181

خاک میں مل گئے نگینے لوگ ۔۔۔ حکمران بن گئے کمینے لوگ

منوں مٹی تلے دفن ہو گئے حبیب جالب قوم کو جگاتے جگاتے اور یہ بتاتے بتاتے کہ خدارا اُٹھ کھڑے ہوں اور ا س سسٹم کو تم عوام کے علاوہ کوئی ٹھیک کرنے کسی اور خطہ سے نہیں آئے گا۔ یہ وطن تمہارا ہے اور تمہی اس کے حقیقی پاسبان ہو۔ مگر ملک کے چوکیدار گھر کے مکینوں کو خون میں نہلا کر ملک پر قابض ہو گئے اور اپنے من پسندیدہ اُن افراد کو جو غربت کے ستائے ہوئے تھے اور دولت کے بھوکے تھے اقتدار میں لائے اور کھلی چھوٹ دیدی کہ لوٹو اور کھاﺅ اور پھر لوٹ کھسوٹ کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ آج تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ نظریہ ضرورت کے تحت آج بھی ملک کا قانون اپنے فیصلہ کررہا ہے اور یہ بھول چکا ہے کہ بیانات دینا اور سیاسی اداکاری کرنا قانون کے رکھوالوں کا کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی ایجنسیاں بھی مطلق العنان ہوچکی ہیں اور عوام کو کسی انصاف کی توقع نظر نہیں آرہی۔ اب تو حالت یہ ہے کہ آصف زرداری، فریال تالپور اور انور مجید کا مطالبہ یہ ہے کہ اُن کا کیس اسلام آباد کے بجائے سندھ کی عدالتوں میں چلایا جائے۔ نیب بھی اُن سے پوچھ گچھ سندھ میں کرے۔ جہاں اُن کی حکومت ہے اور جہاں وہ سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سپریم کورٹ کا کراچی سے ناجائز تجاوزات کو گرانے کا فیصلہ بھی کالعدم ہو جانا چاہئے کہ کراچی سندھ کا ایک شہر ہے اور پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ چنانچہ وفاق کو سندھ کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہئے۔ پھر وفاق کی فوج کو بھی سندھ میں سندھ رجمنٹ کے ذریعہ آپریشن کرانا چاہئے اور یہ دیکھا جائے کہ سندھ رجمنٹ میں سندھ کے رہنے والے کتنے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جنہوں نے سندھ کا ڈومیسائل بنوا کر یہاں سندھ رجمنٹ میں ملازمت اختیار کی ہے۔ سندھ رجمنٹ کی کمانڈ بھی سندھ کے رہنے والوں کو دی جانی چاہئے تاکہ فرقہ پرستی کے تمام اصولوں پر انصاف سے فیصلے ہوں ان سب کو حق دیا جائے نہ کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی فوج دیگر صوبوں کے لوگوں کو بے دردی سے مارتی رہے اور قابض ہوتی رہے۔ بلوچستان جل رہا ہے، بلوچوں کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے قائد اعظم کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور اپنے ہاتھ پاﺅں کٹوالئے۔ ہماری عسکری قوتوں نے قرآن کا واسطہ دے کر بلوچ سرداروں کو بلایا اور ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ آج بلوچستان میں پاک فوج یوں دندناتی پھر رہی ہے جس طرح مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے کوشاں تھی۔ مگر نظر نہیں آتا کہ کہیں کوئی ندامت ہو، کہیں ماضی سے کچھ سبق حاصل کرنے کا عزم ہو۔ یہاں تو 16 دسمبر کو نہ میڈیا اور نہ ہی ہمارے دانشور اپنی غلطیوں پر ندامت کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں، دیگر اداروں کی طرح میڈیا بھی ہائی جیک ہو چکا ہے اور 90 فیصد اینکرز وہی بولتے ہیں جو اسکرپٹ دیا جاتا ہے، کسی کو بغیر اجازت کچھ کہنے اور سننے کی اجازت نہیں، جو کچھ لکھا جارہا ہے یا بولا جارہا ہے وہ سب ملک سے باہر ہے۔ وگرنہ پاکستان میں تو کچھ کہنا اب اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ آج آواز کی گونج ہے کہ پی آئی اے کے صدر دفتر کو کیوں اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے یا سندھ کے لوگ سپریم کورٹ جانے سے کیوں گھبرا رہے ہیں اور پنجاب کے لوگ سندھ کی کورٹس میں آنے سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ آج انصاف تقسیم ہو چکا ہے۔ سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا تعلق تو پنجاب سے تھا مگر وہ بلوچستان کے ڈومیسائل کے نتیجہ میں چیف جسٹس بن گئے تھے۔ یہاں اپنا وطن اور وفاق نظریہ ضرورت تھا۔ مگر نظریہ ضرورت بھی اپنی ضرورتوں کا غلام بن چکا ہے مگر یاد رہے کہ بندوق کی نوک پر اب مزید معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔ خدا نہ کرے کہ وہ وقت آئے کہ پاکستان کی بنیادیں ہی ہل جائیں۔ اے کاش ہمارے ملک کے با اثر لوگ ہوش کے ناخن لے لیں اور ملک میں انصاف کا بول بالا ہو۔ تمام صوبوں کے حقوق کا خیال رکھا جائے وگرنہ پاکستان علامہ اقبال کا خواب ہی بن کر رہ جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں