Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 157

کورا کاغذ

وہ صبح صبح ہڑبڑاہ کر اٹھ بیٹھتی ہے یہ اس کا روز کا معمول ہے بچّوں کے اسکول کےلئے ان کے کپڑے تیّار کرنا ان کو اٹھانا اور ان کے لئے اور شو ہر کے لئے ناشتہ تیّار کرنا اور اسے اپنے ناشتے کی کوئی فکر نہیں ہوتی جو آخر میں ہی ہوتا ہے بچّوں کو جلدی جلدی تیّار کرکے ان کو اسکول بھیجنا اس کے بات ساری چیزیں سمیٹنا پھر اگر سودا سلف لانا ہو تو باہر جاکر سبزی وغیرہ لانا گھر آکر کھانا بنانے میں لگ جانا اسی میں دوپہر ہوجاتی اور بچّوں کے آنے کا وقت ہوجاتا بچّوں کو کھانا وغیرہ کھلاکر برتن دھونا گھر کی صفائی کرنا کپڑے دھونا بچّوں کو ہوم ورک کرانا یہ لیجئے شام ہوگئی شوہر کے آنے کا وقت ہوگیا شوہر کے لئے چائے وغیرہ بنانا پھر رات کے کھانے کی تیّاری کرنا دن کا پتہ ہی نہیں چلتا اور رات ہوجاتی ہے اس پر شوہر کا کبھی کبھی یہ جملہ کہ تم کرتی کیا ہو سارا دن اسے کبھی کبھی چڑ چڑا بنادیتا ہے یہ ایک ایسے گھر کی کہانی ہے جو معاشی طور پر کمزور ہوتا ہے جہاں نوکرانی یا ماسی رکھنے کی استطاعت نہیں ہوتی۔دوسری طرف شوہر ہے صبح صبح اٹھتا ہے دفتر پہونچنے کی فکر بعض افراد کو بچّوں کو بھی اسکول چھوڑنا ہوتا ہے ناشتہ کرکے بھاگم بھاگ بس اسٹاپ اور بسوں ویگنوں میں دھکّے کھاتے ہوئے آفس پہونچنا باس کی جھڑکیاں کھانا سارا دن کام میں جتے رہنا بجلی گیس بچّوں کے اسکول گھر کا خرچ ان تمام ذمّہ داریوں کی سوچیں پریشان کر دیتی ہیں اس پر گھر آنے کے بعد بیوی کی کوئی جلی کٹی بات اور یہ کہنا کہ آپ تو سارا دن باہر ہوتے ہو سارا گھر تو مجھے سنبھالنا ہوتا ہے۔دونوں اپنی جگہ صحیح بھی ہیں اور اپنی اپنی جگہ غلط بھی ہیں کیونکہ دونوں پریشان ہوکر صرف اپنی تکلیف دیکھ رہے ہیں اور دوسرے کو پرسکون محسوس کررہے ہیں۔ آپس میں اس رشتے کو نبھانے میں دونوں کے خاندانی پس منظر کا بہت عمل دخل ہے۔انسان کی پیدائش کے بعد کے ادوار اس کی شخصیت کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ،معاشرے کا ہر فرد ایک علیحدہ سوچ اور ایک دوسرے سے مختلف مزاج رکھتا ہے اس دنیا میں جب بچّہ آنکھیں کھولتا ہے تو وہ ایک کورے کاغذ کی مانند ہوتا ہے اس کے گھر والے آس پاس کے لوگ اس کورے کاغذ پر تحریرلکھتے ہیں یہ تحریر جوانی تک اس کورے کاغذ پر لھین جاتی ہے یہ تحریر خوش نما ہے خوش خط ہے یا بدنما ٹیڑھی میڑھی ہے پوری زندگی کی اچھّائی برائی کا دارو مدار اسی تحریر پر ہے۔ لکھنے والوں میں گھر کے افراد کے علاوہ رشے دار اسکول کے ہم جماعت استاد قریبی دوست محلّے دار سب ہی شامل ہوتے ہیں ۔ اور ہر گزرتا ہوا لمحہ اس میں مثبت یا منفی دونوں تبدیلیاں پیدا کرتا رہتا ہے۔یہی تحریر ایک مضبوط کردار اچھّے اعمال اور معاشرے کو خوبصورتی عطا کرنے والے انسان کی تشکیل کرتی ہے یا پھر یہ تحریرایک خوبصورت معاشرے پر بدنما داغ بھی بن جاتی ہے ایک بدکردار اور غلط انسان بنادیتی ہے۔جوان ہونے کے بعد یہ تحریر اتنی پختہ ہوجاتی ہے کہ اس کو مٹانا یا اس پر کچھ اور لکھنا نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہوتا ہے۔سب سے گھمبیر مسئلہ شادی کے بعد کی زندگی کا ہے جب دو بالکل مختلف ماحول میں پرورش پانے والے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے رہنا پڑےاور یہ دونوں کے لئے ہی اذیّت کا باعث بنتا ہے ،ایک دوسرے کو سمجھنے میں بہت وقت لگتا ہے کورے کاغذ پر لگی ہوئی تحریر یہاں اہم کردار ادا کرتی ہے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو زندگی جہنّم اور اگر سمجھوتے والا رویّہ دونوں طرف سے اپنایا جائے خود اپنی غلطیوں کا جائزہ لے کر غلطی قبول کرلی جائے تو زندگی جنّت بن جاتی ہے۔
ہمارا معاشرہ عمو ماً تین طرح کے گھرانوں پر مشتمل ہے۔ایک گھر وہ ہوتا ہے جہاں گھر کا سربراہ مرد کو مان لیا جاتا ہے۔شوہر اور باپ کی حیثیت سے وہ گھر کے تمام فیصلوں پر حاوی ہوتا ہے ،گھر کا کوئی کام کوئی مسئلہ اس کی رائے اور مرضی کے بغیر زیر بحث نہیں لایا جاسکتا۔اس گھر کے لڑکے شادی کے بعد گھر پر حکم چلانا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں اور لڑکیاں گھر کے مرد کو حاکم ماننے کے لئے پہلے ہی سے ذہنی طور پر تیّار ہوتی ہیں۔ڈر ،خوف اور اعتماد کی کمی بعض اوقات خاموشی پر مجبور کردیتی ہے ۔دوسرا گھر وہ ہوتا ہے جہاں گھر کی حکمران عورت ہوتی ہے اس کی مرضی کے بغیر پتّہ بھی نہیں ہلتا۔شوہر بے چارے کا کام گھر چلانے کے لئے صرف پیسے لانا ہوتا ہے۔ اپنی اولاد کو بھی وہ کچھ نہیں کہہ سکتا یہ حق بھی بیوی چھین لیتی ہے۔بہت بڑا مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے ،جب ایسا لڑکا جس کے گھر کا سربراہ اس کا باپ تھا اس کی شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوتی ہے جس کے گھر میں ماں اس گھر کی حکمران تھی۔چونکہ ان دونوں کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی تھی تو لڑکا یہ چاہتا ہے کہ گھر پر اس کا حکم چلے اور لڑکی چاہتی ہے کہ کوئی کام اس کی مرضی کے بغیر نہ ہو۔ان دونوں میں سے کوئی بھی ہار ماننے کو تیّار نہیں ہوتا۔ساری زندگی کھٹ پٹ میں گزرتی ہے۔ تیسرا وہ مثالی گھرانہ جس میں میاں بیوی ہر کام آپس کی رضامندی سے کرتے ہیں اور کوئی اپنے آپ کو اکیلا گھر کا مالک نہیں سمجھتا۔ اس گھر کا خاندانی پس منطر کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ اس گھر کی لڑکی ایک ایسے گھرانے سے آتی ہے جہاں باپ اس گھر کا سربراہ تھا اور لڑکا ایسے گھر سے تعلّق رکھتا ہے جہاں ماں کی حکمرانی تھی لہذا دونوں ایک دوسرے کو ذہنی طور پر سربراہ مان لیتے ہیں۔لڑکی نے ساری زندگی باپ کو حکم چلاتے دیکھا اس لئے اس کے خیال میں یہ اس کے شوہر کا حق ہے اور یہی خیالات اس شوہر کے ہیں کہ ماں کی طرح ہر عورت گھر کی حکمران ہے یہ دونوں ہر معاملے میں ایک دوسرےکی رائے کا احترام کرتے ہیں دونوں کا یہ کہنا ہوتا ہے کہ جیسے آپ کی مرضی اس لئے تمام فیصلے دونوں کی مرضی سے ہی ہوتے ہیں لیکن یہ ہر مرتبہ نہیں ہوتا کہ جس لڑکی کے گھر میں باپ حکمران تھا تو وہ شوہر کو بھی حکمران مان لے کیونکہ گھر کے علاوہ اس نے اسکول کالج رشتے داروں اور دوستوں سے بھی بہت کچھ سیکھا ہوا ہوتا ہے جو اس کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہ سب بالکل اسی طرح ہوتا ہے مطلب یہ کہ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات حالات اس کے بالکل برعکس بھی ہوجا تے ہیں۔ وہ خواتین جو شادی کے بعد شوہر کی ہر بات پر گردن جھکادیتی ہیں ان میں سے بہت سی خواتین مجبوری میں ایسا کرتی ہیں ڈر اور خوف کی وجہ سے انہیں اپنے گھر کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اگر شوہر نے نکال دیا تو میکے میں بھی پناہ ملنا مشکل ہے ا ور اگر پناہ مل بھی گئی تو زندگی ایک عذاب ہی میں گزرے گی۔ہر گھر کا طریقہ جدا جدا ہوتا ہے۔ان عورتوں میں اتنی ہمّت بھی نہیں ہوتی کہ اکیلے یا چھوٹے بچّوں کے ساتھ زندگی گزار سکیں لہذا وہ شوہر کی ہر بات ہر ظلم چپ چاپ سہہ جاتی ہیں۔اور جب بچّے زرا بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کو ایک مضبوط سہارا مل جا تا ہے پھر ان کی گردن اٹھتی ہے تو یہ شیرنی بن جاتی ہیں اور شوہر بے چارے کو کوئی جائے پناہ نہیں ملتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں