26

ابن صفی۔۔۔ بچپن کا عشق

ابن صفی کے کردار عمران فریدی حمید سے محبت کا آغاز ہماری کم عمری میں ہو گیا تھا۔ یہ ہماری ابتدائی تعلیم کا زمانہ تھا، اسکول جانے کے لئے ہمارے گھر والے چار آنے دیتے تھے۔ یہ چار آنے جو ہمارے لئے پچیس پیسے ہوتے تھے اس میں سے گھر کے قریب کے اسٹاپ سے جائیں تو 15 پیسے۔ ہم آنے جانے میں 5 پیسے بچا کر اس میں ایک پائی ملا کر ابن صفی کی عمران سیریز یا جاسوسی دنیا کی نئی کتاب کے لئے لائبریری والے کو رکھوا دیا کرتے تھے اور جب وہ نئی کتاب تھوڑی پرانی ہو جاتی تو ہمیں لائبریری سے ایک آنے پر ملتی تھی۔
ابن صفی کے کرداروں سے محبت میں ہم اس قدر ڈوب جاتے تھے کہ اکثر خوابوں میں اپنے آپ کو ان کرداروں میں لپٹا ہوا محسوس کرتے تھے۔ یہ کردار ابن صفی نے اس طرح سے بُنے تھے کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کرداروں کو اپنے سامنے زندہ جاوید، چلتے پھرتے محسوس ہوتے۔ ابن صفی اور ان کے کرداروں سے ہماری محبت کا آغاز کیونکہ کم عمری سے ہو گیا اور کم عمری کی محبت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سرچڑھ کر بولتی ہے اور یہ ہے بھی بات۔ اس زمانے کی جب آنے کو چھوڑ کر نیا نیا پیسہ آنا شروع ہوا مگر ابن صفی کی کتابوں کو ہم نے آنہ لائبریری سے ہی دل و جان سے لگا لیا تھا۔ ان کتابوں میں ان کرداروں نے ہمارے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں اس قدر لیا ہوا تھا کہ اکثر امتحانوں کے زمانے میں ان کی نئی کتاب کے کرداروں سے اپنی کورس کی کتابوں میں چھپا کر ملتے تھے جس کے نتیجے میں ہم اکثر امتحاوں میں بہت کم مارکس لے کر بہ مشکل اگلے درجہ میں پہنچتے تھے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ہم اپنے بھائیوں کے مقابلے میں کسی اعلیٰ عہدے کے قریب تک نہیں پہنچ سکے۔ اس کا قصور ابن صفی کے کرداروں کو نہیں بلکہ اپنے نوعمری کے عشق کو گردانتے ہیں۔ ابن صفی کی تحریر میں اپنے قارئین کے لئے جو پکڑ تھی اس کے سراب میں جو ایک بار آگیا وہ دوبارہ کبھی نہ نکل سکا۔
ہمارے بچپن کا دور بہترین تخلیقی ادب کا تھا بہت سارے نام ایسے ہیں جو ہم جیسے لوگوں کو کتب بینی کے ذوق کو ابھارنے میں مدد دیتے رہے مگر ابن صفی صاحب کے الفاظ کی جادوگری ہمیں اپنے سحر سے نکلنے نہیں دے رہی تھی۔ عمران کے علاوہ صفدر دیگر کرداروں کو بھی اتنی خوبصورتی سے پیش کیا کہ اپنے قارئین کی نفسیات کے ایک پہلو کو ذہن میں رکھا وہ لکھتے جاتے اور ہم ہر کردار کے بارے میں تجسس میں رہتے تھے۔
ابن صفی صاحب نے فکشن اور ایکشن کا جو امتزاج پیش کیا تھا وہ ہی ہمارے لیے آئیڈیل بن گیا ہے اس زمانے میں اردو میں فکشن کے بانی بھی ابن صفی صاحب نے پیش کیا اور اس قدر سہل اور تصوراتی انداز میں پیش کیا کہ ان کے مقابل کوئی بھی نہیں ٹھہر سکا۔ ابن صفی صاحب کی یہ بات بھی قابل تحسین ہے کہ وہ مسلسل اپنے قارئین کو اپنی طرف اپنی تحریر سے محظوظ کرتے رہے اور لوگوں نے بھی اس انداز میں لکھنے کی کوشش کی ہے مگر وہ مقام حاصل نہیں کرسکا جو ابن صفی صاحب کو حاصل تھا۔
ہر تحریر ایک نئے انداز میں کردار اور کہانی کو قارئین کی نفسیات سے ہم آہنگ کرنا صرف ابن صفی صاحب کا خاصہ تھا
پھر یوں سمجھیں کہ ہم جتنے بڑے ہوتے گئے ابن صفی صاحب کی طرز تحریر کے گرویدہ ہوتے گئے، آج ہمیں لگتا کہ یہ وہ سایہءدار درخت ہے جو ہمارے ذہن سے نہیں اپنے تناور ہونے کی وجہ سے آج بھی اور ہمیشہ رہے گا اور جب تپتی دھوپ میں آتے ہیں تو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ وہ درخت ناجانے کتنے لوگوں اپنے سائے میں پناہ دیتا رہا ہے کیونکہ آج کی نسل جو اردو سے انگریزی میڈیم میں بدل گئی پھرنئی نئی ایجادات ہو گئیں۔ وہ کتب بینی کے لطف سے نا آشنا ہے مگر ہم اپنے آپ اس لیے بہتر سمجھتے ہیں کہ ہمیں اچھا ادب اور معیاری ادب پڑھنے کا شوق جناب ابن صفی صاحب کی وجہ سے ہوا۔
اس کو کہتے ہیں کہ بڑے لوگوں کی بڑی سوچ اور باتیں جو وہ ہمیں سونپ گے مگر ہم اپنے بچوں کو کوئی ابن صفی نہیں دے سکے۔
عمران کو ہم اپنے بچپن یا کہہ لیجئے کہ اس وقت سے جانتے ہیں جب ہم کو مکمل طور ر شعور بھی نہیں آیا تھا وہ ہیں عمران سیریز۔ نٹ کھٹ اور چالاک جاسوس جو ہمیں ہمارے اصل ہیرو نے پیش کیا تھا جس طرح آج کے بچے سپر مین اسپائیڈر مین کے دیوانے ہیں اسی طرح ہم بھی دیوانے ہیں اور ان کی محبت ہمارے دل میں ابھی تک دل کی گہرائیوں سے دھڑکن کی طرح موجود شخصیت ابن صفی صاحب ہی ہیں اور وہ کوئی اور نہیں میری محبوب، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے گھر کا ماحول بھی ادبی اور علم و آگہی حاصل کرنے میں پیش پیش تھا۔ ہمارے والد صاحب کے شاعرانہ مزاج کی وجہ سے ہمارے بڑے بھائی اور ہماری امی نے ہمیں پڑھنے کے لئے ہمیشہ حکم دیا۔ ہم پڑھتے زیادہ غیر نصابی کتب بینی میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ ہمیں اسکول جانے کے لئے جو پیسے ملتے ت ھے وہ ہم اس طرح بچاتے تھے کہ آدھا راستہ پیدل چلتے اور آدھا کریہ بچا لیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں کچھ لائبریریاں کرائے پر بھی غیر نصابی کتب بھی مل جایا کرتی تھی۔ ہم کرایہ بچا کر وہاں سے ابن صفی صاحب کی عمران سیریز کے ناول لے کر آیا کرتے تھے۔ اور ان کے بہت سے اور بھی تخلیفی کردار تھے جس میں حمید فریدی بھی شام لتھے جو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کسی بھی قسم کے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کردیتے تھے۔ ہمارے شوق کا عالم یہ تھا کہ ہم خود بھی عمران جیسا کردار سمجھتے تھے۔
ابن صفی صاحب کی تحریر کا جدو ہمیں باوجود بھائی کی سخت نگرانی اور والدہ کی طرف سے ڈانٹ پڑنے کے کم نہیں ہوا۔ تو یوں تصور کیجئے کہ یہاں کہتا ہوں کہ ابن صفی صاحب اگر جاسوسی اردو ادب کے آسمان ہیں تو عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے چاند ستارے تھے۔ اور ہم سب جو یہاں موجود ہیں وہ بھی ابن صفی صاحب کی بدولت ہیں آج کل کی نسل کتب بینی سے جتنی دور ہے شاید اس وجہ سے کہ ان کے پاس اپنے ہیرو پیش کرنے والے ابن صفی صاحب نہیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ابن صفی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے ہاں مگر وہ موجود ہیں اپنی تحریروں میں، اپنے کرداروں میں زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ پاکستان ٹیلی ویژن ڈاکٹڑ ذاکو کے نام ایک زمانے میں سننے میں آیا کہ وہ ابن صفی صاحب کو ڈرامائی انداز میں پیش کرے گا لیکن شاید سہولتوں کی کمی کی وجہ سے یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا۔ آج میں بانی اردو جاسوسی ادب کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ محسوس کررہا ہوں کہ جیسے حق تو ہے کہ حق ادا کرنا ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں