115

جھوٹ، مکاری، اور قربانی

کہتے ہیں ایک جھوٹا مکار شخص پارساﺅں کا حلیہ بنا کر بادشاہ کے دربار میں آیا کہ میں عالی نسب ہوں اور حج کی سعادت سے واپس آرہا ہوں یہ کہہ کر اس نے بادشاہ کی شان میں ایک نہایت عمدہ قصیدہ پڑھا۔ بادشاہ قصیدہ سن کر اسے عالی نسب جان کر اور حاجی کا یقین کرکے بہت سا روپیہ سے نوازا لیکن کرنا خدا کا کیا ہوا اس مکار کے رخصت ہونے سے پہلے ایک اور درباری جو دور دراز سمندری سفر سے واپس آیا تھا اس نے اس شخص کو پہچان کر کہا کہ یہ ہر گز حاجی نہیں اس کا اعتبار نہ کیا جائے۔ حج کے دن تو اس کو بصرے کے بازار میں گھومتا ہوا پایا گیا تھا جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ عالی نسب ہونا تو دور کی بات یہ تو سرے سے غیر مسلم ہے اور جو اس نے قصیدہ پڑھا ہے وہ تو مشہور شاعر انوری کا لکھا ہوا ہے یہ حالات جان کر بادشاہ بہت غضب ناک ہوا اس نے حکم دیا کہ اس مکار سے تمام انعامات چھین کر اور ذلیل کرکے شہر سے باہر نکل دیا جائے۔ کہتے ہیں چور کی چوری اور جھوٹے کا جھوٹ ظاہر ہو جائے تو وہ ڈر جاتا ہے لیکن اس مکار شخص نے اپنے ہواس درست رکھے اور جلدی سے بولا کہ حضور مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے کہ میں نے جھوٹ بولا لیکن اب میں حضور کی خدمت میں ایک سچ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جس سے بڑھ کر کوئی بات سچ نہ ہوگی۔ بادشاہ نے اجازت دی تو اس مکار شخص نے کہا وہ سچی بات یہ ہے کہ جھوٹ سے خالی کوئی نہیں بلکہ جو جتنا بڑا جھوٹا اور جتنا تجربہ کار ہے وہ اتنا ہی بڑا جھوٹ بولتا ہے۔
میرے جھوٹ پر کس لئے ہے ملال
ملاوٹ سے خالی نہیں کوئی مال
اگر سچ کہوں جھوٹ کی ہے یہ بات
بڑے اس میں دیتے ہیں جھوٹوں کو مات
یہ سن کر بادشاہ ہنس پڑا اور کہا ”بے شک یہ بات درست ہے تو نے زندگی میں اس سے زیادہ سچی بات کبھی نہ کہی ہوگی“۔
یہ ایک موجودہ بگڑے ہوئے معاشرے کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے جو جب لوگ اخلاقی زوال کا شکار ہوں۔ تو بڑے بڑے لوگ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں بلکہ جو لوگ جتنے با اختیار اور زیادہ عقلمند ہوتے ہیں اتنا ہی بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔ جیسا کہ ہماری سیاست کا خاصہ ہے۔ جس طرح جنرل جیلانی کی حکومت میں نواز شریف کو نورجہاں کی سفارش پر وزیر بنایا گیا تھا اس ہی طرح بیگم ناہید اسکندر مرزا کی سفارش پر نصرت بھٹو نے نوجوان ذوالفقار علی بھٹو کو وزیر بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ تھی اقتدار کے زینے پر بھٹو کا پہلا قدم جس کا انجام آج کل حاکم علی زرداری کے وارث آصف علی زرداری ہے جس کو آج کل کی سیاست کا بادشاہ سمجھا جاتا ہے جس نے بھٹو کی پیپلزپارٹی پر آج کل اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ اس سیاست کے میدان میں قربانیاں ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے دی اس قربانی کا پھل بلاول علی زرداری اور بخت آور آصفہ کی صورت آصف زرداری کی جھولی میں آن گرا۔ آصف علی زرداری کی پیپلزپارٹی نے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جو کیا وہ کھلم کھلا کیا۔ آج کے شہری معاشرے کی ابتر حالت سب کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے اس دھکتے سمندر کی سطح پر فوج اور رینجرز نے جس طرح سے قابو پایا ہوا ہے وہ ایک خاص مدت تک دیرپا ثابت نہ ہو گا وہ ایک مستقل حل کی صورت کسی طرح قابل عمل نہیں رہ سکتا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے ذوالفقار علی بھٹو نے سندھی عوام کی خاطر قربانیاں دیں اس کا مقام آج سندھ کے عام لوگوں میں شاہ لطیف کے بعد سب سے زیادہ عزت کا مقام کا حامل ہے اس ہی طرح بے نظیر نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے جو خدمات پیش کیں اس کا ازالہ سندھی عوام نے ان کے نام پر چوروں لٹیروں کو ووٹ دیا مگر بھٹو کی پھانسی کے وقت ان کے لیڈر یا تو شادیاں رچا رہے تھے یا خومشی سے اپنے اپنے اوطاقوں میں دبکے بیٹھے تھے اس ہی طرح بے نظیر کے 27 دسمبر کے موقع پر جاں بحق ہونے پر اندرون سندھ معمولی لوٹ مار کے کوئی بڑا احتجاج سامنے نہیں آیا۔ جب کہ سندھ کے شہری علاقوں میں زیادہ بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات پیش آئے تو اس موقع پر آصف علی زرداری نے بے نظیر کے متنازع وصیت نامہ کا سہارا لے کر اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کی صدارتی کرنسی کا سودا کیا۔ اسی طرح گزشتہ گیارہ سالوں میں اندرون سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے ساتھ ساتھ بے نظیر کا خوبصورت مقبرہ اور آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں، وڈیروں کے عالی شان گھروں اور محلوں کے علاوہ ان کی جاگیروں پہ کام کرتے ہوئے چاروں کے حالات زندگی کو دیکھ کر موہنجودڑو کی تہذیب کے آثار بھی ان سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اگر اندرون سندھ کے رہنے والے سندھی باشندے بھٹو کی پھانسی کے وقت یا بے نظیر کے راولپنڈی میں جاں بحق ہونے پر اس ہی طرح اپنا خون بہا دیتے تو ان کی حالات میں شاید بہتری آجاتی۔ جس طرح 27 سالوں سے لندن سے بیٹھ کر اور اس سے پہلے الطاف حسین کی خاطر مہاجر عوام ووٹ کے ساتھ نوٹ دے رہے ہیں اور اس پر تقریباً بیس ہزار لوگوں کا خون کا نذرانہ پیش کرتے رہے اپنی تین نسلوں کی قربانی دے کر تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوتے جارہے ہیں۔ اگر یہ ہی قربانی سندھی زبان بولنے والوں نے بھٹو اور بے نظیر کی خاطر دی ہوئی تو شاید وہ بھی جدید تہذیب کی سہولتوں سے فیض یاب ہو رہے ہوتے لیکن ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی بیٹی کے نصیب میں ایسی قوم نہیں تھی جو کہ اپنے لیڈر کی خاطر اس کے حکم پر اپنی تین نسلوں کی قربانی کے ساتھ 20 ہزار نوجوانوں کی قربانیاں اور ووٹ کے ساتھ نوٹ جیسا کہ محتدہ کے قائد کے حکم پر سندھ کے شہری نوجوانوں نے زبردست قربانی پیش کی۔
سندھ کی تاریخ کے آخری دور کا مشاہدہ کیا جائے اور عوام کی حالت زار کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس پاکستان میں جن افراد نے اور طبقات نے اپنی قربانی جس مقصد کے لئے پیش کی ان کی قربانی ایک طرح سے ضائع ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سندھ اور پاکستان کے عوام کی خاطر اپنی جان کی قربانی، ضیاءالحق کی آمریت سے ٹکرا کر پیش کی۔ سندھ کے لوگوں کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہورہا ہے کہ ان کی قربانی ایک طرح سے ضائع ہو چکی ہے یہ صورت حال بے نظیر کی قربانی کو دیکھ کر محسوس ہوتی ہے۔ یعنی بھٹو اور اس کی بیٹی نے جن طبقات کی خاطر اپنی اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کیں ان کی حالت میں بہتری کے بجائے وقت کے ساتھ ساتھ ابتری ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان قربانیوں کا سندھ کے عوام کی حالت میں کسی قسم کی مثبت تبدیلی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہی۔ سوائے زرداری خاندان کی غیر معمولی انداز میں تیزی سے ملک کے امیر کبیر خاندانوں میں شمولیت کے۔ اس ہی طرح سندھ کے شہری علاقوں کے باشندوں کی گزشتہ تیس سالوں کی قربانیوں کے اثرات متحدہ سے تعلق رکھنے والے لیڈر کے زندگی جس تیزی سے غربت سے نکل کر اعلیٰ مقام کا حامل ہوا ہے اس سے بھی یہ ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ بالائی سندھ کے باشندوں کو ان کی تین نسلوں کی قربانی کا صلہ کیا ملا۔ انہوں نے متحدہ کی خاطر کس طرح اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا، کس طرح وقت آنے پر نوٹوں کی بوریاں کھول کر ان کو مکمل سپورٹ کیا۔ انتخابات میں ان کے رہنماﺅں کو کونوں کھدروں سے نکال کر اپنے نوٹ خرچ کرکے ان کو اتنے بھرپور انداز میں کامیاب کروایا اس سے ان کو کیا حاصل ہوا سوائے محرومیوں، مایوسیوں، غربت افلاس کے۔ یعنی قربانی دینے والے عوام بھی جن کا تعلق سندھ کے شہری علاقوں سے تھا اس طرح سندھ سے تعلق رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کا صلہ فریال تالپور اور آصف علی زرداری کی صورت ملا۔ یہ ہی ہے جھوٹ اور مکاری کا عملی مظاہرہ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں