Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 147

عمران خان مشکل میں

لگتا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا اب امتحان شروع ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ایک ایجنڈہ کرپشن کے خاتمے کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر کس حد تک دباﺅ برداشت کرسکتے ہیں اس لئے کہ قانون کے شکنجے میں آنے والے طاقتور شخصیات خود کو اس مصیبت سے نکالنے کے لئے قانون سے زیادہ دوسرے وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں جس سے ریاست متاثر ہو سکتی ہے اور وہ اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو چکے ہیں جس کے مظاہر بعض زیرحراست شخصیات کا ادھر سے ادھر ہونا ہے۔ بظاہر گرچہ یہ سب کچھ قانون اور آئین کے مطابق ہی ہو رہا ہے لیکن سب کو معلوم ہے اس طرح کا آناً فاناً ہونا معمول کے مطابق کسی بھی صورت میں ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترازو کے ایک پلڑے کے جھک جانے کے بعد دوسرے پلڑے میں موجود شخصیات نے بھی خود کو ریلیف دینے کے لئے وہی ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں جو اس سے پہلے پہلا فریق کر چکا ہے جس کے نتیجے میں قومی سلامتی ایک بار نہیں بار بار لرزش کا شکار ہو گئی ہے۔ سیاسی بلیک میلنگ کا پارہ روز بروز بڑھنے لگا ہے۔ پنجاب کے بعد اب سندھ سے بھی وفاق کے خلاف طرح طرح کی آوازیں آنا شروع ہو چکی ہے۔ سب کا مقصد خود کو لوٹ مار کے معاملات میں ہر طرح کی جواب طلبی سے بچاتے ہوئے کلین چٹ لینا ہے اور وہ یہ کلین چٹ ایک اس طرح کی پارٹی کی حکومت سے مانگ رہے ہیں جن کا منشور اور ایجنڈا ہی کرپشن کے خلاف تحریک چلانا ہے اس لئے تو کہتا ہوں کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان بہت ہی مشکل میں آگئے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اب فیصلے کی گھڑی آگئی ہے کہ وہ خود کو اس مشکل سے کس طرح سے نکالتے ہیں کہ انصاف کا خون بھی نہ ہو اور کوئی احتساب کے شکنجے سے نکل بھی نہ پائے۔ میرے خیال میں عمران خان کے لئے بہت ہی مشکل پیدا کر دی گئی ہے اور اب جو بھی کچھ ہونے جارہا ہے وہ ان کے مزاج اور فطرت کے خلاف ہوگا جس پر ان کا قائم رہنا نہ ممکن ہو جائے گا اور وہ ان حالات میں دوسروں کی طرح سے اقتدار میں رہنے کے لئے مصلحت سے کام نہیں لیں گے لیکن میری ذاتی رائے میں اگر وہ ان نازک حالات میں جذبات میں آکر کوئی بھی انتہائی قدم اٹھاتے ہیں تو وہ ملک کے لئے بالخصوص اور خود ان کی پارٹی کے لئے بالعموم زہر قاتل سے کم نہیں ہوگا۔
ان حالات میں انہیں ادراک اور فہم سے کام لینا ہوگا اس لئے کہ ان کے مخالفین یہ ہی تو چاہتے ہیں کہ عمران خان کوئی انتہائی قدم اٹھائیں اسی لئے وہ باربار خود ان کی پارٹی میں موجود بجھی ہوئی چنگاریوں کو ہوا دینے کی کوشش کرتےہیں۔ سب کو یہ معلوم ہے کہ ایک خاموش قسم کا این آر او ہو چکا ہے یا ہونے جا رہا ہے اسی کے نتیجے میں عدلیہ کا ایک حصہ متحرک ہو چکا ہے اب یہ تفصیل تو سامنے نہیں آئی ہے کہ یہ این آر او کن شرائط پر کیا گیا ہے، کیا لوٹی ہوئی قومی دولت کے واپسی کے علاوہ بھی شرائط رکھی گئی ہیں؟ کیا وہ اس عذاب سے بچنے کے بعد دوبارہ سیاست میں حصہ لے سکیں گے؟ یا ان کے خاندان کے دوسرے افراد اقتدار میں آسکیں گے؟ ایک عجیب طرح کا مذاق اس طرح کے این آر او کی شکل میں ریاست پاکستان اور اس میں رہنے والوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ یہ این آر او کن قانون شکنوں کی ایجاد ہے؟ جس کی نظیر نہ تو قانون کی دنیا میں ملتی ہے اور نہ ہی جمہوری تاریخ میں۔ یہ تو سراسر انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے اس طرح کی اگر کوئی کوشش کسی بھی دباﺅ کے نتیجے میں کی گئی ہے یا پھر کی جارہی ہے تو اسے فوری طور پر روکا جائے بلکہ قومی خزانے کو بے رحمی سے لوٹنے والوں کو بے رحمی سے سزا دینے کے عمل کو تیز کیا جائے۔ یہ ہی انصاف، قانون اور جمہوریت کا تقاضا ہے اس پر نہ تو ملکی اداروں کو کوئی سمجھوتہ کرنا چاہئے اور نہ ہی حکومت کو۔ احتساب کا جو پہیہ گھوم چکا ہے خدارا اس کو روکنے والوں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں جس طرح کے جرائم اور دہشت گردی میں لپٹی ہوئی سیاست پاکستان میں کی جارہی ہے اس سے پاکستان کو سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں ملے گا۔ دہشت گردی اور جرائم میں ملوث افراد انتخابی فارمولے کے ذریعے ایوانوں میں پہنچ کر رولز آف بزنس کی باتیں کرتے ہیں جن لوگوں کو جیلوں میں ہونا چاہئے وہی قانون ساز مجلس میں شامل ہو گئے اس سے بڑا مذاق قانون اور انصاف کے علاوہ خود جمہوریت کے ساتھ اور کیا ہو سکتا ہے یہ ساری صورتحال ملکی میڈیا کے سامنے ہے لیکن میڈیا نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں اس لئے انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ کسی کو بھی نہ تو پاکستان پر کوئی ترس آرہا ہے اور نہ ہی اس ملک میں رہنے والے 30 کروڑ انسانوں پر۔ ہر کوئی ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دے رہا ہے اور وہ شیخ چلی کی طرح سے اسی شاخ کو کاٹ رہے ہیں جس پر ان کا بسیرا ہے۔ یہ ملک ہے تو سیاست بھی ہے اور جمہوریت بھی اور میڈیا بھی۔ جب ملک ہی نہیں رہے گا تو کیا ہوگا۔ جب لوٹ چلے گا بنجارہ۔ والی بات ہو جائے گی۔ اس لئے ملک کے ذمہ داروں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ملکی آئین کے مطابق پورے قانون و انصاف کی روشنی میں معاملات کو حل کرنا چاہئے، کسی سیاسی دباﺅ یا مصلحت کا شکار نہ ہو۔ جس نے جرم کیا ہے اسے اس کی سزا ملنی چاہئے اور جو بے خطا ہے اسے وقت کا ضیاع کئے بغیر رہا کر دینا چاہئے یہ ہی ایک بدلتے ہوئے پاکستان کا نقشہ ہونا چاہئے۔
a

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں