Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 109

غریب مخالف متحرک

پاکستان میں ان دنوں سارے کرپٹ عناصر متحرک ہوگئے ہیں۔ چاہے ان کا تعلق سیاست سے ہو، کاروبار سے ہو یا پھر سرکاری ملازمتوں سے۔ سب کے سب دھیرے دھیرے ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے عمران خان کی حکومت کو فی الحال تو کم لیکن آنے والے وقتوں میں بڑی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کرپٹ عناصر میں خود حکومتی کیمپ میں شامل سیاستدان اور بیوروکریٹس بھی شامل ہیں جب کہ میڈیا اس سارے گورکھ دھندے میں حکومت مخالف عناصر کی حوصلہ افزائی کرکے کسی حد تک اپنے اشتہارات کی بندش کا غصہ نکال رہا ہے۔ میڈیا مالکان ایک منصوبے کے تحت اپنے ہی ہاتھوں نکالے جانے والے اخباری کارکنوں کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور وہ اخباری کارکنان بھی گائے بھینسوں کی طرح سے بیل چال چلتے ہوئے اپنے نکالے جانے کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ عوام کو کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟ وہ کیوں قومی لٹیرے سیاستدانوں کی باتوں میں آکر کرپشن کے خلاف چلائی جانے والی حکومتی مہم کو ناکام بنانے کے لئے دوسروں کا آلہ کار بن رہے ہیں۔ کیا ملکی عوام کو اپنے ان تمام سیاستدانوں کی حرکات کا علم نہیں؟ کیا اس سے پہلے کسی حکومت نے عوام کی فلاح کے لئے کوئی ایک بھی کام کیا؟ جس طرح سے عمران خان نے آتے ہی سڑکوں پر رہنے والے بے گھر افراد کے لئے ہر شہر میں شیلٹر ہوم بنوائے۔ اس کے بعد اب ہر پاکستانی کے لئے ہیلتھ کارڈ کا اجراءکر رکھا ہے تانکہ کوئی غریب شخص رقم نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کے سبب ہلاک نہ ہو اور بیوہ خواتین کے لئے بہبود فنڈ جاری کررہے ہیں یہ وہ بنیادی کام ہیں جن کا براہ راست تعلق نہ تو ان سیاستدانوں سے ہے نہ ان بیوروکریٹس تاجروں اور میڈیا والوں سے ہے ان کا تعلق پاکستان کے 20 کروڑ غریب عوام سے ہے اگر ان پسے ہوئے غریب عوام کی فلاح کے لئے عمران خان کی حکومت کچھ کرنے کا عزم رکھتی ہے تو یہ سیاستدان اور میڈیا والے یک زبان ہو کر عمران خان کی حکومت کی ناکامی کا الزام لگا کر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا میڈیا والے اور یہ سیاستدان یہ نہیں چاہتے کہ کوئی حکومت غریب عوام کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کرے اور ان کی آواز بن جائے اور عوام کا پیسہ سیاستدانوں اور میڈیا کی تجوریوں میں جانے کے بجائے عوام پر خرچ ہو۔۔۔ یہ سیاستدان اور میڈیا والے کبھی مہنگائی کا واویلا مچا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ ملکی صورتحال اس کے برعکس ہے، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اکنامک پالیسی دُرست سمت پر جارہی ہے۔ تباہ حال ملکی ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر آمدنی کا باعث بن رہے ہیں، یہ وہ انقلابی تبدیلیاں ہیں جو نہ تو ان سیاستدانوں سے دیکھی جارہی ہے اور نہ ہی میڈیا سے۔۔۔ انہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اگر عمران خان کی حکومت نے اپنی مدت پوری کرلی تو اس کے بعد نہ تو ان سیاستدانوں کا کاروبار چل سکے گا اور نہ ہی میڈیا کا۔ اس لئے وہ سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اس حکومت کو ناکام بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ آصف علی زرداری نے تو اعلان کردیا کہ اگر میڈیا اس حکومت کو گرانے میں اپنا کاندھا ہمارے ساتھ ملا دے تو حکومت جلد ہی گر جائے گی۔ یہ عزائم اور خواہش دوسری سیاسی جماعتوں کے بھی ہیں اندرونی طور پر وہ میڈیا مالکان کی مدد بھی کررہے ہیں کہ وہ اسی طرح سے ہر اچھے حکومتی کاموں کی تشہیر سے پہلو تہی کرے اور ان پر اس طرح سے تنقید کریں کہ ملکی عوام اور فوج ان کی مخالف ہو جائے اور حکومتی چلنے نہ پائے۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ اپنی پارٹی اور اپنی کابینہ کو ساتھ میں لے کر چلنے کی کوشش کریں۔ ان کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کریں اس لئے میڈیا اور اپوزیشن والے ان ہی حکومتی کمزوریوں سے کھیلنے کی کوشس کررہے ہیں وہ حکومتی اتحاد میں دراڑ ڈالنے کے لئے سرگرداں ہو گئے ہیں وہ ایسا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو نقصان ہو ان کے نزدیک عمران خان اور اس کی حکومت ان کے لئے موت سے کم نہیں۔ اس لئے وہ خود کو اپنی جانب بڑھنے والے اس موت سے بچانے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کررہے ہیں جس سے یہ حکومت ختم ہو یا کمزور ہو۔ زرداری اور نواز شریف دونوں نے بوریوں کا منہ کھول دیا ہے اور لوٹی ہوئی قومی دولت عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے پانی کی طرح سے بہا رہے ہیں اور اس لوٹی ہوئی دولت سے اب بھی میڈیا والے ہی زیادہ مستفیض ہو رہے ہیں اس لئے ساری میڈیا نے یک زبان ہو کر عمران خان اور اس کی حکومت کی مخالفت میں یکطرفہ جنگ کا بگل بجا دیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کو زیادہ سے زیادہ متحرک کرکے کرپٹ میڈیا کے مقابلے میں میدان میں لائے تاکہ ان کے گمراہ کن پروپیگنڈے کے اثر کو زائل کیا جاسکے۔ جب کوئی اس حد تک گر جائے تو اس کا اس کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہیں رہتا۔ یہی ملکی عوام کی آواز ہے اور اسی میں بدلتا ہوا پاکستان مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں