوں نے ایک تقریب کے لئے ان سے چندہ مانگا جو انہوں نے دیدیا جب وہ جانے لگے تو ہاشوانی نے اپنا ایک آدمی ان کے تعاقب میں روانہ کردیا اس نے آکر بتایا کہ وہ چشمے والا آدمی اپنے دونوں ساتھیوں کو بتا رہا تھا کہ ”یہی صدر الدین ہاشوانی ہے“۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس شخص کا نام بشیر قریشی تھا جو ایک انتہائی خطرناک جرائم پیشہ شخص تھا جب کہ دوسرا شخص لغاری تھا، اس کے بعد ہاشوانی بہت پریشان ہوگئے اور اپنے خاندان سمیت لندن جانے کے بارے میں سوچنے لگے جس صبح انہیں جانا تھا۔ علی الصبح ان کے پاس کور کمانڈر کراچی جنرل آصف نواز کا فون موصول ہوا، انہوں نے بتایا کہ آدھ گھنٹے بعد میرے پاس دفتر پہنچ جائیں اور معمول کا راستہ استعمال نہ کریں۔ کور کمانڈر کے دفتر میں انہیں بتایا گیا کہ ”صدر الدین ہاشوانی کو اغواءکرکے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس کے لئے دو بدنام ترین مجرموں بشیر قریشی اور لغاری کو جیل سے رہا کیا گیا ہے۔رہائی کے احکامات اسلام آباد سے موصول ہوئے ہیں، صدر الدین کو اغواءکیا جانا تھا اور کچھ کاغذات پر دستخط کراکر انہیں قتل کر دینا تھا۔ اسی شام ہاشوانی فوج کی سیکیورٹی میں ایئرپورٹ پہنچے اور خاندان سمیت بیرون ملک پرواز کر گئے۔
اس کینہ پرور شخص اور اس کی مجرمانہ ذہنیت اور سفاکی کی کہانیاں اتنی طویل ہیں کہ شیطان بھی اس سے پناہ مانگے۔ ہاشوانی کہتے ہیں کہ زرداری بیوی کے اقتدار اور اپنے دور صدارت میں بھی ان حرکات سے بعض نہیں آیا۔ 2008ءسے 2009ءکے دوران ان پر پانچ قاتلانہ حملے ہوئے۔ ایک دفعہ اسلام آباد میں ان کے گھر کو آگ لگا دی گئی، ایک دفعہ ہاشو گروپ کے دفتر کو نذرآتش کیا گیا۔ پشاور میں ان کے ہوٹل کو بم کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کو نشانہ بنایا جب کہ ایک ٹرک جس کے آگے آگے ایک کار چل رہی تھی ہوٹل کے دروازے کی طرف مڑ گیا اور اس کے آگے چلنے والی کار آگے نکل گئی۔ یہ میریٹ ہوٹل جو سپریم کورٹ کی عمارت، صدر اور وزیر اعظم کی رہائش گاہوں اور پارلیمنٹ ہاﺅس کے قریب واقع ہے، وہاں بارود سے بھرا ہوا ٹرک کیسے داخل ہوا؟ یہ ایک راز ہے، یہ ٹرک ہوٹل کے دروازے کے قریب دھماکے سے اڑ گیا اور عجیب بات یہ ہے کہ آگ ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل میں لگی۔ اس دہشت ناک آگ کے فوری بعد ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے ہاشوانی سے کہا کہ ”میڈیا کو بتایا جائے کہ صدر زرداری ہوٹل آنے والے تھے“ جو بالکل غلط بات تھی، مقصد بین الاقوامی میڈیا کو یہ بتانا تھا کہ بے نظیر کے بعد اب زرداری کی جان بھی خطرے میں ہے۔ اور اس واقعہ کے فوری بعد رحمان ملک (وزیر داخلہ اور زرداری کا پیٹی بھائی) نے بیان دے دیا کہ آگ بیت اللہ محسود نے لگوائی ہے۔ یہ داستان ہوشربا بہت طویل ہے اور اسٹیبلشمنٹ کیا اب بھی زرداری کو اقتدار میں لانے پر غور کرسکتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں