184

بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے خود کشی سے قبل چیف جسٹس کے نام خط لکھا

اسلام آباد: سابق ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے خود کشی کر لی۔بریگیڈئیر (ر) اسد منیر کی لاش ڈپلومیٹک انکلیو میں ان کے فلیٹ ہر پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔ خود ک±شی سے قبل بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام ایک خط بھی لکھا۔ انہوں نے اپنے اس خط میں کہا کہ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ نیب حکام کی کارروائیوں کا نوٹس لیں تاکہ کسی سرکاری افسر کو ا±ن جرائم کی سزا نہ ملے جس کا وہ مرتکب ہی نہیں ہے۔
اس خط میں بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے کہا کہ نیب نے میرے خلاف 2008ءمیں پلاٹ بحال کرنے پر ایک ریفرنس دائر کر رکھا ہے جبکہ پلاٹ میں نے نہیں بلکہ چئیرمین نے بحال کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں 2010- 2006ءتک اسٹیٹ کا ممبر رہا لیکن اس عرصے میں میرے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا گیا۔
لیکن اپریل 2017ءکے بعد سے نیب نے میرا جینا حرام کر دیا۔ وزارت داخلہ نے میرا نام نومبر 2017ءمیں ایک ایف آئی آر کی بنیاد پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا۔
جس کے بعد میں نے سیکرٹری ایم او آئی کےنام ایک نظر ثانی کی اپیل دائر کی لیکن مجھے کوئی جواب نہیں ملا اور ایک سال سے زائد عرصے تک میرا نام ای سی ایل میں ہی رہا۔ نیب نے گذشتہ ایک سال کے دوران میرے خلاف تین تفتیش اور دو انکوائریوں کا آغاز کیا۔ تین تحقیقات بورڈ ممبر اور دو انکوائریاں ممبر آف اسٹیٹ رہنے کی وجہ سے شروع کی گئیں۔ میری آپ سے مو¿دبانہ درخواست ہے کہ اس خط کے ساتھ ہر کیس سے متعلق لگائی گئی میری دستاویزات کو ضرور پڑھیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں کرپشن کیسز میں ملوث رہا ہوں تو کیس بند ہو جائے گا اور اگر اس سب میں نیب کی غلطی ثابت ہو گئی تو میری آپ سے درخواست ہے کہ میرا نام کلئیر کر دیا جائے۔ میں نے جون 2018ءمیں اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات نیب میں جمع کروائی تھیں۔ میں بے عزتی، ہتھکڑیوں میں گرفتاری اور میڈیا کے سامنے پریڈ کروائے جانے سے بچنے کے لیے خودکشی کررہا ہوں۔

بریگیڈئیر (ر) اسد منیر نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نام لکھے اس خط میں اپنی خود ک±شی کی وجہ بھی بتائی اور کہا کہ میں اپنی جان اس ا±مید پر دے رہا ہوں کہ آپ ایک ایسے نظام میں مثبت تبدیلی لائیں گے جہاں نا اہل لوگ احتساب کے نام پر شہریوں کی زندگیوں اور آبرو سے کھیل رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اسد منیر کی خود ک±شی پر ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد منیر گذشتہ روز سے میڈیا پر چلنے والی خبروں پر کافی پریشان تھے۔
اسد منیر پر نیب اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایف 11 میں پلاٹ بحال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اسد منیر نے کہا تھا کہ یہ نیب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتی۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز نیب ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس میں اسد منیر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ واضح رہے کہ بریگیڈئیر (ر) اسد منیر عسکری انٹیلی جنس ایجنسی پشاور کے ڈائیریکٹر بھی رہے۔اسد منیر سی ڈی اے میں ممبر اسٹیٹ بھی رہ چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں