30

کنجر اور مراثی

جنید جمشید اپنے دور کا مقبول ترین پسندیدہ اور لوگوں کے دل و دماغ میں بسنے والا ہر دل عزیز گلوکار تھا۔ اس کا ایک ایک گیت لوگوں کے دل کی دھڑکن کی آواز سمجھا جاتا تھا ہر ایک نوجوان اس کو اپنا آئیڈیل بنا کر اپنے لئے ایک ماڈل کا درجہ دیتا تھا یعنی دولت، عزت، شہرت اس کے قدم چومتی تھی۔ پھر کیا ہوا کہ اس نے یکایک موسیقی کو خیرباد کہا اور ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جو اس کے موجودہ گلیمر کی دنیا سے بالکل ایک سو اسی ڈگری مختلف تھا اس کو نہیں معلوم تھا کہ گلیمر کی دنیا کو اور اپنے لاتعداد مداحوں کو چھوڑ کر جس راستے کو اپنا رہا ہے اس راستے پر کس انجام کا سامنا کرنا پڑے گا اس نے گلیمر کی دنیا کو باقاعدہ سوچ سمجھ کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جس راستے کا اس نے ارادہ کیا وہ راستہ شاید اس کے نصیب میں تھا مگر اس کی اس کو خبر نہیں تھی اس نے یہ گلیمر کی دنیا کیوں چھوڑی اس کا جائزہ لینے کے لئے اب شہزاد رائے سے رجوع کرنا ہوگا۔
کچھ عرصہ پہلے گلوکار شہزاد رائے اپنے بارے میں بڑے فخر سے کہہ رہا تھا کہ کنسرٹ میں ہم جیسے لوگوں کو سننے والے لاکھوں لوگ آتے ہیں، ہزاروں نگاہوں کا ہمیشہ مرکز ہم ہی ہوتے ہیں، نئی البم آئے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے، پبلک میں جب گاتے ہیں تو دنیا ہمارے ساتھ جھوم جھوم کر گاتی ہے، ہمارے گیت لوگوں کے لبوں پر ہمیشہ کے لئے رہ جاتے ہیں مگر پھر اس مقبول ترین موسیقی کے فنکار نے افسردہ دکھ بھرے لہجہ میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر وہ بات کہی جو اس سے پہلے جنید جمشید نے محسوس کرکے اپنے گلیمر کی دنیا کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ شہزاد رائے نے بتایا کہ لوگ تمام تر پسندیدگی کے باوجود ہماری دل سے عزت نہیں کرتے۔ اس کی وجہ شہزاد رائے کا وہ سچا واقعہ ہے۔ پنجاب کے ایک بڑے زمیدار کے بیٹے کی شادی کے ایک فنکشن میں ہم سب فنکاروں کو مدعو کیا گیا ان کو منہ مانگا معاوضہ دیا جارہا تھا سب کو پیسہ اتنا بھرپور مل رہا تھا، پورا طائفہ چوہدری صاحب کے گھر خوشی خوشی پہنچ گیا۔ چوہدری صاحب بہ نفس نفیس ہمارے استقبال کے لئے آئے۔ ان کی عالی شان قلعہ نما حویلی کی بالائی منزل پر ہمارے قیام کا اس قدر اعلیٰ انتظام کیا کہ ایسا کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں بھی نہ ہوگا۔ رات فنگشن پر بہت بڑی بڑی سماجی سیاسی شخصیات کے ساتھ بڑے بڑے سیٹھ، سرمایہ دار، بیوروکریٹ کے سامنے پرفارم کرکے ہمیں اپنی عزت اور احترام کا مزید احساس اجاگر ہوا۔ زمیندار کے کارندوں نے بھی ہماری آﺅ بھگت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، رات گئے فنگشن ختم ہونے کے بعد ہم اپنی نظروں میں پہلے سے کہیں زیادہ قد آور ہو چکے تھے۔ صبح میری آنکھ جلد کھل گئی، میں کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر باہر کے دل فریب منظر کا نظارہ کرتا رہا۔ گاﺅں والے تو صبح سحر اٹھنے کے عادی تھے۔ باہر بہت سے لوگ رات کے فنگشن کا سامان سمینٹنے میں مصروف تھے۔ میں انہیں دیکھ رہا تھا کہ دوسری طرف سے چوہدری صاحب ہاتھ میں اسٹک تھامے واک کرتے ہوئے نظر آئے۔ میں اس منظر سے محظوظ ہو رہا تھا کہ چوہدری صاحب کی آواز سنائی دی۔ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ”اوئے منشی، کنجراں واسطے چائے ناشتے دا انتظام تو ٹھیک ہو گیا ہے نا“۔ اور پھر چوہدری صاحب جو ہم کنجروں کے لئے کافی فکرمند تھے انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے فرمایا۔ ”ہاں بھئی، اے کنجر ہمارے مہمان ہیں اور میرے پتر کی شادی پر آتے ہیں، خوشی خوشی واپس جانے چاہئیں“۔ یہ تھی ہماری حقیقی عزت اور احترام ان کی نظروں میں، ہمیں ڈھیروں پیسہ ملا، بہت آﺅ بھگت ہوئی، ہم مرکز نگاہ رہے، ہر کوئی ہمارے ساتھ تصویریں بنانا چاہتا تھا مگر ان کی نظروں میں ہم کنجر ہی تھے۔ کنجر تو کنجر ہوتا ہے، اس کی حقیقی عزت اور احترام کیا ہے اس کا اندازہ جنید جمشید کو جلد ہی ہوگیا اور اس دنیا کو چھوڑ کر ایک ایسی دنیا کی جانب چلا گیا جس کے انجام کا اندازہ بھی اس کو نہیں تھا۔ جنید جمشید یا شہزاد رائے اپنے اپنے گلوکاری کے فن کا انجام یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان کو بھی کنجروں میں شمار کیا جائے۔ جو ہمارے معاشرے میں ان کے متعلق لوگوں کی رائے ہے۔ یہ شہزاد رائے کی پریشانی کی وجہ یا جنید جمشید کی اتنی مقبولیت کی انتہاﺅں سے واپسی کے فیصلے کا باعث ہوا۔
برصغیر میں شعبہ موسیقی کے حوالے سے امیر خسرو کی خدمات کی بہت اہمیت ہے مگر ان کا مقام اور مرتبہ خواجہ نظام الدینؒ سے محبت کے حوالے سے متعین کیا جاتا ہے۔ موسیقی میں استاد تان سین کا بھی بہت بڑا مقام ہے اور موسیقی کے شائقین سہگل کی گائیکی کے بھی بہت بڑے مداح ہیں۔ موسیقی کے حوالے سے اس فن میں بہت بڑے بڑے گھرانوں کے نام بھی وابسطہ ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا ہی موسیقی رہا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے موسیقی کے گھرانوں میں نسل در نسل اس فن کی آبیاری ہوتی رہی ہے انہوں نے اپنے فن کی خاطر کسی اور دھندے میں اپنے آپ کو شامل نہیں کیا اور عزت و احترام سے اپنے اس شعبہ فن کی خدمات انجام دی۔
ہمارے معاشرے میں موسیقی کی آماجگاہوں میں کوٹھوں کا بھی بڑا کردار رہا ہے ان کوٹھوں نے موسیقی کے ذریعہ اپنے دھندے کو پروان چڑھایا اس دھندے کو ہی اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنایا اس ہی شعبہ سے وابسطہ افراد کو مراثی کا نام بھی دیا گیا۔ روپے پیسہ کی خاطر اپنی عزت و آبرو کو بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرتے تھے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں وہی الفاظ ادا کئے جاتے رہے ہیں جو گاﺅں کے چوہدری نے شہزاد رائے یا ان کے قبیلہ کے لوگوں کے بارے میں ادا کئے ان چوہدری صاحب نے ایک ہی لکڑی سے تمام فنکاروں کو ہانک دیا۔
کنجروں اور مراثیوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ پیسے کی خاطر اپنے فن کو فروخت کرتے ہیں، چاہے اس کے لئے ان کو اپنی عزت اور احترام کو بھی خیرباد کہنا پڑے۔ یعنی کنجر اور مراثی وہ ہوتے ہیں جن کا مقصد دولت کمانا ہی ہوتا ہے۔ اس دولت کی خاطر اپنی عزت اور احترام کو بھی داﺅ پر لگا دیتے ہیں اس کے برخلاف جنید جمشید اور شہزاد رائے جیسے فنکار اپنی دولت مقبولیت شہرت کو ٹھکرا کر اپنی عزت اور احترام میں اضافہ کرتے ہیں۔ کنجر اور مراثی ایک ذہنیت، ایک انداز فکر، ایک طرز زندگی ہے جو اپنے فن کو روپے پیسے کے لئے برائے فروخت رکھتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بڑے بڑے نام دولت کے پیچھے بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کو مراثی یا کنجروں میں نہ سمجھا جائے۔
دوسرے وہ ہوتے ہیں جن کے پیچھے دولت اور شہرت بھاگئی ہے اور ان کو اس کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہوتی ہے۔ ایسے فنکار قابل احترام ہوتے ہیں جو اپنی خودداری اور عزت کو اہمیت اور اولیت دیتے ہیں۔ ان کے لئے دولت اور شہرت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کنجر اور مراثی اپنے رویہ اور طور طریقوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ وہ کتنے ہی مقبول ہو جائیں ان کے پاس کتنی بھی دولت ہو ان کا مقصد ہر جائز اور ناجائز طریقوں سے دولت کمانا ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے فنکاروں کی کسی طرح بھی کمی نہیں جو جن کی عزت اور احترام ہر طبقے میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے ان کا احترام اور عزت افزائی لوگوں کے دل میں بے پناہ ہوتی ہے۔ ہمارے موسیقی کے بڑے بڑے نام جن کے پاس شہرت اور دولت کی کوئی کمی نہیں مگر وہ اپنے رویہ سے اپنے آپ کو کنجر اور مراثی ثابت کرتے ہیں۔ ایسے افراد بھی پائے جاتے ہیں جن میں کنجروں جیسی خصوصیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔ یعنی کنجر صرف موسیقی کے فن میں ہی بلکہ ہر شعبہ میں ان کا وجود پایا جاتا ہے۔ کنجر انی ذہنیت اور طرز فکر سے پہچانا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں