59

اُمیدوں کا کھیل

ورلڈ کرکٹ کپ کی آمد آمد ہے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی تیاریوں کے سلسلے میں مختلف ملکوں کی کرکٹ ٹیموں سے کرکٹ کے میچ منعقد ہو رہے ہیں۔ عوام بہت دلچسپی سے ان میچوں کا حال اپنے ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ کر جوش و خروش کے مظاہرے کررہے ہیں۔ کرکٹ ٹیم میں مختلف طرح کے میچوں میں کھلاڑیوں کو آزمایا جارہا ہے۔ ٹیسٹ میچوں کے لئے الگ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ون ڈے اور ٹی 20 کے لئے الگ طرح کے کھلاڑی منتخب کرکے ان کو آزمایا جارہا ہے۔ جب کبھی کسی میچ میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو عوام خوشی کے شادیانے بجانے لگتے ہیں۔ جب کبھی ہار کا سامنا ہو تو غم و غصہ کا مظاہرہ کرتے ہیں، کسی بھی کھلاڑی سے امید باندھ لیتے ہیں جب وہ ان کی توقعات پر پورا نہ اترے تو اس کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس کو ٹیم سے باہر نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ واپسی پر گندے انڈے ٹماٹر سے استقبال کرتے ہیں۔ یہی حال ہمارے ملک کی سیاست کا ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں سے عوام اپنی اپنی امیدیں قائم کرتے ہیں مگر یہ رہنما جب ان کی زندگیوں کو سدھارنے کے بجائے اپنا اپنا اسکور بڑھانے کے لئے بدعنوانیوں کے چھکے مارتے ہیں تو یہی عوام مطالبہ کرتے ہیں کہ ان رہنماﺅں کو حکومتی ٹیم سے باہر کیا جائے۔ جب سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے تب سے مختلف رہنماﺅں کی ٹیموں کو آزمایا گیا۔ جس میں سیاسی رہنماﺅں کے ساتھ فوجی حکمران بھی آئے مگر عوام کی تقدیر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ ہر ایک حکمران کو نجات دھندہ سمجھتے رہے اس کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے رہے یہ حکمراں اپنا اپنا دور مکمل کرکے آتے جاتے رہے۔ قوم پر ایک سے بڑی بڑی امیدیں باندھتی رہی۔ ہر بار وہ کسی نجات دھندہ پر بھروسہ کرتے رہے وہ مایوسی اور امیدوں کے درمیان لٹکتے رہے۔ کبھی امیدوں کا چراغ جلتا اور کبھی بجھتا رہا۔ قائد اعظم سے امیدیں باندھ کر تحریک آزادی چلائی اور اپنی جان و مال کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ جب پاکستان قائم ہو گیا تو امید باندھی کی اب برے دن ختم ہوئے۔ اچھے دنوں کی امیدیں قائد اعظم کی وفات کے ساتھ ہی ان کے ساتھ قبر میں دفن ہو گئیں پھر لیاقت علی خان کو اپنی امیدوں کا مرکز بنایا تو ان امیدوں کو شہید ملت کے سینے میں گولیاں مار کر ختم کردیا۔ اور قوم کے دلوں کو شہید ملت کے بنیان کے سوراخوں کی مانند تار تار کردیا۔ پھر ایوب خان کے جاہ و جلال سے آس لگائی، وہ آس بھی پوری نہ ہو سکی، بعد میں ذوالفقار علی بھٹو کو اپنا نجات دھندہ مان لیا۔ مگر عوام کی تمنائیں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے پھانسی گیٹ پر لٹکا دی گئیں۔
پھر ضیاءکے سفاک دور کی ہولناکیوں سے ان کی رہی سہی آرزوﺅں کے مزار تعمیر ہوتے رہے۔ اس کے بعد بے نظیر کی جمہوریت نے ان کو کچھ امید دلائی، کبھی نواز شریف کے نعرے ان خوابیدہ آرزوﺅں کے مزار پر چراغ جالتے رہے۔ جب پرویز مشرف کا سورج چمکا تو عوام کو اپنے تاریک دن رات کے خاتمہ کی آرزو کروٹ بدل کر بیدار ہوئی اور جب پرویز مشرف کے اقتدار کے سورج کو کالی کوٹوں نے گہنا دیا تو عوام کی مایوسی انتہا پر پہنچ گئی۔
عمران خان تبدیلی نے جگایا پھر عمران خان کے اس دعویٰ سے اپنی زندگیوں میں تبدیلی کا میچ جیتنے کی خواہش بیدار ہوئی۔ وہ میچ بھی ہار جیت کے فیصلے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔
یوں عوام امیدی اور نا امیدی کے اس میچ میں کبھی ہار کے شکار ہوتے، کبھی میچ ڈرا ہو جاتا، وہ ہر ایک سے امیدں وابسطہ کرتے کرتے ایک نسل سے دوسری پھر تیسری نسل کا سفر کرتے رہے مگر منزل انہیں ملی۔ اس وطن میں منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔ پاکستان کے بننے کی تاریخ سے ہی اقتدار کی کرسی پر مختلف شخصیات اپنے اپنے کھیل سے اقتدار حاصل کرتی رہیں، کہیں پر کبھی ان شخصیات کو جیت حاصل ہوتی، کہیں ہار۔ مگر اشرافیہ کو تو ہر زور میں جیت کے ہار پہننے کو ملتے۔ وہ ہر جیتنے والے کے ساتھ شامل ہو کر انعامات حاصل کرتی رہی۔ وہ اشرافیہ جس میں شروع میں صرف بیوروکریسی ہی تھی، آہستہ آہستہ اس میں معاشرے کے تمام مفاد پرست گروہ بھی شامل ہوتے گئے۔ جاگیرداروں کے ساتھ سرمایہ دار مولوی حضرات ریٹائرڈ فوجی یہ سب مل کر ایک ٹیم کی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔ اس ٹیم میں معاشرے کے وہ تمام مفاد پرست شامل ہوتے گئے۔ جاگیرداروں کے ساتھ سرمایہ دار مولوی حضرات ریٹائرڈ فوجی یہ سب مل کر ایک ٹیم کی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔ اس ٹیم میں معاشرے کے وہ تمام مفاد پرست شامل ہوئے جن کا تعلق معاشرے کے مختلف اداروں سے رہا تھا۔ اس طرح اقتدار اور اختیار کا سرچشمہ بن کر تمام اداروں پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ تمام اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئی اپنے منظور نظر یا اطاعت گزاروں کو ناجائز طریقوں سے ان اداروں میں معمور کردیا۔ ان کی ترجیح سب سے پہلے اپنے رشتہ داروں کی ہوتی پھر عزیزوں اور دوستوں کی باری آتی۔ جنہیں ان شرائط پر معمور کیا جاتا تھا کہ وہ تمام فیصلے اشرافیہ ٹیم کی مرضی کے مطابق کرنے کے پابند ہوں گے۔ اس طرح ملک کے تمام اداروں پر انہوں نے اپنا تسلط مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا۔ کسی عہدیدار نے ان کے فیصلوں سے اختلاف کیا۔ یا ادارے کے مفاد میں کرنا چاہا اس کو فارغ کرنے میں تمام ٹیم متحد ہو کر اس کے خلاف سازشیں شروع کرتی۔ اس طرح ملک کے ادارے تباہی کی طرف تیزی سے زوال ہونے لگے۔
صرف چہرے نئے نئے دعویٰ لئے بدلنے لگے ان کی پالیسیاں بدستور جاری رہی، اداروں کے ساتھ عوام بھی اس زوال کا شکار ہو کر غربت کی لکیر سے نیچے کی گہرائیوں پر جا پہنچے۔ جو ادارے اور معاشرے کے دیگر طبقات شروع میں ترقی کی منازل طے کررہے تھے ان کے تسلط کا شکار ہونے کے بعد زبوں حالی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ یہی حال کرکٹ کے ادارے یا ہاکی کا ہوا۔ جہاں نصیر بندہ، حبیب کڈی، انوار احمد خان، عبدالوحید خان، شہناز شیخ، حنیف خان جیسے نابغہ روزگار پیدا کررہے تھے۔ اور پاکستان کی ٹیم کا شمار دنیا کی دو بڑی ٹیموں میں ہوتا تھا وہ اب کسی شمار میں ہی نہیں۔ کرکٹ میں جہاں حنیف محمد، فضل محمود، ظہیر عباس، ماجد خان، آصف اقبال، عمران خان، جاوید میانداد پیدا ہوتے تھے جنہوں نے دنیا میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا نام بلند کیا ہوا تھا۔ اس کرکٹ سے پاکستان کی محبت پیدا کی تھی۔ وہ سب ادارے کی نا اہلی کی وجہ سے ختم ہوتی جارہی ہے۔ عوام مستقبل سے آس لگائے نئی اُمیدوں کے مرکز بنا رہے ہیں۔ان کی اُمیدیں آرزوئیں تمنائیں اس شراب کی مانند پوری ہوتی نظر آتی ہیں جو کچھ دیر نظر آتا قریب پہنچنے پر ختم ہو جاتا ہے۔
کوئی اُمید بَر نہیں آتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں