Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 79

فلم اور سیاست

اگر یہ کہا جائے کہ فلم اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ دونوں میں ہی اداکاری کی جاتی ہے۔ ایک کیمرے کی آنکھ کے سامنے شکلیں بگاڑ رہا ہوتا ہے اور دوسرا غریب عوام کے سامنے۔۔۔ دونوں ہی عوامی جذبات سے کھلواڑ کرتے ہیں لیکن دونوں کے مقصد میں واضح فرق ہوتا ہے۔ فلمی اداکار جتنا حساس اور معاشرتی اقدار کے قریب ہوتا ہے اتنا ہی سیاسی اداکار اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ اور انسانیت سے بالکل ہی بے گانہ لگتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انہیں انسانی اقدار کے چھو کر بھی نہیں گزرے تو غلط نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست میں دوستی اور دشمنی کی کوئی اہمیت نہیں، سیاسی لوگ نہ تو سچ کو جانتے ہیں اور نہ ہی عہد و پیماں کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ میرے نزدیک تو سیاسی اداکاروں کا کوئی دین و مذہب ہی نہیں ہوتا بلکہ ان کا اوڑھنا بچھونا سب کا سب سیاسی اداکاری ہی ہوتی ہے اور یہ ان کا ایک طرح سے ذریعہ معاش بن جاتا ہے۔ سیاسی اداکار چاہے وہ کسی وڈیرے کا کردار ادا کرے یا کسی عالم دین کا یا کسی قوم پرست کا سب کا نصب العین ایک ہی ہوتا ہے جس کا تذکرہ بالائی سطور میں کر چکا ہوں۔ فلمی اداکار کا فن صرف تین گھنٹے کا ہوتا ہے لیکن سیاسی اداکار کے کرشمے موت تک ان کے مداحوں کا پیچھا نہیں چھوڑتے ان سیاسی اداکاروں کے ذمہ قوم سازی اور ملک سازی جیسے اہم ترین امور ہوتے ہیں جنہیں سر انجام دینے کا یہ دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔ فلمی اداکار خود کو فٹ رکھنے کے لئے بہت کم کھاتے ہیں لیکن سیاسی اداکاروں کی خوراک کی تو بات ہی کیا ہے؟ ناجانے وہ کون سا منجن کھاتے ہیں کہ ”لکڑ ہضم پتھر ہضم“ کے مصداق ان کا معدہ اتنا کمائی کا کام کرتا ہے کہ پورے پورے بینک اور ادارے ہڑپ کر جانے کے بعد بھی ڈکار نہیں لیتے۔ ان تمام امور کے باوجود ان کی اداکاری کا یہ کمال ہے کہ لوگ ان کے سحر سے نکلنے کو تیار ہی نہیں وہ اگر دن کو رات کہیں تو عوام بھی ویسا ہی کہنے کو تیار ہو جاتے ہیں وہ سیاسی اداکار پوری قوم کو مقروض بنانے کے بعد بھی قوم کی نظروں میں ان کے ان داتا پر بنے ہوئے ہیں۔ اسی لئے تو کہتا ہوں کہ فلمی اداکاروں سے ہمارے سیاسی اداکاروں کی اہمیت زیادہ ہے ان کی پرفارمنس فلمی اداکاروں سے کئی گنا بہتر ہے جس کا ثبوت خود بعض فلمی اداکاروں کا سیاسی اداکاروں کا مداح بن جانا ہے ان دونوں طرح کے اداکاروں کو خود کو زندہ رکھنے کے لئے میڈیائی سمندر کا سہارہ لینا پڑتا ہے اگر انہیں یہ سمندر نہ ملے تو ان کی حالت بن پانی مچھلی جیسی ہو جاتی ہے جو پانی کے بغیر تڑپ تو سکتی ہے مگر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے میڈیا ان دونوں طرح کے اداکاروں کو زندہ رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ فلمی اداکاروں کے مقابلے میں سیاسی اداکاروں کو میڈیا پر کچھ زیادہ ہی جگہ ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے بھی سبھی واقف ہیں کہ خود میڈیا کا اپنا گورکھ دھندہ بھی ان سیاسی اداکاروں کے اداکاری پر انحصار کرتا ہے بعض اوقات تو بڑے میڈیا ہاﺅسز کے مالکان ان ہی سیاسی اداکاروں کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹڑ تک کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جس کے مظاہر ٹی وی دیکھنے والوں کو آئے روز ٹاک شوز کی شکل میں دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں کس طرح سے چالاک اور مکار اینکرز حضرات اپنے رٹے رٹائے جملے ان سیاسی اداکاروں کے منہ میں ٹھونستے رہتے ہیں اس طرح کی صورتحال میں خود میڈیا بھی سیاسی اداکاری سے مستفیض ہوتا رہتا ہے۔ فلمی اور سیاسی دونوں طرح کے اداکاروں کا کاروبار دیکھنے والے یعنی ناظرین کی مرہون منت ہے جب تک دیکھنے والے اور انہیں سراہنے والے مداحین موجود رہیں گے۔ ان کا کاروبار اسی طرح سے نہ صرف چلے گا بلکہ دن دگنی رات چگنی کے مصداق ترقی بھی کرتا رہے گا۔ اب یہ تو دیکھنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح کے فن کو دیکھنا پسند کرتے ہیں اس طرح کے فن کو جو ان کے محظوظ بن جانے کا سبب بن رہا ہے یا وہ فن جو ان کی تباہی و بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ اس کا فیصلہ اب اس ملکی عوام کو کرنا ہے جو فلمی اداکاروں سے زیادہ سیاسی اداکاروں کے مداح بن کر ان کے اسیر بن گئے ہیں جو انہیں اور ان کی آنے والی اولادوں تک کو مقروض بنانے کے باوجود انہیں ہی اپنا رہبر خیال کرتے ہیں۔ ملکی عوام کو اب ہوش کے ناخن لینا چاہئے انہیں دوست اور دشمنوں میں تمیز کرنا چاہئے، ہر وقت ان کے اداکاری کے سحر میں نہیں رہنا چاہئے بلکہ ڈرامے اور فلم کے دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ وہ سیاسی اداکار جو منافقت اور قومی دولت لوٹنے کے چلتے پھرتے اشتہارات بن گئے ہیں۔ کیا وہ غریب ملکی عوام کے ہمدرد اور مسیحا بن سکتے ہیں؟ جو خود اس بیماری کے ذمہ دار ہیں جس میں پوری اس وقت قوم مبتلا ہے اس لئے ملکی عوام کو اب نعروں اور وعدوں کے فریب سے نکل کر ان ہی کی تقلید کرتے ہوئے انہیں مشعل راہ بنانا چاہئے جو انہیں اس مشکل سے نکال کر زندگی کی دوڑ میں شامل کر سکتا ہے۔ سوچیے ایک بار نہیں بار بار جو لکھ چکا ہوں وہ اس قابل ہے کہ اس پر عمل کیا جائے یا وہ بھی سیاسی اداکاری کا ہی ایک تسلسل ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں