35

میڈیا کی دُم پر پیر

جہاں ان دنوں ”تبدیلی“ کے گھائیلوں میں بڑے بڑے جفادریں ہائے وائے کررہے ہیں، بڑے بڑے پھنّے خاں بکری بنے ہوئے ہیں، پورے پاکستان کی زمینوں کے ہڑپ کرنے والے چار چار ستاروں والوں کو انی بارگاہ میں حاضر سروس سے ریٹائرڈ شدوں کو سجانے والا اور جو ایک سابق صدر کو جگہ جگہ بلاول ہاﺅس بنا کر تحفہ کرانے والا وہ جو ہر کس ناکس کا مزاج سمجھنے والا کہ اخبار والوں کو کن کن قیمتوں میں خریدا جائے تو بھوکوں کو کھانا کھلایا جائے۔ طرّم بازوں کو بھرتی کرکے وفاداریاں خریدی جائیں۔ مذہبی رگ کو پکڑ کر مساجد تعمیر کی جائیں اور عربی ملاﺅں کو بلا کر ان کے ”افتتاح“ کرائے جائیں، دستر خوان سجا کر نام و نمود، شہرت کمائی جائے غرض یہ کہ جو کچھ انسانی وسائل میں ہے اور جو کچھ انسانی ہوس، لالچ اور طمع طلب کرکے وہ دیگر زمینیں ہڑپ کی جائیں وہ بھی بلی بنا ہوا اربوں کھربوں دینے کی بات کررہا ہے تو وہ مذہب فروس جس کا حلوہ مانڈہ ہی مذہب فروشی ہے اب ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں اور انہیں ”اپنا اسلام“ خطرے میں نظر آرہا ہے۔ ادھر وہ صاحب اقتدار جو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے آج ان پر بھی مکھیاں بھنک رہی ہیں۔ صبح و شام عدالتوں کے چکر ”نیب“ کے تیز و تند سوالات حواس باختہ ہو کر کروڑوں روپیہ وکیلوں کو دے کر اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح اس وبال سے جال چھوٹ جائے مگر کوئی صورت نظر نہیں آتی غرض یہ کہ بقول غالب
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
سو اس افراتفری میں جو کہ سارے کے سارے کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی حال میں بہتے رہتے تھے پہلی دفعہ ایک خیاور بھی پھنس گیا ہے جس کو غرّا تھا کہ ”کسی مائی کے لال کی ہمت ہے کہ ہماری طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھے“۔
اور فرعون وقت خود کو اس فرعون کی طرح صفائی کے دعوے کرتے تھے جو کہ مینار پر چڑھ کر خدا کی تلاش میں آسمانوں پر جانے کی کوشش کرتا تھا یہ بھی اپنے رعونت اور خودساختہ اقتدار کے تخت پہ دعوے کرتے تھے کہ ہم وہ ہیں جو جب چاہیں اور جس کو چاہیں زمین بوس کردیں یہ ”بادشاہ گر“ کاغذی خدا اپنی دانست میں اس قدر عظیم تھے ہر فرد ان کو چھوٹا نظر آتا تھا۔ یہ پروردہ تھے ان کرپٹ حکمرانوں کے جو چور کا ساتھی گرہ کٹ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اپنے سیاہ کارناموں کو چھپانے کے لئے ان کے سہارے لیتے تھے اور ان کا قلم خریدنے کے لئے اور منہ بند رکھنے کے لئے انہیں وہ سب کچھ فراہم کرتے تھے جس کی انہیں طلب ہوتی تھی یہ وہ قبیلہ تھا جو خود کو ”صحافی“ کہتا ہے اور گویا وہ ”بعد از خدا توئی قصہ مختصر“ تھے یعنی خدا کے بعد اگر طاقت کا سرچشمہ تھے تو یہی تھے یہ جو سمجھتے تھے کہ دن کو رات اور رات کو دن کہیں گے تو عالم پر فرض ہے کہ اسے تسلیم کریں۔ انہوں نے اس مقدس امانت میں ایسی خیانت کی کہ اس کی مثال نہیں ملتی یہ ہوس و حرص کے غلام حکمرانوں کے سیاہ کارناموں پر پردے ڈالنے اور ان کے سیاہ کرتوتوں کو چھپانے اور ان کے سیاہ اور بھیانک چہروں پر اپنے قلم اور الفاظوں سے انہیں پرتور بنانے کے فن میں ماہر تھے۔ یہ وہ جن کا فرض بنتا تھا کہ خلق خدا کو حقائق سے آگاہ کریں یہ چند ٹکوں کے لئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کے گناہ کے مرتکب تھے اور اس کا معاوضہ کیا تھا کروڑوں روپیہ کے اشتہارات، قیمتی ترین پلاٹس، غیر ملکی دورے، قیمتی گاڑیاں اور عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کی گئی عیاشیاں۔ یہ نام نہاد صحافت کے دعویدار دراصل اس قبیل سے تعلق رکھتے تھے جو اپنی مادی خواہشات کے بدلے میں عوام کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اس حمام میں ایک دو نہیں بلکہ سب ہی ننگے ہیں اور تاریخ میں پہلی دفعہ عمران خان نے ان کی دم پر پیر رکھ دیا ہے۔ ”کوﺅں کی ٹولی، ایک ہی بولی“ کے مصداق اپنے قلم اور اپنی زبانوں سے مخالفت کے تیر چلا رہے ہیں۔ من گھڑت جھوٹی خبریں ان کے اخباروں پر چھپ رہی ہیں ان کے چغل اور ان کے بکاﺅ مبصرین اور اینکر گڑھ گڑھ کر الزامات لگا رہے ہیں اور اس کے پس پشت صرف ایک ہی بات ہے کہ ان کا خرچہ پانی بند ہو گیا ہے ان کا سرخیل جو متعدد شہروں سے اخبار نکالتا ہے اور جس کا ٹی وی چینل کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے اس کی حالت دیکھنے کے قابل ہے کہ خود ملک سے باہر بیٹھا جائیدادوں اور زمینوں کا کاروبار کررہا ہے اور یہاں دھڑا دھڑ صحافیوں کو ملازمتوں سے نکال رہا ہے اس گروپ کو نواز شریف کی حکومت اپنے دور میں 5 ارب سے زیادہ اشتہارات کے سلسلے میں ادا کئے ہیں۔ اس کی ٹی وی کے چھ منٹ کا معاوضہ 6 لاکھ 60 ہزار روپیہ تھا جب کہ نئی حکومت نے اسے 65 ہزار کر دیا ہے تو اس کی تو ہوا نکلی ہوئی ہے اس کے علاوہ جتنے بھی ٹی وی چینل تھے ان سب کو اشتہاروں کی مد میں اربوں روپیہ ادا کئے گئے بلکہ علاقائی اخبارات تک اربوں روپیہ کی ادائیگیاں کی گئیں ہیں جو اب مختصر ترین ہو گئیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حکمران اپنے فوٹو والے دو دو صفحوں کے اشتہارات دینے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے اور اس طرح ٹی وی چینل بھیک مری کا شکار ہیں کیونکہ ان کے اینکروں کو اب لاکھوں کروڑوں دینے کی روایت ختم ہوئی ہے۔
حکومتیں تو رہیں ایک طرف صرف پورے پاکستان کی زمینوں کو ہڑپ کر جانے والے ملک ریاض نے ان اینکروں کے منہ بند رکھنے کے لئے کیا کچھ دیا ہے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ جاوید ناصر، ایک کروڑ 30 لاکھ اور ایک گھر، مبشر لقمان 2 کروڑ 15 لاکھ اور ایک پلاٹ، ڈاکٹر شاہد مسعود 60 لاکھ روپیہ پہلی قسط، کامران خان 2 کروڑ 62 لاکھ، حسن نثار ایک کروڑ 10 گھر ایک مکان، حامد میر دو کروڑ 50 لاکھ دو مرلے کا گھر، مظہر عباس 90 لاکھ، آفتاب اقبال 2 کروڑ اور ایک زرعی فارم، سہیل وڑائچ 15 لاکھ، عاصمہ بخاری 30 لاکھ، یہ تو کھ نام بلکہ ملک ریاض نے تو پاکستان کے تمام ٹی وی اینکرز سے نام اور چیک نمبر کے ساتھ تفصیل دیدی ہے جو کہ اس کے کاروبار کے بارے میں ایک لظ نہیں بولتے کیونکہ جب تک کتوں کو ہڈی ملتی رہے وہ بھونکتا نہیں ہے۔ اس طرح گزشتہ حکمرانوں نے ان ضمیر فروشوں کو جو مراعات اور زر نقد یا ہے اس کا اندازہ 4 ارب 80 کروڑ روپیہ کے قریب ہے اور اب ان کا نان نفقہ بند ہو گیا، اب ان کا بلبلانا بنتا ہے، پہلی دفعہ میڈیا کی دُم پر کسی نے پیر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں