Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 149

قدریں

شکاگو میں کئی سال پہلے ہمارے ایک دوست نے ڈاﺅن ٹاﺅن کے قریب ایک پاکستانی ریسٹورنٹ کھولا۔ آس پاس بڑی بڑی آفس بلڈنگز تھیں اس ریسٹورنٹ میں پاکستانی لوگوں کے علاوہ تقریباً ہر کمیونٹی سے لوگ کھانا کھانے آتے تھے۔ جن میں انڈین بھی تھے اور امریکن بھی۔ یہاں کے وہ امریکن جن کو انڈین اور پاکستانی کھانوں کا شوق تھا، آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہو چکا تھا۔ انڈیا کے مسلم لوگوں کی اچھی خاصی تعداد تھی اور خاص طور پر وہ مسلم جن کا تعلق حیدرآباد انڈیا سے ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پاکستان کی نسبت حیدرآباد انڈیا سے تعلق رکھنے والے مسلمان تہذیب و آداب اور عبادات میں بہت بہتری ہیں۔ دین اسلام، سنت، معاشرتی اور خاندانی اقدار میں اب بھی ویسے ہیں جیسے پاکستان میں 35، 40 سال پہلے ہوتے تھے۔ بہرحال انڈیا کے یہ مسلمان اب بھی چاول ہاتھ سے کھانا پسند کرتے ہیں اس کی ایک وجہ تو سنت رسول ہے اور دوسری وجہ کھانے کا اصلہ ذائقہ ہے جو ہاتھ سے کھانے میں ہی آتا ہے۔ اور یہ ذائقہ چمچ سے کھانے میں کسی طور نہیں آتا لیکن پاکستانی شاذ و نادار ہی ہاتھ سے کھانا پسند کرتے ہیں ورنہ وہ اسے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ خاص طور پر یورپ اور امریکہ میں مقیم پاکستانی اپنی تہذیب، ثقافت، طور طریقوں پر عمل کرتے ہوئے شرمندہ ہوتے ہیں مثلاً یہی کہ ریسٹورنٹ میں ہاتھ سے کھانا، شلوار قمیض پہن کر یا اسلامی ٹوپی یا پگڑی پہن کر باہر جانا، داڑھی رکھنا۔۔ ان کا خیال ہے کہ امریکن یا یورپین ان کو دیکھ کر مذاق اڑائیں گے یا برا محسوس کریں گے لیکن یہ صرف ہم لوگوں کی بھول ہے ایسا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
تو بات ہو رہی تھی ہمارے اس دوست کے ریسٹورنٹ کی وہاں جو امریکن آتے تھے انہوں نے اس بات کو محسوس کیا کہ چمچے کانٹے ہوتے ہوئے بھی ایک بڑی تعداد ہاتھ سے چاول کیوں کھاتی ہے، ضرور اس کی کوئی خاص وجہ ہے، تجسس نے انہیں لوگوں سے پوچھنے پر مجبور کردیا۔ امریکن جب بھی کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں جو ان کی سمجھ میں نہیں آتی وہ بے دھڑک پوچھ لیتے ہیں لہذا ان کو مسلمان لوگوں نے بتایا کہ ایک تو اس کی مذہبی وجہ ہے کہ یہ سنت ہے اور دوسری وجہ ہاتھ سے کھانا صحت کے لئے زیادہ مفید ہے اس کے علاوہ کھانے کا اصل ذائقہ ہاتھ سے ہی کھانے میں محسوس ہوتا ہے۔ یہ سن کر وہ حیران رہ گئے اور انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم بھی تجربہ کریں گے۔ آہستہ آہستہ دو سے چار چار سے چھ آپ یقین کریں کچھ ہی دنوں میں وہاں آنے والے تقریباً تمام ہی امریکن ہاتھ سے چاول کھاتے تھے اور اس بات کا اقرار بھی کیا کہ جو مزہ اتھ سے کھانے میں ہے وہ چمچ سے کھانے میں نہیں ہے۔
میرے نبی کی ہر بات ہر سنت میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہے اسی طرح کئی امریکن لوگوں نے شلوار قمیض کو بہت پسند کیا اور اپنے پاکستانی دوستوں سے فرمائش کرکے شلوار قمیض منگوائیں۔ امریکن خواتین بھی پاکستانی خواتین کا لباس پہنے نظر آتی ہیں لیکن دوسری طرف ہم اسے شرمندگی یا برا سمجھ کر چھوڑتے چلے جارہے ہیں۔ ہر ملک ہر قوم کا ایک خاص لباس ہے، ثقافت ہے اور وہ ایک دوسرے کے لباس اور ثقافت میں دلچسپی لیتے ہیں، پسند کرتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ مسلمان جو تمام دوسرے مذاہب کی قوموں میں سب سے آگے تھے، تعلیم یافتہ تھے، موجد تھے، تہذیب و تمدن اور ترقی میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا اور دوسرے مذاہب کے لوگ مسلمانوں کے پاس تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ آج وہی قوموں کو دیکھ کر مسلمانوں کی حالت زار پر افسوس ہوتا ہے کہ یہ مسلمان سب سے پیچھے کیوں رہ گئے، ہر بات، ہر چیز کے لئے مغرب کے کیوں محتاج ہوگئے، کچھ اسلامی ممالک کے پاس دولت ہوتے ہوئے بھی عقل و شعور سے بیگانہ نظر آتے ہیں۔ دراصل مسلمانوں کی کامیابی کا راز غیر مسلموں نے جان لیا تھا۔ انہوں نے کافی تحقیق، غور و فکر کے بعد کامیابی کی اصل وجہ دریافت کرلی تھی۔ انہوں نے قرآن شریف کا مطالعہ کیا اور پھر اس پر عمل کرنے والوں کا بغور جائزہ لیا اور وہ تمام اچھی باتیں جو ایک کامیاب زندگی گزارنے جو اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ اور جو خود ان کی ذات اور ملک کے لئے فائدہ مند تھیں ان پر عمل کرنا شروع کردیا۔ ان کو اپنانا شروع کردیا گو کہ وہ مسلمان تو نہ ہوئے لیکن مسلمانوں کی کامیابی کی کنجی کو استعمال کرنا شروع کردیا۔ دوسری طرف مسلمانوں کو غیر مسلموں کی چکا چوند اور عیاشیوں اور ان کے ناچ گانے میں چاشنی نظر آتی اور انہوں نے اپنی قدروں کو بھلا کر ان کی تمام برائیوں کو گلے لگانا شروع کردیا۔ اور اسے فخر کی علامت سمجھنے لگے۔ آج یہ عالم ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس دولت ہے، کوئی بڑا عمدہ ہے یا وزیر ہے تو ان کی ایک بڑی تعداد کو یہ گمان ہے کہ یہ تمام دولت یہ امارت بالکل بے کار ہے اگر مغرب کی ترقی یافتہ قوموں کی حرکتیں نہ کی جائیں اور ان کا اسٹائل نہ اپنایا جائے۔ جب کہ جسے وہ مغرب کے لوگوں کا اسٹائل اور طریقہءزندگی سمجھتے ہیں وہ ایسا ہے ہی نہیں جیسا ان کے گمان میں ہے۔ وہاں ہر چیز کی ایک حد قائم ہے جب کہ ہمارے مسلمانوں میں حد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں اکثر جب پاکستان گیا تو ہمارے کچھ دوست ایسے ہی تھے جن کو یہ فکر تھی کہ یہ مغرب سے آیا ہے اس لئے اس کے لئے شراب وغیرہ کا انتظام کیا جائے اور جب ان کو یہ معلوم ہوا کہ ہم ان تمام برائیوں سے آج بھی دور ہیں تو بڑے حیران ہوئے کہ امریکہ میں رہنے کا کیا فائدہ ہے۔ دولت مند یا اعلیٰ عہدے دار بددیانت ہونے کی وجہ سے ان کا شمار بھی امراءمیں ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ غیر قانونی دولت ہوتی ہے تو یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ شراب نہ پیئیں، جوا نہ کھیلیں اور دوسری عیاشیاں نہ کریں تو وہ مغربی تہذیب کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے۔ لیکن ایسا بھی ہے کہ ان تمام شعبوں سے تعلق رکھنے کے باوجود بے انتہا دولت ہونے کے باوجود بھی کچھ لوگ ایسے ہی معاشرے میں موجود ہیں جو ان تمام برائیوں سے دور ہیں اور دین پر قائم ہیں۔ کسی عیاشی میں متبلا نہیں ہیں لیکن ایسے لوگوں کو امراءکی اکثریت عجیب عجیب نام دیتی ہے۔ بے وقوف ہے، گدھا ہے، کنجوس ہے، بھلا اتنی دولت ہوتے ہوئے بھی آدمی عیاشی نہ کرے۔ کیا فائدہ ایسی دولت کا۔ اس طرح کے فقرے عام عام سننے کو ملتے ہیں۔ اور ایسے شخص کو جگہ جگہ شرمندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ مستقل مزاجی سے اپنے اصولوں پر ڈٹا رہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی ملک کا ہے مسلمان ہے، دولت ہے، عہدہ ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ عیاشی اس کا حق ہے تو وہ صرف انفرادی طور پر مطمئن ہے اس کی دولت سے نہ انسانیت کو اور نہ ہی مذہب کو کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے اسے فکر نہیں ہے کہ اس کے غریب ہم وطنوں کا کیا حال ہے۔ اسے آنے والے وقتوں اور خود اپنی نسل کی بھی فکر نہیں ہے اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک میں غربت، مہنگائی، بھوک بڑھنے کے کیا عوامل ہیں۔ وہ صرف اپنی چار دیواری میں قید ہے اور مدہوش ہے۔ اس کے ملک کا اس کی اولادوں اور نسل کا کیا حشر ہوگا اسے کوئی فکر نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تباہی اور غیر مسلموں کے آگے ہاتھ جوڑنے اور ہاتھ پھیلانے کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی دعا کا پاس رکھتے ہوئے اللہ نے مسلمانوں کی سرزمین کو دولت اور وسائل سے مالا مال کردیا لیکن اتنی دولت ہونے کے باوجود عیاشیوں کے باعث غیر مسلموں کے ہاتھوں ذلت ہی مل رہی ہے اور ان کی دولت کا فائدہ غیر مسلم اُٹھا رہے ہیں۔ یہی حال ہمارے ملک ہے، کاروباری دولت مند، نئے دولتیے، وزراءسب آپے سے باہر ہیں۔ 48 سال کا بے پناہ گند صاف کرنے کی کوشش تو کی جارہی ہے۔ اُمید ہے اگر قوم نے عقل و شعور سے کام لیا تو ان شاءاللہ یہ گند صاف ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں