66

”شیر“ پنجرے میں

ایک شخص جو ”سائیکل“ سے ترقی کرکے چوپایہ یعنی شیر بننے کی کوشش میں نہ دوپہیہ رہا اور نہ چوپایہ اور اس ملک کی بدقسمتی سے تین دفعہ وزیر اعظم بن کر بھی ”ہل من مزیز“ کی تکرار کرکے ”مجھے کیوں نکالا“ کے نعرے لگاتا رہا۔ عدالتوں میں اس کے خلاف جرم ثابت ہوئے، بیٹے اس سے دور ہوئے، بیٹی نے جیل میں وقت گزارا۔ بھائی خود بھی عدالتوں سے مجرم ثابت ہوا اور پھر جیل گیا۔ یہ شخص آج نشان عبرت بنا ہوا ہے اور معصوم چہرہ بنا کر کہنا ہے، ہنسا تو کیا ہمیں تو رونے بھی نہیں دیا جاتا۔ اس ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی یہ آدمی اقتدار کا بھوکا ہے۔ بے شمار دولت حاصل کرنے کے بعد بھی اس کی ہوس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ یہ جو خوشامدیوں میں گھرا ہوا اور خریدی ہوئی میڈیا کی باتوں میں آکر خود کو عقل کل اور یک سیاستدان سمجھنے لگا تھا جس نے اپنے ”سیاہ کارناموں“ کے ذریعہ اس ملک کو تباہی کے آخری کنارے پر لا کر کھڑا کردیا تھا۔ آج بھی خود کو ”بے گناہ“ سمجھتا ہے۔ اس نے اپنے دور اقتدار میں اس قدر قرضے حاصل کئے اور انہیں ان منصوبوں میں لگایا جس کے ذریعہ اس نے اربوں ڈالر غیر قانونی طور سے حاصل کئے اس کے سود کی مد میں ہی 113 ارب ڈالر اسے ادا کرنے تھے یہ اس کے دور کے آخری ماہ تھے جن میں ادائیگی کرنی تھی جب کہ اس کے دور کے چار سالوں میں پاکستان کا سالانہ خسارہ 20 ارب ڈالر سے بڑھ کر 32 ارب ڈالر ہوگیا تھا۔ تیل سے بجلی پیدا کرنے والی بجلی کمپنیوں کا 8 ارب ڈالر کا قرض چڑھ چکا تھا۔ اس طرح اس رقم کی کل مالیت 51 ارب ڈالر ہو چکی تھی جب کہ پاکستان کا کل بجٹ 50 ارب ڈالر کا تھا یعنی اگر اس سودوں اور قرضوں کی ادائیگی کی جاتی تو ملک میں اخراجات، تنخواہوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات کے لئے ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔ اس طرح لاکھوں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں کہاں سے دی جاتیں۔ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشنز کہاں سے ادا کی جاتیں۔ اس کے ساتھ ان جمہوریت کے نام نہادوں کے ذریعہ قومی منصوبوں کے خسارے کو کہاں سے پورا کیا جاتا جیسے پاکستان اسٹیل، ریلوے، پی آئی اے وغیرہ جنہیں اس نے اور پیپلزپارٹی نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا تھا۔
اس نا اہل وزیر اعظم کی بددیانتی اور لوٹ مار کے باعث ”میٹرو“ کا ہی سالانہ خسارہ 5 ارب روپیہ کہاں سے ادا کیا جاتا جب کہ صوبوں کو دی جانے والی رقم کے لئے بھی خزانے میں کچھ نہ تھا۔ اس سب سے بڑھ کر ان نام نہاد حکمرانوں کے باعث ایسا بھی لگتا تھا کہ ملک کی سرحدوں اور اندرون ملک خدمات انجام دینے والی مسلح افواج کی تنخواہیں اور جنگی سازو سامان کی خریداری کے لئے بھی رقم باقی نہیں تھی۔ حالات اس حد تک پہنچ گئے تھے ملک دیوالیہ قرار دیدیا جاتا۔ قرضے ملنے بند ہو جاتے، بجلی کمپنیاں بجلی بنانا بند کردتیں، جن کے باعث پوری قوم اندھیروں میں ڈوب جاتی اور صنعتیں مفلوج ہو کر رہ جاتیں اس جعفر و صادق غداروں کے نقش قدم پر چلنے والا وزیر اعظم ایسے انتظامات کررہا تھا جس سے ملک میں انتہائی بدحالی کو روکنے کے لئے روپیہ کی قیمت 20 سے 30 فیصد گرانی کی جاتی اس کا مظاہرہ نواز شریف نے جانے سے چند دن قبل ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قیمت اچانک گرا دی تھی جس کے باعث صرف ایک گھنٹے میں ملکی قرضوں میں 250 ارب کا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس سلسلے میں اگر لوگوں کی یادداشت میں ہو تو اس شخص کی پاکستان آمد سے قبل (اکثر تو یہ لندن میں ہی وقت گزارتا تھا) عبدالمالک اور حامد میر نے اس کی ایک خفیہ ٹیپ کے بارے میں احوال بیان کیا تھا جس میں نواز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ ”میں دیس واپس جا کر ”لیگل پراسس“ کو مختلف طریقوں سے ”فرسٹیٹ“ کروں گا جس سے چند ماہ بعد پاکستان کی معاشی حالت اتنی تباہ ہو جائے گی کہ لوگ مجھے یاد کریں گے کہ میرا دور تو بہت بہتر تھا، تب میں عوامی طاقت کو ”عدلیہ“ کے خلاف استعمال کروںگا“۔ اور اس نے بیوی کے علاج کے بہانے لندن میں قیام کے دوران پاکستان دشمن طاقتوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں اقتصادی دہشت گردی کا منصوبہ بنایا تھا جس میں ہندوستان گلے گلے اس کے ساتھ تھا جس طرح اس نے ماضی میں ہندوستانی صنعت کار جندال کے ساتھ مل کر پاکستان میں ہندوستانی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ وہ معاشی تباہی کا منصوبہ تھا کہ اس کے بعد اگر پاکستان کے پاس ہزاروں ایٹم بم بھی ہوں تو خود کو آپ نہیں بچا سکتے اس ملت فروش نے اپنے آخری چار سالہ دور میں سائنٹیفک طریقے سے پاکستان کا معاشی دیوالیہ نکال دیا تھا جس کے اثرات عمران خان کی حکومت میں اچانک سامنے آگئے۔ اس کے علاوہ اس شخص نے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو ناکام بنانے کا ناپاک کام کیا جس کی مثال اس کے دور حکومت میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا نہ ہونا ہے جس کے باعث دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں آج بھی موجود ہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے نام نہاد مذہبی و سیاسی ملا نواز شریف کے جھنڈے تلے پل رہے تھے جس کے سرخیل بدنام زمانہ ملا ڈیزل فضل الرحمن ہے جسے کشمیر کمیٹی جیسے حساس ادارے کا سربراہ بنا کر اسے وفاقی وزیر کا درجہ دیا گیا اور اس نے اس کے بھائی اور حالی موالیوں کے قومی خزانے سے کروڑہا روپیہ وصول کئے اس کی بیٹی مریم نواز اعلانیہ طور پر ان دیکھے دشمنوں (پاک فوج) کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے تھی جب کہ سیاسی مولویوں کی طرف سے آج تک فوج کی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں نکلا بلکہ خیبرپختونخواہ میں فوج نے جو خدمات سر انجام دیں اور سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دیں اس سلسلے میں بھی اس ملت فروشوں کے منہ سے کبھی خیر کا جملہ نہیں کہا گیا بلکہ ان کے ممدوح ہمیشہ ہی دہشت گرد ہی رہے جسے شاہد اللہ شاہد جو طالبان پاکستان سے تعلق ہے کا کہنا تھا کہ ”پاکستان کے خلاف اسرائیل کی مدد بھی لینی پڑی تو لیں گے“ اور یہ مذہب کے ٹھیکیدار اس کو صحیح مانتے ہیں۔ اس کے دور میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے پاک فوج کے سامنے کھڑے ہو کر ان کے خلاف نعرے لگائے جب کہ ایسے نعرے تو جنوبی وزیرستان میں بھی نہیں لگے اور ان غداران وطن کو مریم نواز شریف نے ”شیروں“ کے لقب سے یاد کیا۔ اسی طرح نواز شریف کی سوشل میڈیا ٹیم اور ملحدین کے گستاخانہ پیجز سے پاک فوج کے خلاف ایک جیسے نفرت انگیز مواد کی تشہیر کی جارہی تھی اور حسب معمول کچھ بکے ہوئے مولویوں کے ذریعہ بھی ان کی تال سے تال ملائی جارہی تھی، یہ کوشش کی گئی تھی پاکستان میں خانہ جنگی شروع کرائی جائے اور اس کے لئے معاشی و اقتصادی بدحالی کے ساتھ فوج کے خلاف نفرت پیدا کرکے حالات کو طوائف الملوکی کی طرف لائے جائیں اس کے ساتھ ملک دشمن مذہبی مولویوں کے ذریعہ مساجد کے ممبر استعمال کرکے سادہ لوح عوام کو سڑکوں پر نکالا جائے مگر جسے اللہ رکھے اسے کون جھکے۔ آج ملک بے شک متعدد مسائل میں گھرا ہوا ہے اور گزشتہ ادوار کے بھیانک منصوبے کے باعث عوام مشکلات کا شکار ہیں مگر قوم اب ان خانیوں کو سمجھ چکی ہے جو عنقریب کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں