72

سیاستدان یا وبالِ جان

کیا نام دوں ملک کے ان رکھوالوں کو اور کیا نام دوں عوام کے ان سیاسی شعبدہ بازوں کو جو عوام کا نام لے لے کر اور بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگا کر ووٹ حاصل کرتے ہیں اور پھر کبھی وزیر، کبھی مشیر، کبھی صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر کے عہدہ پر فائز ہو کر نہ صرف تمام مراعات استعمال کرتے ہیں بلکہ عام کی فلاح و بہبود کے لئے دیئے گئے فنڈز تک بغیر ڈکار لئے کھا جاتے ہیں۔ یوں تو ان کا کبھی احتساب ہو نہیں سکتا اور کبھی کوئی من چلا جج یا نیب کا کوئی سر پھرا افسر اگر ان کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال بھے دے تو یہ جمہوریت کو خطرہ میں بتا کر اور عوام کے نمائندے بن کر کلین چٹ حاصل کرتے ہیں اور تمام سرمایہ ملک سے باہر بھجوا کر ان کے بچے عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہی کچھ آج کل دیکھنے میں آرہا ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا گیا تو اُن کے گھر سے لاکھوں روپیہ کرنسی کی صورت میں برآمد کرلئے گئے۔ نیب کے گھر آمد کی خبر سن کر اُن کے اہل خانہ نے تمام نوٹوں کو آگ لگانے کی ناکام کوشش کی۔
اندازہ کیجئے کہ کس قدر بے دردی سے نوٹوں کو جلایا گیا۔ کچھ تو جل بھی گئے۔ حرام کی کمائی پر یوں خود زندگی گزارنا اور پھر اپنے بچوں کو بھی اسی حرام کی دولت سے پالنا، اولاد کو کہاں لے کر جائے گا۔ یہ ہماری نظروں کے سامنے ہے کہ جب ہم اس کی مثال شاہ رُخ جتوئی یا پھر پاکستان بھر میں دندناتے پھرنے والے وزراءاور سفرا کے بیٹوں کو دیکھتے ہیں، نہ کسی کا مال محفوظ ہے، نہ کسی کی عزت، دولت کے زعم میں جسے چاہو، اُٹھالو۔ قتل کر دو یا پھر مجبور کردو، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پولیس ان کے گھر کی لونڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں احتساب کا خوف نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آج بھی غریب عوام ان کے سامنے زبان نہیں کھول سکتے۔ گاﺅں اور دیہات کے ووٹ انتظامیہ کے زور پر اُن کے علاوہ کوئی نہیں لے سکتا تو پھر کیا ڈر و خوف مگر اس بار کچھ مختلف ہو رہا ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ اسپیکر سندھ اسمبلی جناب آغا سراج درانی کے گھر والے خوف سے امریکہ بھاگ آئے ہیں۔ مگر اب ہونا یہ چاہئے کہ انہیں امریکہ کے شہروں میں ڈھونڈا جائے اور بالکل اسی طرح ان کے گھروں کے سامنے پلے کارڈ لے کر چور چور کا شور مچایا جائے۔ جس طرح لندن میں نواز، شہباز کے گھروں کے آگے عوام نے احتجاج کیا تھا اور یوں ان لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہو گیا تھا۔ یہی ایک طریقہ ہے انہیں غیرت، شرم اور خوف دلانے کا وگرنہ تو یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کے بچوں اور گھرانے پر زندگی تنگ کی جانی چاہئے اور راہ چلتے ذلیل کیا جانا چاہئے۔ وگرنہ تو یہ ملک کو یونہی لوٹتے رہیں گے اور ملک کے اقتدار پر قابض بھی رہیں گے۔ اب قوم کو جاگ جانا چاہئے اور ان تمام چور اُچکوں کا جو اپنے چہروں پر ماسک چڑھائے بیٹھے ہیں، اصل چہرہ دنیا کے سامنے آنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں