225

مچھلیوں کی جلد پر موجود چکنائی سے اینٹی بایوٹک دوا میں پیش رفت

اوریگون: ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ مچھلیوں کی جلد پر موجود چکنائیوں میں نئی اینٹی بایوٹکس کے خزانے موجود ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پہلے سے موجود اینٹی بایوٹک دوائیں تیزی سے ناکام ہوتی جارہی ہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں جراثیم (بیکٹیریا) خود کو تیزی سے تبدیل کررہے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ ہمارے پاس موجود طاقتور ترین اینٹی بایوٹکس ادویہ کی تاثیر تیزی سے ختم ہورہی ہے اور ماہرین نئی دواﺅں کےلیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔
اس ضمن میں کبھی مٹی، کبھی سانپوں، کبھی تمباکو کے پودوں اور کبھی گھونگھوں پر تحقیق کی جارہی ہے لیکن اب خیال ہے کہ بعض مچھلیوں میں موجود جلد کو پھسلن دینے والے مرکبات نئی اینٹی بایوٹکس کا خزانہ ثابت ہوسکتے ہیں اور شاید وہ دواﺅں سے مزاحم مشہور بیکیٹریا کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین نے مچھلیوں کے اس لعاب دار مادے کو ’سلائم‘ کا نام دیا ہے۔ اسی کی بدولت مچھلیاں سمندروں میں موجود فنجائی، بیکٹیریا اور خطرناک وائرس کو دور بھگاتی ہیں۔
اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کی ماہر مولی آسٹن کہتی ہیں کہ مچھلیوں کی بیرونی چکنائی انہیں پیچیدہ سمندری ماحول میں صحت مند رکھنے میں بہت مددگار ہوتی ہے کیونکہ بار بار مچھلیوں کا سامنا خطرناک جراثیم اور وائرس سے ہوتا رہتا ہے۔
سب سے پہلے مچھلیوں کی جلد میں پولی سیکرائیڈز اور ایسے پیپٹائیڈز دریافت ہوئے جن میں ماہرین نے اینٹی بایوٹکس کیفیات دریافت کی تھیں۔ اس کے بعد مولی آسٹن اور ان کے ساتھیوں نے جنوبی کیلی فورنیا کے ساحل سے بعض نوجوان مچھلیاں پکڑیں اور ان کی جلد سے چکنائی جمع کرکے اس کا تجزیہ کیا۔
کم عمر اور جوان مچھلیوں کا امنیاتی نظام تشکیل پارہا ہوتا ہے اور ان کی جلد سے چکنائی کی وافر مقدار ملتی ہے۔ اس لیس دار مادے سے 47 مختلف اقسام کے جرثومے ملے جو اینٹی بیکٹیریا جنگ میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔
پھر ماہرین نے پِنک پرچ نامی ایک مچھلی میں پانچ ایسے مرکبات دیکھے جو میتھی سائلِن ریسسٹنٹ اسٹیفائیلوکوکس آریئس (ایم آر ایس اے) بیکٹیریا کو روکنے یا ختم کرنے میں موثر پائے گئے۔ انہی بیکٹیریا نے آنتوں کے استر میں کینسر روکنے میں بھی مدد کی اور ایک طرح کی خوفناک فنجائی، کینڈیڈا البیکنس کے حملے کو بھی روکا۔
تاہم اگلے مرحلے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ اتنے بہت سے بیکٹیریا کیا مچھلی کے اوپر ہی فروغ پاتے ہیں؟ یا پھر وہ کسی اور جگہ سے اس پر آبیٹھے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد ہی ہم سمجھ سکیں گے کہ آخر مچھلی اور بیکٹیریا کا آپس میں کیا تعلق ہے۔
اس تحقیق سے ایک اور بات سامنے آئی ہے کہ سمندری جانوروں میں شفا کے خزانے چھپے ہیں اور بدلتے ہوئے موسمیاتی تناظر میں سمندری مچھلیوں اور جان داروں کو بچانا بہت ضروری ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں