Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 135

کینوس

عمیر نے سگریٹ کا ایک آخری کش لیا اور اسی میز پر مسل دیا جس پر اس کا کیونس جما ہوا تھا۔ میز پر رنگوں کی اتنی تہیں چڑھ چکی تھیں کہ اس کا اصل رنگ غائب ہو چکا تھا۔ اس نے سگریٹ کے ٹوٹے کو فرش پر اچھال دیا۔ فرش پر جا بجا سگریٹ کے ٹوٹے بکھرے ہوئے پڑے تھے اور چائے کے خالی کپ لڑھک رہے تھے۔ اس نے بُرش اُٹھایا اور آخری مرتبہ تصویر کی نوک پلک دُرست کرنے لگا، کام ختم کرکے اس نے برش کو صاف کرکے ایک طرف رکھا، تصویر پر ایک نظر ڈالی اور خوشی سے جھوم اُٹھا۔ وہ مسلسل 20 دن سے اس تصویر کو مکمل کرنے میں مصروف تھا۔ بلاشبہ یہ تصویر فن مصوّری کا ایک عظیم شاہکار ثابت ہوگی۔ اس تصویر سے اسے بہت سی اُمیدیں وابستہ تھیں۔ یہ اسے فن کی بلندیوں تک پہنچا سکتی تھی اور اس کے معاشی حالات بھی بہتر ہوسکتے تھے۔ تصویر میں اسے تصویروں کی نمائش میں اس تصویر کے سامنے لوگوں کا ہجوم نظر آرہا تھا اور ہر طرف سے واہ! واہ! کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ اس نے ایک انگڑائی لی، اب وہ سکون سے سو سکتا تھا۔ کل صبح اسے یہ تصویر تصویروں کی نمائش میں لے جانا تھی۔ بہت منّت سماجت کے بعد نمائش کے منتظمین اس کی تصویر نمائش میں رکھنے پر رضا مند ہوئے تھے۔ بہرحال دوسرے دن وہ تصویر لے کر نمائش پہنچا۔ منتظم نے اس کو دیکھ کر بُرا سا منہ بنایا۔ عمیر نے تصویر پر لپٹے ہوئے کاغذ کو ہٹا کر اُسے دکھانا چاہا لیکن اس نے کہا ”نہیں نہیں، بند رہنے دو اور اسے یہاں کونے میں رکھ دو، ابھی دوسری تصویروں کے ساتھ اسے بھی ہال میں لے جائیں گے“۔ پھر بھی عمیر نے تصویر کاغذ سے نکال کر اس کے سامنے کردی۔ اس کا خیال تھا کہ تصویر پر نظر پڑتے ہی منتظم اپنی کرسی سے اُچھل کر کھڑا ہو جائے گا اور حیرت سے گنگ ہو کر رہ جائے گا لیکن اس کے برعکس منتظم نے بے زاری سے تصویر پر ایک نظر ڈالی اور کہنے لگا ”اچھا اچھا ٹھیک ہے وہاں کونے پر رکھ دو“ عمیر کو اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آیا۔ اتنا عظیم شاہکار اور اس شخص نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اس نے بے دلی سے تصویر کو دیوار کے سہارے رکھ دیا اس نے سوچا شاید اس شخص کو صرف نمائش کرانے سے دلچسپی ہے۔ فن، فنکار اور آرٹ کے بارے میں یہ بالکل کورا ہے۔ نمائش شروع ہوئی، عمیر تصویر سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو کر لوگوں کو آتے دیکھ رہا تھا، لوگ آرہے تھے اس کی تصویر پر ایک نظر ڈالتے اور آگے بڑھ جاتے، کسی بھی قسم کے احساس سے عاری چہرے، اس کا دل ڈوبنے لگا، کیا میری تصویر ایک بالکل عام سی تصویر ہے۔ وہ تھک کر قریب پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد اچانک اسے ایک آواز سنائی دی۔ واہ! کیا شاہکار ہے۔ جواب نہیں۔۔۔ عمیر کرسی سے اچھل کر کھڑا ہو گیا اور حیرت سے اس لڑکی کی طرف دیکھنے لگا جو اس کی تصویر کے سامنے کھڑی تھی، لڑکی نے ادھر ادھر نظر گھمائی، عمیر سمجھ گیا کہ وہ اس تصویر کے خالق کی تلاش میں ہے، وہ جھجھکتا ہوا آگے بڑھا۔ لڑکی نے ایک نظر عمیر پر ڈالی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ میرا خیال ہے کہ میں اس تصویر کے خالق سے تعارف حاصل کررہی ہوں!!! آپ کو کیسے علم ہوا؟ عمیر نے حیرت سے پوچھا کیوں کہ یہ تصویر خود اپنے خالق کا پتہ دے رہی ہے۔ لڑکی نے مسکرا کر کہا۔۔۔ کیوں نہ وہاں بیٹھ کر مکمل تعارف کا تبادلہ ہو جائے۔ لڑکی نے قریب بچھی ہوئی میز کرسیوں کی طرف اشارہ کیا جہاں کچھ لوگ بیٹھے چائے اور اسنیک سے شغل کررہے تھے۔ بالکل۔۔ بالکل۔۔ آئیے عمیر نے لڑکی سے کہا۔ وہ دونوں آکر کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ عمیر نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہنے لگا۔
تعجب ہے میں کافی دیر سے یہاں کھڑا لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کسی پر بھی اس تصویر کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ جب کہ میں نے اپنی ساری محنت اس تصویر پر صرف کردی ہے۔ اس کے چہرے پر اُداسی چھا گئی۔ عمیر کی بات سن کر وہ لڑکی ہنس دی۔ اور کہنے لگی ”مجھے بھی حیرت ہے کہ آپ ان جیسے لوگوں سے یہ توقع کررہے ہیں کہ یہ اس تصویر کو سمجھ پائیں گے اس طرح کی نمائشیں دراصل ان نمائشی لوگوں کے لئے ہوتی ہیں، آسودہ حال، مطمئن، خوش حال، دُکھ کسے کہتے ہیں یہ کیا جانیں کیونکہ اس طرح کی نمائش میں ان ہی جیسے مالدار لوگوں کی بنائی ہوئی تصاویر رکھی جاتی ہیں۔ جنہیں پیسہ نہیں صرف نام چاہئے ہوتا ہے۔ کینوس پر اُلٹے سیدھے رنگ پھیلا کر طرح طرح کے نام دے دیئے جاتے ہیں یہ ڈوبتے سورج کی عکاسی ہے تو یہ طلوع ہوتے کی عکاسی ہے اور نمائش کے منتظم بھی ان کے آگے پیچھے پھر رہے ہوتے ہیں اور ان کی بے ڈھنگ تصاویر کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں۔ جب کہ کسی بھی زاوئیے سے دیکھ لیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ آخر یہ کیا بنایا گیا ہے اور آپ کی تصویر اس نے سنجیدہ ہو کر کہا ایک عورت کی تصویر ہے۔ جو دُکھ، غم اور معاشرے کی بے حسی پر ماتم کنا ہے۔ عورت جو ماں ہے، بیوی ہے، بہن ہے، بیٹی ہے اور داشتہ ہے وہ اپنے تمام دُکھ اپنی آنکھوں میں سمیٹ لیتی ہے اور آنسوﺅں میں بہا دے دیتی ہے اور آپ نے وہ تمام دُکھ بسنے سے پہلے ہی اُجاگر کردیئے ہیں۔ اس تصویر کی آنکھوں میں بھرے دُکھ پڑھے جا سکتے ہیں اور یہ صرف وہی پڑھ سکتا ہے جو ان تمام دُکھوں کی کسی ایک لہر سے ہی ٹکرا چکا ہو۔ عمیر نے محسوس کیا کہ وہ لڑکی کافی سنجیدہ ہو چکی ہے۔ لہذا اس نے ماحول بدلنے کے لئے اچانک پوچھا۔۔۔ ارے میرا خیال ہے کچھ چائے وغیرہ پی لی جائے۔ معافی چاہتا ہوں، میں باتوں باتوں میں بالکل ہی بھول گیا۔ آپ ایک منٹ بیٹھیں میں چائے لے کر آتا ہوں، جب تک عمیر چائے لے کر آیا، لڑکی اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی۔ لڑکی نے چائے کا ایک گھونٹ بھرا، پھر چاروں طرف نظر دوڑا کر کہنے لگی، یہ تمام احساسات سے عاری لوگ ہیں ان کی سوچ صرف اپنی ذات تک محدود ہے اور ویسے بھی آپ کو معلوم ہے ہم لوگ ایک طرح سے حالت جنگ میں ہیں۔ اچانک آگے بیٹھا ہوا ایک آدمی گھوما اور کہنے لگا۔ کیا کہہ رہی ہیں آپ کیا جنگ ہو گئی ہے، لڑکی نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور درشتی سے کہنے لگی کوئی جنگ ونگ نہیں ہوئی ہے ہم لوگ آپس میں بات کررہے ہیں آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔ اوہ اچھا وہ آدمی پلٹ گیا۔ میں سمجھا جنگ شروع ہو گئی ہے۔ دیکھا آپ نے لڑکی نے آہستہ آہستہ سے کہا۔ آپ آپس میں بات کررہے ہوں، کوئی نہ کوئی انجانا آدمی بیچ میں ٹانگ اڑا دے گا۔ یہ بھی حالت جنگ کی ایک صورت ہے، لڑکی نے ہنستے ہوئے کہا۔ بہرحال میں یہ کہہ رہی تھی کہ آپ کی تصویر غلط جگہ پر ہے۔ یہاں وہ لوگ آتے ہیں جو کسی مشاعرے، ادبی محفل، آرٹ کی نمائش وغیرہ میں صرف اس خیال سے جاتے ہیں کہ سوسائٹی میں ان کی موجودگی کا احساس رہے۔ کسی شاعر کا تخیل، اس کی سوچ، احساس کسی مصور کا تصور ان کے ذہن کو چھو کر بھی نہیں گزرتا۔ شعر کی گہرائی میں اُترے بغیر ان کی واہ واہ کی تکرار جاری رہتی ہے۔ بہرحال آپ فکر نہ کریں، میں آپ کی تصویر کو اس کا جائز مقام ضرور دلواﺅں گی۔ آپ کی تصویر ملک سے باہر کسی نمائش میں داد تحسین حاصل کرے گی۔ یہاں آپ جیسے لوگوں کی کوئی قدر نہیں ہے۔ ہمارے دیس کے لوگ جب بددل ہو کر دوسرے ممالک جاتےہیں اور وہاں کوئی مقام حاصل کرتے ہیں تو شکایت ہوتی ہے کہ ان کو اپنے ملک میں رہ کر خدمت کرنا تھی اور یہاں کوئی قدر ہی نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں