31

آسیہ بی بی: مقدمہ، بریّت، اور تلخ حقائق

توہینِ رسالت کے جھوٹے الزام کی ملزم آسیہ بی بی کا مقدمہ سالہا سال کی اذیتّوں کے بعد ختم ہوا۔ ہماری سپریم کورٹ نے انصاف کے ایک ناممکن لمحہ میں اس پر عائد الزامات کو رد کردیا اور اس کی رہائی کا حکم دے دیا گیا۔ اس پر چند لمحوں کے لیئے انسانی حقوق کے عمل پرستوں نے خوشی منائی اور سکون کا سانس لیا۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ خوشی عارضی ہے۔ ابھی جانے کتنے معصوم اسے قسم کے جھوٹے الزامات میں جیلوں میں اذیتیں جھیل رہے ہیں۔ اور جانے کل کسی او ر کے گلے میں توہین ِ مذہب اور رسالت کے طوق ڈال دیے جایئں اور انہیں زندہ درگور کر دیا جائے۔
اس موقع پر بعض لوگ تکلفات میں سپریم کورٹ کی دلیری کی واہ واہ کرنے لگے اور لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ آج کے بعد سب اچھا ہے۔ اس قسم کی خوش فہمی اس تلخ حقیقت سے از حد بعید ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے میں مضمر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ آسیہ بی بی کی اپیل کم از کم تین سال اسی سپریم کورٹ میں لٹکتی رہی جس نے اب اس کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔
اس کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہمارے عزت مآب منصفوں نے فیصلے میں کیا لکھا ہے۔ ذرا سا بھی غور کرنے پر صرف بادی انظر میں ہی میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ فیصلہ صرف قوانینِ شہادت کی بنیاد پر کیا گیا۔ جس میں یہ کہا گیا کہ اس مقدمہ میں شہادتیں غلط تھیں، اور ان میں ربط نہیں تھا۔کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ توہینِ رسالت کے قانون کو غلط طور پر استعمال کیا گیا اور ایک معصوم کی جان خطرے میں ڈالی گئی۔
ہمارے موجود چیف جسٹس نے مجموعی فیصلہ لکھتے وقت نہایت زور دے کے واضح کیا کہ پاکستان میں توہینِ رسالت کے قوانین جائز و بر حق ہیں اور یہ کہ رسول کا احترام ہمارے ایمان کا حصہ ہیں، اگر آپ فیصلہ کو پڑھنے کی کوشش کریں تو آپ کو تقریباً ہر پیراگراف میں قرآن اور حدیث کے حوالے ہیں۔ چونکہ ہمارے ایک فاضل منصف اعلیٰ ادبی ذوق اور مطالعہ رکھتے ہیں سو انہوں نے ہر ہر ممکن جگہ پر آیاتِ قرآنی اس طرح پرو دیں، جیسا کہ فیصلہ نہ ہو مثنوی مولانائے روم کی تفہیم ہو۔
پاکستان میں توہینِ رسالت کے معاملے میں دو رائے ملتی ہیں۔ اول یہ کہ ایسے قوانین آئین میں ہونے ہی نہیں چاہیئں۔ دوئم یہ کہ ان قوانیں میں نقص ہے جس کی وجہ سے ان کا غلط استعمال اور استحصا ل ہوتا ہے۔ پاکستان کی حالیہ عمل پرست سپریم کورٹ کا یہ دعویٰ ہے کہ آئین اور قوانین کی تفہیم اس کا حق ہے اور یہ کہ اس ضمن میں اس کا فیصلہ حتمی ہے۔
آسیہ بی بی کا مقدمہ ہماری اعلیٰ عدالت کے لییے ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اس قانون کی ایک ایسی حتمی ترمیم کا حکم دے دیتی کہ، اگر اس کو منسوخ نہ بھی کیا جاتا تو کم ازکم اس کا ناجائز استعمال ایک حد تک رک جاتا۔ لیکن اس عدالت نے ایسا نہیں کیا ، شاید اس کے سامنے شہید گورنر سلمان تاثیر کا معاملہ تھا اور منصفین وہ خطرہ مول نہیں چاہتے جو سلمان تاثیر نے اختیار کیا۔ سپریم کورٹ نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ توہینِ مذہب و رسالت ، پاکستان میں ایک شدید جذباتی امر ہے، اپنے فیصلے کے ذریعہ ان جذبات کو او ر بھی مستحکم کر دیا۔ بالکل اسی طرح سے جیسے کہ اب سے پہلے مولانا مودودی اور دیگر علما کرتے رہے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں تو عدالت نے اور بھی کمال کردیا۔ فیصلہ میں لکھا گیا کہ گو اس قسم کے معاملات میں جھوٹی گواہی دینا قابلِ عمر قید جرم ہے، یہ عدالت اس معاملہ کی نزاکت کو جان کر گواہان کو یہ سزا نہیں دے رہی۔سو اس طرح سے اس نے آئندہ بھی جھوٹی گواہیوں کے امکانات قائم رکھے۔
توہینِ رسالت کے جھوٹے الزمات میں جو نا انصافی مضمر ہے ، وہ اس فیصلے کے بعد بھی قائم ہے۔ کیا یہ ناانصافی نہیں ہے کہ معصوم قرار دیئے جانے والے شخص کو ترکِ وطن اختیار کرنا پڑے ، کیونکہ ریاست اور عدالت اس کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اور یہ کہ ترکِ وطن بھی اس قدر مشکل بنادیا جائے کہ ریاست کو معصوم شخص کو چھپانا پڑے اور یہ انتظار کرنا پڑے کہ شدت پرستوں اور ظالموں کے احساسات نرم پڑیں تو اسے خفیہ طور پر فرار کر وادیا جائے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آسیہ بی بی کی طرح جانے اور کتنے معصوم ان الزامات کا شکار ہیں۔ ہماری عدالتِ عظمی نے ان مقدمات پر نظر ثانی کے لیئے کسی بھی قسم کا از خود معاملہ نہیں اٹھایا۔ اس سے یہ یہ قیاس ہوتا ہے کہ آسیہ بی بی کا معاملہ ایک عالمی مسئلہ بن گیا تھا، جس کی وجہہ سے ریاست، عدالت، اور پسِ پردہ قوتو ں نے یہ فیصلہ مصلحتوں کی بنیا د پر کیا۔ تاکہ عالمی شور دب جائے ، اور دنیا اس کو پسِ پشت ڈال کر آگے بڑھے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ہمیں اس قسم کے معاملا ت کے سدھار کی کوئی صورت نظر نہیں ہے۔ ہم نے پہلے کہا تھاکہ توہینِ مذہب کے معاملے میں دو رائے ہیں۔ ہم اس رائے سے متفق ہیں جو یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے قوانین کو منسوخ کر دینا چاہیے۔ اور یہ کہ ریاستی قوانیں مذہب کی بنیا د پر نہیں بننا چاہیے۔ لوگ اسے دیوانے کی بڑ سمجھ سکتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہماری توقعات پوری ہونے کو ئی امکان نہیں ہے۔ لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بہتری کی راہ سجھاتے رہیں۔ چاہے ہمار ا پیغام چند ہی لوگوں پر اثر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں