Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 49

تنظیم‌ (چوتھا حصہ)

جزیرہ سسلی اٹلی کے ایک صوبے کی مانند تھا ۔اور اس کا سب سے بڑا شہر پالیرمو تھا جہاں اس تنظیم مافیا (کوسا نوسترا) کا کنٹرول ہونے کی وجہ سے یہ شہر بدنام ہوچکا تھا۔دوسرے شہروں کے رہنے والے پالیرمو کے رہنے والے تمام لوگوں کو مافیا کے گرگے اور جرائم پیشہ سمجھتے تھے جب کہ وہاں بے شمار لوگ اچھّے اور تعلیم یافتہ تھے اور وہ خود اس تنظیم سے تنگ آئے ہوئے تھے لیکن یرغمال کی کیفیت میں تھے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ یہاں رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد تنظیم کے ساتھ تھی لیکن ایک بڑی تعداد ان سے بیزار بھی تھی وہ بندوقوں کے سائے میں رہ رہے تھے اور اپنے جان و مال کی خیر کے لئے اپنی زبان بھی بندرکھتے تھے۔ورنہ موت ان کا مقدّرتھی۔بہرحال پالیرمو میں اس جنگ کے ایک مہینے بعد لابیر باراس پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن وہ بچ نکلا اس کے اگلے مہینے ایک کار میں بم ہونے کی اطلاع پر ملٹری آفیسر اور پولیس کے جوان بم ناکارہ کرنے کی غرض سے جائے مقام پر پہونچے یہ کار بم سسلین مافیا کمیشن یا مرکزی کمیٹی کے سربراہ سلواتور گریکو کو قتل کرنے کی نیت سے لگایا گیا تھا اور اس کے پیچھے مافیا کے ایک باس پیترو توریتا کا ہاتھ تھا بم ناکارہ کرنے کے دوران اچانک پھٹ پڑا اور ایک پولیس آفیسر اور ملٹری کے چھ جوان ہلاک ہوگئے۔اس واقعے سے پورے ملک میں غم و غصّے کی لہر دوڑ گئی مجبوراً حکومت کو سخت قدم اٹھانا پڑا ایک بڑے آپریشن کے دوران تقریباً دو ہزار افراد گرفتار ہوئے۔مافیا کی کارروائیاں وقتی طور پر رک گئیں بہت سے مافیا ممبر روپوش ہوگئے۔ سسلین مافیا کمیشن ٹوٹ گیا، مافیا تنظیم وقتی طور پر تو کمزور ہوگئی تھی لیکن جڑ سے ختم نہیں ہوئی تھی۔ ایسی جرائم پیشہ تیظمیں اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوتی ہیں۔ دراصل جب کسی جرائم پیشہ تنظیم یا سیاسی پارٹی میں طاقت کا توازن قائم نہیں رہتا جب چاہا کسی کو طاقت دے دی اور جب چاہا چھین لی اس سے متاثّر ہونے والوں کی عزّت نفس پر بار بار حملہ ہوتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بغاوت کے جراثیم جنم لینا شروع ہوجاتے ہیں۔ 31 مئی 1965ءکو جج تیرا نووا پالیرمو کی اس جنگ میں ملوّث 114 افراد کو عدالت میں کھینچ لایا یہ 114 افراد کوئی معمولی لوگ نہیں تھے، بڑے بڑے نام اور حکومتی حلقوں میں اونچے تعلقات والے لوگ تھے لہذا صرف دس افراد کو سزا ہوئی اور باقی سب بچ نکلے لیکن یہ لوگ مالی طور پر کمزور ہوچکے تھے، مقدمات میں پانی کی طرح پیسہ بہایا، ناجائز آمدنی کے دروازے فی الحال بند تھے۔ لیکن جج سیزر تیرانووا بھی اپنی دھن کا پکا تھا، اس نے ہمت نہ ہاری اور تنظیم کے پیچھے لگا رہا، اس نے تنظیم کے دس اہم باس کا پتہ لگایا، ان میں سے ہر شخص تنظیم کے کسی ایک گروپ کا باس تھا، سیزر نے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا، وہ ان جرائم پیشہ افراد اور سیاسی لیڈران اور اہم حکومتی شحصیات کے درمیان خفیہ تعلقات کا پتہ لگانا چاہتا تھا۔ اس نے ایک اہم سیاست دان سلواتور لیما کی نشاندہی کی جو پالیرمو کا میئر بھی تھا اور اس کی عوامی حلقوں میں کافی عزت تھی، اس کے تنظیم کے باس اور ا س کے اہم ارکان کے ساتھ قریبی تعلّقات تھے۔ لیکن ان تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہ نکلا کیونکہ تنظیم ابھی اتنی کمزور نہیں ہوئی تھی اور اس کا بُرا اثر سیزر تیرانووا کے آنے والے وقتوں پر پڑا، جج تیرانووا کی بڑی خواہش تھی کہ تنظیم کے ایک اہم اور خطرناک باس کو عدالت میں کھینچ لائے اور اسے سزا دلوائے اس کا نام ” لوچیانو لیگیو“ تھا جس کا تعلق پالیرمو کے ایک علاقے کورلیون سے تھا اور وہ کورلیون علاقے کا فیملی باس تھا اور بہت ہی اثر و رسوخ کا مالک تھا۔ ہر شہری علاقے کا مافیا کا باس اس علاقے کا فیملی باس کہلاتا تھا، کورلیون بھی پالیرمو کا علاقہ تھا جو اس تنظیم اور اس کے سربراہان کا جائے پیدائش تھا۔ کور لیون غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا علاقہ تھا۔ عموماً جرائم کچھ غریب علاقوں سے اس وقت جنم لیتے ہیں جب نوجوان نسل معاشرتی نا انصافی کا شکار ہوتی ہے وہ اپنے آس پاس مجبور اور بے بس لوگوں کو دیکھتے ہیں جن کی فلاح کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا تو ان میں جرم اور بغاوت کے جراثیم جنم لینا شروع ہوجاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اور ہمارے ساتھ یہ تمام لوگ اسی طرح محنت کر کر کے اسی غربت میں دم توڑدیں گے۔نہ وہ کبھی غربت کا خاتمہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں کوئی مقام حاصل کرسکتے ہیں لہذا جلد سے جلد امیر بننے کی خواہش انہیں جرائم کی طرف راغب کرتی ہے۔وہ کسی جرائم پیشہ تنظیم کے قریب آجاتے ہیں اور اس قسم کی تنظیموں کو معاشرے سے باغی اور مایوس نوجوانوں کی تلاش ہوتی ہے لہذا وہ ان کو مز ید بھڑکا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ان نوجوانوں کے پاس پیسہ تو نہیں ہوتا لیکن ذہن زرخیز ہوتے ہیں اور جب یہ ذہن تخریب کی طرف جاتے ہیں تو تباہی مچادیتے ہیں ان کا جرم کی راہ اختیار کرنے کا طریقہ جدا جدا ہوتا ہے کچھ کند ذہن صرف جیب کترا بننے پر اکتفا کرتے ہیں لیکن بعض لوگ اس سے بہت آگے کی سوچتے ہیں لہذا جب پالیرمو کے اس چھوٹے سے علاقے کورلیون سےجرائم کی ابتدا ہوئی تو یہاں جنم لینے والے بے شمار لوگ اس راہ میں بہت آگے نکلے یہ علاقہ ایسا تصوّر کیا جانے لگا کہ جیسے یہاں رہنے والا ہر شخص مافیا کا اہم باس ہے۔یہاں تک کہ فرضی کردار مثلاً گاڈ فادر کا کردار ویٹو کورلیونی اسے بھی کورلیون کے ساٹھ منصوب کردیا گیاحالانکہ وہ کردار فرضی اور صرف فلم کی حد تک تھا۔بہرحال جج تیرا نووا کو یہ موقع 1965ءمیں مل گیا۔اور اس نے لیگیو اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے افراد جو کورلیون کے ہی رہنے والے تھے سب کو عدالت میں کھینچ لیا تمام ثبوت کے ساتھ ان پر یہ الزام ٹھا کہ یہ سب 1958ءسے 1963ءتک کورلیون میں ہونے والے قتل میں ملوّث تھے۔ان مقتولوں میں مافیا کا بہت اہم اور مشہور باس مائیکل ناوارا بھی تھا جو کورلیون میں پیدا ہوا ڈاکٹر بن گیا 1942ءتک اٹالین آرمی میں کیپٹن کے عہدے پر رہا لیکن در پردہ مافیا کا اہم باس تھا۔ ایسے بے شمار لوگ ہوتے ہیں جن کی پیشے کے لحاظ سے معاشرے میں بہت عزّت ہوتی ہے ۔اور کسی کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ ان کا تعلّق جرائم پیشہ تنظیم سے بھی ہوسکتا ہےایک مرتبہ گرفتار بھی ہوا لیکن اہم سیاست دانوں سے تعلّقات کی بنائ پرجلد ہی رہا بھی ہوگیا لیگیو سمیت 64 افراد عدالت میں پیش ہوئے لیکن وہی ہوا کہ سب کے سب رہا ہوگئےلیگیو پر معمولی سا جرم ثابت ہوسکا جو کہ 1948ءمیں اناج کی چوری سے متعلّق تھا بہرحال لیگیو جیسا خطرناک شخص بھی رہا ہوچکا تھا اس فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل داخل ہوئی 1970ءمیں اس پر جرم ثابت ہوگیااور اسے سزا ہوگئی لیکن تھوڑے عرصے بعد ہی وہ جیل سے فرار ہوگیا 1974ءمیں پھر پکڑا گیا اور اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ جج تیرانووا آزاد امیدوار کی حیثیت سے پارلیمانی الیکشن جیت چکا تھا لیکن در پردہ اٹالین کمیونسٹ پارٹی کا سپورٹر تھا، جج تیرانووا اینٹی مافیاکمیشن کا سکریٹری بنادیاگیا یہ کمیشن پارلیمنٹ کے اہم ممبران اور سینیٹرز پر مشتمل تھا 1976ءمیں دوبارہ الیکشن جیتنے کے بعد اینٹی مافیا کمیشن کی رپورٹ میں اس نے اہم سیاست دانوں اور مافیا کے درمیان تعلّقات کی نشاندہی کی خاص طور پر کرسچین ڈیمو کریٹ پارٹی کے ممبران اور مافیا کے تعلّقات اس نے رپورٹ میں لکھا کہ اگر کمیشن کے ممبران یہ تصوّر کرلیں کہ سیاست دانوں اور مافیا کے درمیان تعلّق ختم ہوگیا ہے تو یہ ایک سنگین غلطی ہوگی جب کہ آج بھی سٹی اور صوبائی محکموں میں تمام کام مافیا تنظیم کی مرضی سے ہی ہوتے ہیں جج تیرا نووا کی ان تمام کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ وہ دوبارہ الیکشن نہیں جیت سکا لیکن جون 1979ءمیں تیرانووا کو پالیرمو کی عدالت میں مجسٹریٹ کے عہدے پر دوبارہ بحال کردیا گیا اس کے تین مہینے بعد جج تیرانووا کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا۔وہ اپنی کار میں اپنے باڈی گارڈ اور ڈرائیور کے ہمراہ تھا اس حملے میں باڈی گارڈ اور ڈرائیور بھی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے لیگیو جو کہ پہلے ہی عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا اور جیل میں بیٹھ کر ہی احکامات جاری کیا کرتا تھا اس پر الزام آیا کہ تیرانووا کا قتل اس کے حکم پر ہی ہواہے ۔لیکن مناسب ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس پر سے الزام ہٹ گیا اور قتل کا یہ کیس فائلوں میں ہی کہیں دفن ہوگیا ۔یہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ ہر طرف مافیا کا راج تھا اور جب اس کا سزا یافتہ باس اس شہر کی جیل میں بیٹھ کر یا کہیں بھی بیٹھ کر احکامات جاری کرتا ہے تو پھر جرائم کا خاتمہ زرا مشکل ہوجاتا ہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ کبھی نا کبھی جرم کو اس کی سزا ضرور ملتی ہے یہ میرا ایمان ہے مظلوموں کی آہ کبھی خالی نہیں جاتی ظلم اور بے گناہوں کا خون بہانے کا حساب ایک نا ایک دن ضرور دینا پڑتا ہے چاہے پوری قوم کی آنکھوں پر پٹّی بندھی ہو اور پھر اس کا حساب اوپر والے کے ہاتھ میں ہے انسانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے اس کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں18 سال بعد اس قتل کا کیس دوبارہ کھولا گیا۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں