Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 109

بے یقینی

اس وقت ہمارے ملک کے عوام میں بہت بے چینی اور غیر یقینی کیفیت پائی جاتی ہے اور دوسری طرف حکومت کی مخالف پارٹیاں بہت شدّت سے حکومت پر حملے کرنے میں مصروف ہیں ان کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح عوام کو موجودہ حکومت کی طرف سے بددل کرکے ایسے حالات پیدا کردئیے جائیں کہ عوام سڑکوں پر نکل آئیں۔اس وقت پی ٹی آئی کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام زور شور سے جاری ہے گزشتہ کئی سالوں کی کرپشن نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ملک کے امرا اور مڈل کلاس طبقے کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش ناجائز کاموں سے بھی منسلک ہے۔ان میں سیاست دان ،کاروباری حضرات، گوورنمنٹ کے عہدے داران سب کو اپنی بقاءصرف اسی صورت میں نظر آرہی ہے کہ موجودہ حکومت کا کسی طرح خاتمہ ہوجائے۔ ورنہ ان سب کا مستقبل خطرے میں ہے۔ عمران خان 2013ءسے 2016ءتک بہت خوبصورتی سے کھیلے لیکن حکومت میں آنے کے قریب قریب سیاست کی چالبازیوں کو استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کئی غلطیاں کربیٹھے جب کہ عوام ان چالبازیوں کی عادی ہے۔ پرانے لیڈروں کے جھوٹ اور فریب کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اب سچّائی ان سے ہضم نہیں ہوسکتی۔کچھ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے ہیں کیونکہ اس سے بد اعتمادی کی فضا قائم ہو نے لگتی ہے بے چینی کی کیفیت میں عوام پچھلی حکومت سے موازنہ کرنے لگتے ہیں جب کہ پچھلی حکومت نے وہ خوفناک حقائق چھپائے ہوئے تھے جو آگے چل کر ایک بڑے طوفان کی صورت اختیار کرلیتے۔عمران خان نے آتے ہی جب اس خطرناک طوفان کے آنے کی خبر سنادی تو بے چینی پھیل گئی ایسے میں مخالفین نے بھی اپنا کام دکھایا کہ نئی حکومت آتے ہی طوفان لے کر آرہی ہے۔ عوام کو ان تمام آنے والی پریشانیوں کے بارے میں نہیں بتانا تھا۔کوئی گھبرادینے والی بات نہیں کرنا تھی بلکہ اپنے طور پر ان پریشانیوں کا راستہ ڈھونڈھ کر ان مسائل کو حل کرنے کی جدو جہد کرنا تھی ہماری قوم سچ کی عادی نہیں ہے یہ صرف جھوٹی باتوں اور بہلاوے میں خوش رہنے والے لوگ ہیں۔ان پر ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا کہ پچھلی حکومت لوٹ مار کرکے گئی ہے خزانہ خالی کرکے گئی ہے ان کا تو مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے بس نئی حکومت جادو کی چھڑی گھمائے اور چاروں طرف خوشحالی ہو اور امن پھیل جائے۔عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے اور آنے کے فورا” بعد عوام کی فلاح بہبود کے لئے ملک کی ترقّی کے لئے جتنے پروگرام بھی ان کے ذہن میں تھے وہ سب عوام کے سامنے رکھ دئیے اور ا س میں ان کی سادگی اور مخلصی شامل تھی وہ واقعی عوام کو بحران سے نکالنا چاہتے تھے۔لیکن یہ تمام پروگرام ذہن میں رکھنے کے تھے ان کو اتنی جلدی عوام کے سامنے نہیں لانا چاہئے تھا کیونکہ ان تمام کام کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے کافی وقت درکار تھا ایک بے صبری قوم کے سامنے کہ ہم جلد ہی قرضے سے نجات پالیں گے ایک کروڑ نوکریاں دے دیں گے پچاس لاکھ گھر بنادیں گے ۔ بہت سارے فیصلے اور وعدے بہت جلد بازی میں ہوئے۔یہ سب کسی طور مناسب نہیں تھا کیونکہ قوم نے حکومت کے پندرھویں دن ہی شکایت شروع کردی کہ وعدے کے مطابق کام نہیں ہوئے ایسے میں مخالفین کو اور موقع مل گیا اور انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔پھر حکومت میں آتے ہی پورے حالات کھول کر عوام کے سامنے رکھ دئیے ۔ملک پر قرضہ کتنا ہے سود کتنا دیا جارہا ہے خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے سود دینا مشکل ہے ۔ کون کون سے پراجیکٹ جعلی ہیں کہاں کہاں پیسہ ضائع کیا گیا حالات کا رونا ، پچھلی حکومت پر الزامات کی بوچھاڑ پھر لاعلمی ظاہر کرنا کہ ہمیں تو ان حالات کا علم ہی نہیں تھا ۔ آگے آنے والی تباہی کا عندیہ دینا اس سے سراسیمگی اور خوف کی فضاءقائم ہوئی قوم یہ سب باتیں برداشت نہیں کرسکی ان سب باتوں کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں تھی یہ سب بعد کی باتیں تھیں مانا کہ اس میں بھی سچّائی اور مخلصی تھی لیکن پھر وہی بات کہ قوم اتنے سچ کی عادی نہیں ہے قوم کو تو ایسا محسوس ہوا کہ ان کے سروں پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ کیوں کہ وہ ان حالات سے بے خبر تھے جو سابقہ حکمرانوں کی لوٹ مار کی وجہ سے مستقبل میں آنے والے تھے۔ گزشتہ حکومت کچھ بھی کرتی رہی قوم لاعلمی کی وجہ سے سکون میں تھی آگے جو تباہی آنا تھی اس کے بارے میں کسی کی کوئی سوچ نہیں تھی۔ان تمام باتوں سے عوام پر منفی تاثّر قائم ہوا کسی کو بھی ہمدردی نہیں ہوئی ہر شخص نے یہ سمجھا کہ جو لوگ ملک کے حالات سے قرضے سے حکومت میں آنے تک لاعلم رہے وہ حکومت کیسے چلائیں گے۔ پچھلے قرضے نپٹانے آئیندہ کے منصوبوں اور ملک کو چلانے کے لئے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہے جس کا کچھ بوجھ عوام کے کندھوں پر بھی آنا ہے اور عوام اب تھک چکے ہیں مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔اب صورت حال یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کے سپورٹر گومگو کے عالم میں ہیں ان کی کیفیت یقین اور بے یقینی کے درمیان ہے حکومت کا دفاع کرتے کرتے اب وہ بھی تھکنے لگے ہیں کچھ افراد ایسے ہیں جو حالات کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو حکومت کن حالات میں ملی ہے اور درستگی کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہے لوگوں کے معاشی حالات اور برے ہوں گے مہنگائی افرا تفری میں اضافہ ہوگا معیار زندگی ابھی اور پستی میں جائے گا لیکن ملک اور قوم کو بحران سے نکالنے اور روشن مستقبل کی طرف لے جانے کا صرف ایک یہی طریقہ رہ جاتا ہے۔ایشیاءکے کئی ممالک جن میں چین جاپان کوریا فلپائن وغیرہ شامل ہیں ان سے بھی زیادہ بد تر حالات سے گزر چکے ہیں لیکن آخر کار اپنے آپ کو سنبھال لیا۔ لیکن ان سب باتوں کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک زرا زرا سی بات کو ایسے اچھالا جارہا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ پچاس سال سے قوم خوشحالی امن کے ساتھ پرسکون معاشرے اور انصاف پسند حکمرانوں کے زیر سایہ رہ رہی تھی اور موجودہ حکومت نے سارا نظام تہس نہس کردیا ہے۔ یہ رویّہ واقعی نا مناسب اور ناقابل قبول ہے۔پہلے ہماری قوم صرف وعدوں اور تقریروں پر زندگی گزارتی رہی ہے لیکن پچھلے پانچ سال میں جو حالات گزرے اس سے قوم میں شعور بیدار ہوا تب انہیں یہ بیب احساس ہوا کہ ہم ابھی تک وعدوں اور تقریروں پر جی رہے تھے لہذا اب وہ کسی وعدے پر اعتبار نہیں کررہے ہیں۔اور پرانے سارے لیڈر اس وقت یہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ ہم محبّ وطن ہیں۔صرف ہم ہی قوم کے ہمدرد ہیں اور ہم ہی قوم کے لیڈر ہیں۔ اور صرف ہم ہی قوم کو اس بحران سے نکال سکتے ہیں اور بے وقوف لوگ یہ نہیں سوچ رہے کہ یہ بحران ان ہی لوگوں کا لایا ہوا ہے ہمارے یہ لیڈر جو آج موجودہ حکومت کے خلاف یکجا ہوگئے ہیں ماضی میں ایک دوسرے کو طرح طرح کے الزامات دیتے رہے ہیں پی ٹی آئی پر جو بھی الزامات لگارہے ہیں اس کا تو کوئی ثبوت نہیں دے پارہے ہیں اور بعد میں وہ بات بھی غلط ثابت ہوجاتی ہے لیکن ایک دوسرے کے خلاف پورے ثبوت کے ساتھ الزامات لگاچکے ہیں اور یہ سلسلہ بھی بہت پرانا ہے۔پچھلی حکومتوں میں مہنگائی ،لوٹ مار ،قتل و غارت گری حکمران اور ان کی اولادوں کی عیّاشیاں۔ اور بھی نہ جانے کیا کیا مظالم وہ تمام لوگ جو ن لیگ اور پی پی کے ساتھ ہیں سب کچھ بھلا بیٹھے ہیں یاصرف اپنے اپنے مفاد کی خاطر ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں