179

بیٹری کے بغیر چلنے والا، دنیا کا پہلا بلیو ٹوتھ اسٹیکر

نیویارک: امریکی کمپنی نے ایسا انقلابی بلیو ٹوتھ ٹرانسمیٹر بنایا ہے جو ہوا میں موجود برقناطیسی یا ریڈیائی امواج سے توانائی جذب کرکے بیٹری کے بغیر توانائی پیدا کرتا ہے اور اسمارٹ فون تک سگنل بھیجتا ہے۔
نیویارک میں واقع ویلیئٹ کمپنی نے اس کے لیے 5 کروڑ میں سے 3 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ جمع کرلی ہے۔ اسٹیکر نما بلو ٹوتھ پیوند میں اے آر ایم پروسیسر نصب ہے جو اطراف سے توانائی جمع کرکے خود کو چلاتا ہے۔ اس میں ایک چھوٹی سی چپ پر اینٹینا چھاپ کر اسے کسی بھی کاغذ یا پلاسٹک کے ٹکڑے پر پیوست کیا جاسکتا ہے جسے آپ ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اس کی ڈیزائننگ میں خیال رکھا گیا ہے کہ بلو ٹوتھ کے دیگر بہت سے اجزا کو کم کیا جائے یا اسے مائیکرو الیکٹرانکس میں سمودیا جائے۔ اس آلے کو نینو واٹ کمپیوٹنگ کا ایک حصہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

بلو ٹوتھ اسٹیکر کسی بھی اسمارٹ فون، آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگس) یا دیگر پلیٹ فارم سے رابطہ کرسکتا ہے۔ ابتدائی ٹیسٹ میں اس نے شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور اس کی تحقیق کا زیادہ تر کام اسرائیل میں کیا گیا ہے۔ اس کے لیے فنڈنگ ایمیزون اور سام سنگ نے کی ہے۔
ماہرین کے مطابق فضا میں ہر وقت ہزاروں ریڈیائی سگنل گزرتے رہتے ہیں اور یہ اسٹیکر ان سے توانائی جذب کرتا ہے اسے ری سائیکل ریڈی ایشن آلات بھی کہا جاسکتا ہے۔ ڈاک ٹکٹ جتنا بلو ٹوتھ اسٹیکر کسی بیٹری کے بغیر مسلسل کام کرسکتا ہے اور اس کی بدولت ہر جگہ ہرموقع پر موجود انٹرنیٹ آلات (آئی او ٹی) کو ممکن بنا کر تمام اشیا کو باہم جوڑا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں