91

خواتین کا عالمی دِن: اڑتیس سال قید، ایک سو پچاس کوڑے

کیا یہ ایک خوفناک مزاق نہیں ہے کہ جس دن دنیا بھر کی خواتین ، اپنا عالمی دن منا رہی تھی، تقریباً اسی وقت ایران میں خواتین اور انسانی حقوق کی عمل پرست وکیل کو حق پرستی اور عمل پرستی کی پاداش میں اڑتیس سال قید اور ایک سو پچاس کوڑوں کی سز ا سنائی جارہی تھی؟ نسرین ستودہ ایران میں ان خواتین کی وکالت کرتی تھیں جن پر ریاست بسا اوقات ایران میں چادر اور چار دیواری کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے مقدمے دائر کرتی ہے۔ نسرین پر ریاستی سیکوریٹی قوانین کی خلاف ورزی اور جاسوسی جیسے رکیک الزامات بھی لگائے گئے تھے۔
اس سزا کے تناظر میں ہمیں گزشتہ دنوں پاکستان میں خواتین کے عالمی دن کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔ دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان کی خواتین نے بھی اپنا عالمی دن منانے کی کوشش کی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کے عالمی حقوق کی تحریک ابھی نشو و نما کی اولین دہلیزوں پر ہے۔ جیسے جیسے پاکستانی خواتین کو جدید وسائلِ ابلاغ کو استعمال کرنے کا اور اپنی آوار اٹھانے کا موقع مل رہا ہے، رفتہ ان کی جدو جہد کی بات کچھ آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ جدو جہد قیامِ پاکستا ن ہی سے شروع ہوگئی تھی۔ جب سے اب تک کسی بھی غیرترقی یافتہ اور بالخصوص غیرترقی یافتہ مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی خواتین ظلم سہنے اور سختیاں جھیلنے پر مجبور ہیں۔جنرل ضیاءکے چادر اور چاردیواری کے قوانین ان کی اہم مثال ہیں۔ آپ ان قوانین کا تقابل ایران کے سخت ترین اور رکیک قوانین سے بھی کر سکتے ہیں.
جب جب بھی وہ اپنی آواز اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں، ان پر روایتی پدرانہ نظام کی سختیا ں اور بھی بڑھتی جاتی ہیں۔ یہی اس سال کے عالمی دن اور مارچ پر بھی ہوا۔ ایک طرف تو سوشل میڈیا اور قومی وسائلِ ابلاغ میں ان کے بارے میں کچھ خبریں آئیں، وہیں اس سے کہیں زیادہ ان کے خلاف پاکستان میں دایئں بازو کے ہرزہ سرا رائے نگاروں کی خرافات بھی پھیلیں.

بدقسمتی سے اس خرافات کو پھیلانے میں پاکستان کے اہم اردو میڈیا کا ، جس میں جنگ سرِ فہرست ہے، گھناﺅنا کردار بھی شامل ہے۔ مثئلاً جنگ کے رائے نگار انصار عباسی نے حقوق نسواں کی عمل پرستی کی جس طرح کردار ک±شی کی اسے فحاشانہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے کالموں میں خواتین کے ایسے بینروں ، پلے کارڈوں، اور نعروں کے حوالے دیئے ، جو قیاساً ان گھ±س بیٹھیوں کی کاروائی ہو، جو ظالموں کے پروردہ ہیں اور ہر تحریک کو ناکام بنانے میں منہ چھپا کر شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح تحریکِ انصا ف میں شامل انتہائی زہریلی شخصیت عامر لیاقت نے بھی ایسی ہی خرافات لکھی۔ انہوں نے تو یہ تک لکھا کہ یہ غیر ملکی سازش ہے اور حکومت کو ان سب انجمنوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہیے جو یہ جلسے اور احتجاج منعقد کرتی ہیں۔ یہ تو ایک طرح سے ایرانی خیالات ہی کی توسیع ہے۔ حیرانی یہ ہے کہ خود تحریکِ انصاف میں اس قسم کے خیالات کے خلاف فکر ہونے کے باوجود ان جیسی شخصیات کو برداشت کیا جاتا ہے۔ یعنی سنگ و خشت مقید اور سگ آزاد رہتے ہیں۔
پاکستان میں خواتین کی ابھرتی ہوئی عمل پرستی کی مخالفت صرف روایتی دایئں بازو کے شدت پسندوں ہی کی طرف سے نہیں ہوتی۔ بدقسمتی سے اس میں وہ آزاد خیال اور معتدل مزاج رائے نگار اور دانشور بھی شامل ہو جاتے ہیں ، جو کبھی مغرب مخالفت یا سامراج مخالفت میں ان تحریکوں کو ایک خاص رنگ کے چشموں سے دیکھتے ہیں۔ وہ تحریکِ نسواں کے اس بنیادی اصول کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ، یہ تحریکیں صرف اور صرف معاشرہ میں مردوں اور عورتوں بلکہ سب انسانی جنسوں کی مساوات اور یکساں حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ خواتین کو پدرانہ معاشروں میں مختلف اور شدید مظالم اور تشدد سے محفوظ کیا جائے۔ انہوں نے کبھی بھی کسی جنس ، نسل ، یا مظلوم طبقہ پر برتری کا مطالبہ نہیں کیا۔
حیران کن طور پر خواتین صرف غیر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ہی میں پسماندہ نہیں ہیں ، بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ابھی مکمل مساوات ان کی دسترس سے دور تر ہے۔ ان ممالک اور ان معاشروں میں بھی یہ پدرانہ اور مذہبی روایت ہی کا نتیجہ ہے۔ فی زمانہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دایئں بازو کی متعصب سیاست کے نتیجہ اور وہاں انجیلی طبقات کے دباﺅمیں اور خود صدر ٹرمپ کے ذاتی رویوں کے تحت بھی خود امریکہ میں حقوقِ نسواں کی تحریکیں مشکل کا سامنا کر رہی ہیں۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، ہم ایک نہایت قلیل اقلیت کی دلیرانہ کوششوں کے باوجود خواتین کے حقوق اور مساوات کے معاملہ میں انتہائی پسماندہ ہیں۔ من حیث القوم ہم، دراصل خواتین کے خلاف سعودی ، ایرانی، پدرانہ اور مذہبی روایات ہی کی تو سیع ہیں۔ اس کی مثالیں روز انہ ہی خواتین پر تشدد ، عزت کے نام پر قتل، اور خواتین کے ساتھ زیادتیوں کی صورت میں ملتی ہیں۔
حال ہی میں افضل کوہستانی کا قتل اس کی ایک اور بہیمانہ مثال ہے۔ اس کے ساتھ ہم ایک ایسے دو رخے معاشرہ کے رکن ہیں جس میں ایک طرف تو فلموں، ڈراموں ، اور فیشن کے اشتہاروں میں خواتین کا ایک رُخ دکھایا جاتا ہے، دوسری جانب لیاری میں بسنے والی نوجوان گلوکار ایوا بلوچ ہے، جو اپناجدید گانا صرف منہ چھپا کے پیش کر سکتی ہیں۔
پاکستان کے ہر رائے نگار ااور رائے ساز پر لازم ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کی ہر جدوجہد میں ان کا ہم قدم اور ہم آاواز ہو۔ اس کی ذمہ داری مردوں پر خواتین سے بھی کہیں زیادہ ہے کیونکہ مردبہ ہر طور پر طاقت ور ہیں، اور دانستہ یا نا دانستہ ظلم کے مددگار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں