86

”فلیش بیک“ ۔ (1)

ستر، اکہتر سال گزر جانے کے بعد بھی وہ سرزمین پاک جس کے متعلق دعوے کئے گئے تھے کہ یہاں صرف اور صرف ایسی ریاست قائم ہو گی جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گیں۔ جہاں فرشتوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ اور حوروں کے ہیلوے لہراتے نظر آئیں گے جہاں صرف سلامتی ہی سلامتی ہوگی، کوئی فرد نہ بھوکا سوئے گا نہ ہی بے چھت کے ہوگا۔ اور یہ کہ انصاف سب کے لئے ہوگا۔ جرائم؟ ارے صاحب اس ”ارض مقدس“ میں اس لفظ کا نام بھی نہیں سنا جائے گا بلکہ بردران اسلام ایک دوسرے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ ہوں گے۔ ایسے ہی خواب ان کورہ چشموں نے دیکھے یا انہیں دکھائی گئے۔ یہ قوم جس کی فطرت میں ہی خوش فہمیاں رچی بسی ہوئی ہیں یہ لوگ جو ایک ایسے ملک میں رہتے تھے جو ان کے اباﺅ اجداد نے فتح کیا تھا اور پھر اس میں ہزاروں سال حکمران بن کر ان پر راج کیا جو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ نہ ان کی رواج ان سے مماثلت رکھتے تھے نہ ان کے رسم و رواج، نہ بولی، نہ لباس، نہ غذا اور نہ ہی ان کے ”خدا“ مگر ان حکمرانوں نے اپنی دانشمندی، رواداری، اور تالیف قلوب سے ان کو اپنا گرویدہ بنا لیاں جہاں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جس کے باعث ہر فرد خود کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا سمجھتا تھا ان کے تہوار ایک ہو گئے، ان کی بولی ایک ہو گئی، مذہبی رواداری کے باعث ایک دوسرے کے لئے احترام کا جذبہ پیدا ہوا اور پھر صوفیاءکرام کی تعلیمات اور ان کے رویوں کے ذریعہ لوگوں نے ان کے پرکھوں کے مذہب ترک کرکے ان کا مذہب اختیار کرلیا جو کہ تلوار اور جبر اور طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ ان اعلیٰ اقدار اور انسانیت کے باعث تھا جو کہ ان صوفیاءکرام نے ان سے روا رکھی اور یہی وہ فضا تھی جو کہ صدیوں تک لوگوں کو متحد رکھے ہوئے تھی مگر آہستہ آہستہ ”ہر کمال رار زوال“ کے تحت حکمرانوں کی باہمی چپقلشوں اور ہوس اقتدار کے باعث یہ ملک بے نظیر افراتفری کا شکار ہو گیا اور پھر اس پر غیر ملکیوں نے قبضہ کرکے اس فضا کو مسمو کردیا جو کہ صدیوں سے پاک پاکیزہ تھی اب وہاں مذہبی منافرت نے لے لی۔ اس طرح یہ ملک اب امن کا گہوارہ نہیں بلکہ جنگ و جدال کا میدان بن گیا اور کسی میں ان حکمرانوں کی اولادوں نے محسوس کیا کہ ان کا اب یہاں رہنا ممکن نہیں ہے لہذا ایک الگ ملک کا نعرہ لگایا گیا اور ایک نئے خطے کے حصول کے لئے لاکھوں افراد اپنی جانوں سے گزر گئے اور لاکھوں افراد نے اپنے پرکھوں کے مکان، قبریں اور زمینیں ترک کرکے ایک ایسے خطے کی طرف ہجرت کر گئے جہاں ان کے ہم مذہب بستے تھے، یہ خوش فہم افراد اپنے مکانوں کو تالے لگا کر صدیوں سے ساتھ رہنے والوں سے منہ موڑ کر اس سرزمین کی طرف چلے آئے جہاں دودھ اور شہد کی نہریں ان کا انتظار کررہی تھیں۔ اس نقل مکانی کی راہ میں جس نے مزاحمت کی اور جس نے یہ سوچا کہ یہ ملک جہاں ہمارے اباﺅ اجداد نے حکمرانی کی ہے اور یہی ہماری جنم بھومی ہے لہذا ہمیں اسے ترک نہیں کرنا چاہئے تو ایسے افراد کے لئے اس زمن کو تنگ کردیا گیا ان پر رزق کے دروازے بند کر دیئے گئے ان کی زمینیں، جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور انہیں بتادیا گیا کہ جاﺅ اپنے اس دیس جاﺅ جس کے نعرے تم لگاتے رہتے تھے اس صف میں وہ سب آگئے جو کہ ہندوستان کو ہی اپنا وطن گردانتے تھے۔ وسیع القلبی رکھتے تھے اور اپنا مرنا جینا اس سرزمین سے ہی وابستہ کر رکھا تھا۔ مگر وہ قوم جو ہزاروں سال سے ان حکمرانوں کے زیر سایہ امن و سکون سے رہتی رہی تھی ایک دم ایسی بپھر گئی کہ وہ اب غلامی کی زنجیریں توڑ کر ان حکمرانوں کی اولادوں اور ہم مذہبوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔
روارداری اور محب کی جگہ کورہ چشمی اور بے مروتی نے لے لی اور پھر وہ جو کل تک نواب صاح±، سرکار، عالی جناب، صاحب اعلیٰ اور اعلیٰ اعلیٰ خطاب رکھتے تھے ایک دم ”مسلئے“ ہو گئے اور مذہب آڑے آگئے، لوگ بدل گئے، وقت بدل گیا گویا کہ سارا چمن جل کر خاک ہو گیا۔ تو پھر سب چلے ”کوہ ندا“ کی طرف کہ جہاں ”دودھ اور شہد“ کی نہریں؟؟؟
یہ بے خانماں و برباد لوگ کہ اس خطے میں ”مہاجرین“ کہلائے، نے ملک کی محب ترین مخلوق تھی جو ہندوستان سے آئی تھی، یہ اس نئے ملک کے ہر حصے اور خطے میں، ہر شہر، قصبے اور قریے میں پائی جاتی تھی اور ان کا ہیڈ کوارٹر ”کرانچی“ تھا۔ یہ جو کل تک میاں صاحب، مرزا صاحب، بیگ صاحب، خان صاحب، سید صاحب اور فلاں صاحب تھے یہ یہاں آکر ”پناہ گیر“ ہو گئے۔ یہ جس جنت کے تصور میں اس سرزمین میں آئے تھے تو یہاں آکر انہیں پتہ چلا کہ وہ کنویں سے نکل کر کھائی میں گر گئے، اپنے وطن سے ہندوﺅں نے نکالا تو یہاں آکر سندھی تھا، پنجابی تھا، بنگالی بھی بنگالی تھا، سب کچھ تھا مگر مسلمان کہیں بھی نہیں تھا اور یہ اعلیٰ دماغ اب ایک نے مخمصے میں پھنس گئے اب ان لوگوں نے ہر جگہ سے اپنا رخ ”کرانچی“ کی طرف موڑ دیا اور گویا ان کا ”کرانچی“ اور اصل میں کراچی اب ان کا گڑھ بن گیا۔ ان لوگوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ خود کو اس کا ماحال میں ڈھال لیا خصوصاً اتر پردیش کے باسی نے تو اس سرزمین میں جذب ہو کر اپنی بستیاں آباد کرلیں کہ ”کرینگے اہل نظر تازہ بستیاں آباد“
اس شہر کراچی میں آگرہ والے رہتے تھے، حیدرآباد دکن والے آباد تھے ایک طرف علی گڑھ والے ہیں تو دوسری طرف لکھنﺅ اور دلی والے، لوگوں نے ”حسرت تعمیر“ میں چھوٹے بڑے مکان تعمیر کئے۔ کالونیاں بنائیں، زیادہ تر لوگ ناظم آباد لارسن روڈ الٰہی بخش کالونی، جہانگیر روڈ، مارٹن کوارٹر کے سرکاری کوارٹرز میں ساری دنیا آباد کرلی۔ یہ خالص ٹھوس مسلمانوں کی متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی دنیا تھی اور گویا مہاجر سوسائٹی کی ریڑھ کی ہڈی ان کے مرد سرکاری ملازمتوں میں اپنی صلاحیتیں دکھا رہے تھے اور اس نوزائیدہ ملک کی تعمیر میں بنیادی کردار اد اکررہے تھے تو لڑکیاں اسکول اور کالجوں میں برقعہ پہن کر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ یہ بی بیاں جو کبھی گھروں سے بغیر پردے اور ڈولی کے قدم باہر نہیں نکالتیں تھیں اب بندر روڈ پر خریداریاں کررہی تھیں۔ ریڈیو پاکستان کے پروگراموں میں شرکت کررہی تھیں۔ ویمنز نیشنل گارڈز میں پریڈیں کررہی تھیں اور یہ طبقہ محض سات آٹھ سال میں کراچی میں یوں رچ بس گیا تھا گویا کہ برسوں سے یہیں تھا۔ یہ لوگ ”جنگ“ اور ”انجام“ اخبارات پڑھتے تھے کہ دلی والے تو ان سے روشناس تھے کہ دونوں اردو اخبارات دیس سے نکلتے تھے جب کہ انگریز داں طبقہ ”ڈان“ پڑھتا تھا کہ اس کی پیشانی پر لکھا تھ اکہ اسے بابائے قوم حضرت قائد اعظم نے جاری کیا ہے۔ یہ منقسم خاندان اب جو ذرا پیٹ میں مال پڑآ تو ان کے عزیزوں رشتہ داروں سے ملنے ہندوستان ویزا لے کر جاتے تھے جسے یہ ”گھر“ کہتے تھے یعنی ان کے آبائی شہر گھر تھے تو ملک ”پاکستان“ یہ دو رنگی ان کے مزاج میں رچ بس چکی تھی جو انہیں بہت برے دن دکھانے والی تھی۔ (جاری ہے)
نوٹ: (محترمہ قرة العین حیدر کی کتاب ”آگ کا دریا“ اس سلسلے کا ماخذ ہے جو کہ ”مہاجرین“ کی کیفیت، پاکستان کی کل کی صورتحال کی مکمل تصور ہے بلکہ یہ کالم ایک طرح کے فلیش بیک میں جس میں آپ کو آج کی صورت حال کی پوری فلم نظر آئے گی۔ اختر جعفری)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں