Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 232

آزاد غلام

دنیا میں غلامی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ غلامی دو طرح کی ہوا کرتی تھی۔ جسمانی اور ذہنی۔ گو کہ جسمانی غلامی اب بہت کم رہ گئی ہے اور جہاں ہے وہاں چھپ کر خوفزدہ کرکے یا مجبوری کی شکل میں موجود ہے لیکن ذہنی گلامی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ ذہنی غلامی ایک احساس ہے جو نسل در نسل چلا آرہا ہے۔اس غلامی میں کچھ بھی نہیں ملتا لیکن بعض لوگ اسے عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ ذہنی غلامی والے یہ کردار انڈیا اور پاکستان میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی غلامی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آج کا پاکستان اور دوسرے کئی علاقے ہندوستان میں شامل تھے۔ ہندوستان میں مسلمان حملہ آوروں کی آمد سے صدیوں پہلے سے یہ سلسلہ چل رہا تھا۔ مسلمان بادشاہوں کے عدل و انصاف اور عوام کی فلاح و بہبود کی داستانیں تو بہت ہیں لیکن تاریخ کا یہ بدصورت ورق بھی سامنے ہے کہ تخت کے لئے خونی رشتوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا یا پابند سلاسل کردیا گیا۔ غلامی کا ایک دور وہ بھی تھا جب غلام بازاروں میں بِکا کرتے تھے۔ دنیا کے ایک بڑے حصے نے ذہنی اور جسمانی دونوں غلامی سے نجات پالی لیکن ابھی بھی کچھ ممالک ایسے ہیں جو مکمل آزاد ہو جانے کے باوجود وہاں کی اکثریت ذہنی غلامی سے نجات حاصل نہ کرسکی۔ جس میں ہندوستان اور پاکستان بھی شامل ہے۔ ہندوستان پر انگریزوں کا ناجائز قبضہ پاکستان بننے تک سوسال رہا۔ ہندوستان کی عوام نے انگریزوں کو ذہنی طور پر آقا تسلیم کرلیا تھا۔ آخری مغل بادشاہ کی نا اہلی اور عیاشیوں کی وجہ سے اور عوام کے گوری چمڑی سے مرعوب ہونے کی وجہ سے ہی انگریز ہندوستان پر قابض ہوا۔ انگریز تجارت کے واسطے ہندوستان میں داخل ہوا لیکن ہندوستانیوں نے اسے آقا سمجھنا تسلیم کرلیا اسی وجہ سے وہ ان پر حاوی ہوگیا۔ ہندوستان میں جو بھی قوم تھی یہ وہی تھے جو انگریز کے دور میں اپنے آپ کو غلام ہی تصور کرتے تھے۔ یہ وہ نسل تھی جو نہ صرف انگریز کی غلام تھی بلکہ انگریزوں کے وفادار کالے انگریز ہندوستانی نوابوں، جاگیرداروں اور مسلمانوں سے غداری اور انگریزوں سے وفاداری کرکے مال و دولت، جاگیریں حاصل کرنے والے چور اُچکوں کی غلامی میں بھی چلی گئی تھیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہندوستان اور پاکستان دونوں میں موجود تھے۔ اس زمانے میں ان نوابوں اور جاگیرداروں کے ظلم کی داستان اگر کوئی سچا م¶رخ بیان کرے تو لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔
بہرحال جس وقت انڈیا اور پاکستان بن جانے کا اعلان ہوا تو دونوں طرف کے عوام کو یہ خوشی ہوئی کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات ملی اور اب وہ اپنے ہم مذہب لوگوں کے غلام بننے جارہے ہیں۔ وہ آزادی کے مطلب سے نابلد تھے اور ذہنی غلامی کی موت نہیں چاہتے تھے۔ انہیں احساس تک نہیں تھا کہ کبھی غلامی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ جو ہوشیار لوگ تھے جنہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر بہت کچھ سیکھا تھا جو اپنے سادہ لوگوں کی فطرت سے واقف تھے چونکہ ان ہی لوگوں کو انگریزوں نے عوام کے پیروں میں ڈالنے کے لئے بیڑیاں دی تھیں اور خزانوں کی چابیاں دی تھیں، وہ جانتے تھے کہ آزادی کا مطلب کیا ہے لیکن اس کا اصل مفہوم عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے انہوں نے یہی تاثر دیا کہ آزادی صرف اس حد تک ہے کہ آزادی سے اپنی عبادتیں کرو، لاﺅڈ اسپیکر لگا کر اذان دو اور بقر عید میں گھر کے سامنے گائے ذبح کرو اور اپنے تہوار مناﺅ لیکن انگریز کی غلامی سے نکل کر یہ مت سوچو کہ آزادی مل گئی کیوں کہ اب ہماری غلامی میں آچکے ہو اور لوگوں نے خوشی خوشی اسے قبول کیا اور آج تک یہ مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں کہ جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کے ہاتھ پاﺅں چومے جارہے ہیں اور اُلٹے قدموں جارہے ہیں کہ پیٹھ نہ ہو جائے اور بھٹو آج بھی زندہ ہے، اس سے بڑی ذہنی غلامی کی مثال اور کیا ہوگی۔ اسی طرح شہری علاقوں میں ہو رہا ہے، اسی طرح حد ہے کہ دیار غیر میں بھی ہمارے لوگوں کا یہی حالت ہے جب کوئی وزیر، ایم این اے، جاگیردار، وڈیرہ جب غیر ملک جاتا ہے تو وہاں کے رہنے والے پاکستانی ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے ابھی اس کے پیر چاٹنے لگیں گے۔ یہ مناظر ہم نے شکاگو میں بھی دیکھے ہیں۔ بہرحال ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے لوگوں نے آزادی کبھی بھی حاصل نہیں کی جو آزادی کے متوالے تھے، تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے جان باز جنہوں نے خوف کے نذرانے دیئے وہ تو گزر گئے اور جو باقی بچے تھے ان کو دھکے دے کر پیچھے کردیا گیا یا قتل کردیا گیا۔ انڈیا کا ندراگاندھی تک کا دور ایسا تھا کہ جب لوگ باہر کی اشیا استعمال نہیں کرسکتے تھے، باہر سے کوئی چیز لانے کی اجازت نہیں تھی اور جو چیز لا سکتے تھے اس پر چار گنا ٹیکس تھا جو ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ جاپانی گاڑیاں کیا ہوتی ہیں، لوگ اس سے نابلد تھے، صرف چند خاندانوں کے مزے تھے۔ لیکن انڈیا کے لوگ آہستہ آہستہ اس ذہنی غلامی سے آزاد ہوتے گئے لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت ابھی تک اسی کے زیر اثر ہے اور وہ کسی طور اپنے گلے سے یہ طوق اتارنے کو تیار نہیں ہیں۔ ہندوستان میں اب کوئی صدر یا وزیر اعظم کا بیٹا یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ ملک اس کے باپ کا ہوگیا ہے، نہ ہی عوام یہ تصور کرتے ہیں کہ اب ہم ہمیشہ کے لئے ان کے غلام ہوگئے ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد دس سال کا عرصہ حکومت کی چھینا جھپٹی، رسہ کشی، سازشوں، کرسیوں کی تبدیلیوں اور ایک دوسرے کو دھکا دے کر آگے بڑھنے، وسائل پر قبضہ کرنے اور پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر بنانے میں لگ گیا۔ ملک کی تمام دولت پر چند خاندانوں کا قبضہ ہوگیا۔ اس کے بعد کے دس سال ایوب خان کی فوجی آمریت میں گزر گئے۔ اس کے بعد یحییٰ خان اور پھر ایک حصہ الگ ہونے کے بعد عوام نے لفظ جمہوریت سنا جو ان کے لئے بالکل ہی نیا لفظ تھا کیوں کہ ان کی پچھلی کئی نسلوں کو اور خود ان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ کیوں کہ ہندوستان پر بادشاہت کا دور اس کے بعد سو سال انگریزوں کی غلامی رہے تو جمہوریت تو اس خطے کے کسی باشندے کو آج تک میسر ہی نہیں ہوئی تھی۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جمہوریت میں ان کے حقوق کیا ہیں۔ بھٹو نے ان کی سادگی سے فائدہ اُٹھایا۔ جمہوریت کا رنگین خواب دکھا کر کرسی پر غیر قانونی قبضہ کیا، عوام صرف اتنا جانتے تھے کہ ہم پہلے بھی جاگیرداروں، وڈیروں کے غلام تھے اور اب بھی ہیں۔ بھٹو کے دور میں ممتاز بھٹو، جام صادق اور دوسرے وزراءنے خوب لوٹ مار کی اور کرپشن کو مزید ہوا دی۔ بھولی بھالی عوام آج بھی بھٹو کے جعلی جانشین زرداری اور بلاول کے پیر چوم رہی ہے اور بھٹو بھی ابھی تک زندہ ہے۔ روٹی، کپڑا، مکان کا وعدہ آج بھی زندہ ہے۔ گویا حکومت وقت اگر روٹی کپڑا مکان مہیا کرے گی تو عوام پر احسان ہوگا۔ بہرحال اس وقت سے آج تک یہی ہوتا رہا اور قوم ان جیسے لٹیروں کی دولت میں اضافہ ہی کرتی رہی۔ جب غلام نما عوام یہ اس بات کو قبول کرلیں کہ یہ ملک ان ہی جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کا ہے اور ان کو لوٹ مار کا حق ہے اور ہمارا کام ان کے پیر چھونا ہے تو پھر کچھ نہیں ہوسکتا۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں جب کوئی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے اور اس پارٹی میں سے کوئی شخص وزیر اعظم یا صدر بنتا ہے تو وہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ایک کنارے ہو جاتا ہے۔ نوکری کرتا ہے یا کوئی کاروبار یا پھر پنشن پر گزارا کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کی مدد بھی کرتا ہے جو اس کے بعد اقتدار میں آتا ہے اس کو مشورے بھی دیتا ہے اور ملک کی سلامتی کے لئے اس کے ساتھ تعاون کرتا ہے لیکن ہمارے ملک میں جب کوئی پارٹی کا سربراہ وزیر اعظم یا صدر بنتا ہے تو اس کا پورا خاندان یہ فرض کر لیتا ہے کہ اب یہ ملک اس کے باپ کی جاگیر بن گیا ہے اس ملک پر حکومت کا حق صرف اور صرف اس خاندان کو ہے اور جب ان سے حکومت چھین لی جائے تو مظلومیت کی تصویر بن کر چوراہے پر بیٹھ جاتے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوگیا ہے۔ ان کی جائیداد (کیونکہ ملک پھر ان کی جائیداد میں شامل ہو جاتا ہے) پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ ان کی جائیداد چھڑوائی جائے اور عوام میں سے جو گدھے ہوتے ہیں وہ ان کی حمایت میں باہر نکل آتے ہیں۔ دراصل عوام کی اکثریت بھی ذہنی غلامی سے نکلی نہیں ہے انہوں نے تصور کرلیا ہے کہ اس ملک پر ان لوگوں کا ہی حق ہے عوام جب ان کو ووٹ دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے عوام کی طرف سے یہ ملک تمہارے باپ کا ہوگیا ہے اور ہم تمہارے اور تمہاری نسلوں کے غلام ہیں، بھٹو کو جب وزیر اعظم بنایا گیا تو کیا یہ ملک ان کے خاندان کو جاگیر کے طور پر عطا کردیا گیا تھا۔ کون سا قانون ہے کہ اس کے بعد بے نظیر پھر اس کا شوہر اور پھر اس کے نواسے کی جاگیر ہوگیا۔ یا نواز شریف کے بعد مریم نواز، حمزہ شہباز، شہباز شریف ہی کو حکومت ملے؟ کیوں گدھوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ پاکستان پر موروثی حکمرانی ہی چلے گی۔ یہ ملک کسی کے باپ کا نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں