33

مجاور

سرسید نے اپنی اصلاحی اور تعلیمی تحریک شروع کی اور جدید تقاضوں کے مطابق قرآن کریمکی تفسیر لکھی تو ان کے خلاف ایک سخت طوفان کھڑا ہو گیا اور انہیں کافر، ملحد، بے دین، زندیق جیسے خطابات سے نوازا گیا۔ مکہ اور مدینہ شریف تک سے سرسید اور ان کے رفقاءکے لئے کفر کے فتوے بڑی کوششوں سے منگوائے گئے ان ہی علماءاکرام میں ایک بزرگ مولوی علی بخش گھورکپوری تھے جنہوں نے محض سرسید کے خلاف علمائے حجاز سے فتویٰ لانے کی خاطر سفر حج کا قصد کیا جب وہ فتویٰ لے کر واپس آئے تو سرسید نے ان کے متعلق لکھا
”مولوی علی بخش ہماری تکفیر کا فتویٰ لینے کے لئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے تھے چنانچہ ہمارے کفر کی بدولت ان کو حج اکبر نصیب ہوا، سبحان اللہ، ہمارا کفر بھی کیا کفر ہے کہ کسی کو حاجی کسی کو کافر، کسی کو مسلمان بنا دیتا ہے“۔
آج کل کے مسلمان بھی دوسروں کو کافر بنانے کے درپہ ہیں جب کہ ہمارا دین اسلام کافروں کو مسلمان بنا رہا یعنی ہمارے مولوی مسلمانوں کو کافر قرار دینے کے فتویٰ جاری کررہے اور پھر جو کافر ہیں وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات سے متاثر ہو کر جوق در جوق مسلمان ہو رہے ہیں، ہمارے ملا حضرات جن کا مقصد یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط سے مضبوط بنائیں اور کافروں کو حلقہ اسلام میں شامل کروائیں ان کے طریقوں کا بالکل مختلف نتیجہ نکل رہا ہے اور جو ان کی پہنچ سے دور سے دور ہیں وہ قرآن کریم اور شریعت کا مطالعہ کررہے ہیں اور بڑی تعداد میں دائرہ اسلام میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں اس ہی طرح وہ لوگ جو اسلامی دنیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں اسلام کی خدمات انجام دے رہے ہیں مگر ان کے برعکس ہمارے معاشرے میں آج کل مذہبی اداکاروں کا بہت چرچا ہے جو ابلاغ عامہ کے اداروں کے ذریعہ اپنی مذہبی اداکاریاں دکھا رہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں مذہب کا منفی تاثر عام ہوتا جارہا ہے۔ یہ مذہبی اداکار اپنے اپنے انداز سے اداکاری کے جوہر دکھا کر ان عوام میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں جو بے چارے عوام تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اداکاریوں سے متاثر ہو کر ان کے حلقہ اثر میں بے اختیار شامل ہو جاتےہیں۔ اس طرح یہ اداکار اپنے اپنے ذاتی دھندوں کو با آسانی پایہ تکمیل پہنچا کر ہر طرح کے مالی اور سماجی فوائد پورے کرلیتے ہیں ان کے بارے میں سچ جب سامنے لایا جاتا ہے تو یہ ان سادہ لوح عوام کو بہکا کر سچ کے سامنے کھڑا کر دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان کے ساتھ وہ مولوی صاحبان بھی شامل ہو گئے جنہیں علماءسو کا نام دیا جاتا ہے، یہ نام نہاد مولوی سوشل میڈیا پر جس طرح اپنے فقہہ کی تبلیغ کررہے تھے ان کی دنیا شاہد ہے انہوں نے کس طرح اپنے مخالفین کے بارے میں زبان استعمال کی، کس طرح انہوں نے اپنے طور طریقوں سے اپنے فقہہ کی تبلیغ کی، اس کو دیکھ کر ہمارے سر شرم سے جھک گئے۔ عوام کا تو ذکر ہی کیا، ان کو تو بنایا ہی اس مقصد سے تھا کہ وہ ساری زندگی جہالت میں گزار دیں، اپنے روزمرہ کے حالات گزارنے کے لئے دوسروں پر انحصار کریں، ان کی اس حالت کے ذمہ دار حکمراں بھی تھے اور یہ علماءسو بھی ان کے ان حالت کے ذمہ دار تھے، جب چاہتے ان کی مذہبی جذبات بھڑکا کر ان کو مشتعل کرتے اور دوسروں کے خلاف صف آراءکرتے، یہ تو اس فرقے کی بات تھی جس نے سوشل میڈیا پر اپنی تعداد اور قوت موثر انداز میں پیش کی۔ اور دنیا کو مذہب کا منفی تاثر پہنچایا، دوسرے فرقے کے لوگوں نے تو گالیوں اور ہنگامہ آرائی سے آگے بڑھ کر اپنی جاں اور دوسروں کی زندگیوں کو خودکش دھماکوں کے لئے وقف کردیا تھا یہ سب آپس میں بھی صف آراءتھے اور دنیا کو اسلام کا وہ چہرہ دکھا رہے تھے جو حقیقت میں اس سے بالکل مختلف تھا۔ اصل میں تو اسلام کی وہ تعلیمات تھی جن کا حقیقی تصور فتح مکہ کے موقع پر دنیا نے دیکھا تھا۔ دنیا یہ دیکھتی تھی کہ ایک طرف اپنے دشمنوں کے لئے عام معافی دینے والا اسلام فتح مکہ میں نظر آتا ہے، دوسری طرف خودکش لوگ ہیں یا ان کے مخالف اپنے طرز عمل اور طور طریقوں سے اپنے دشمنوں یا مخالفین کو نشانہ بنانے والے۔ یہ سب عناصر مل کر اس جاہل معاشرے کی منظرکشی کررہے تھے جو کہ شاید قبل از اسلام تھا۔ اس زمانے میں علم کی ابداءتو مکہ سے شروع ہو کر مدینہ شریف سے ہوتی ہوئی پورے عالم تک جا پہنچی اس دور میں اسلام سے قبل علم کا تصور ناپید تھا مگر آج کے دور میں ہمارے ساتھ تو قرآن پاک کی روشنی ہے، سیرت طیبہ کی رہنمائی ہے۔ صحابہ کرامؓ پیروی ہے اس کے باوجود ہمارے عوام کو ان علماءسو نے جہالت کے اندھیروں میں دھکیلا ہوا ہے۔ اس کے ذمہ دار یہ مذہبی اداکار اور علماءسو ہیں آج کے دور میں ان علماءحق کی آواز ان کے شور میں گم ہو کر رہ گئی ہے یا ان علماءحق نے گوشہ نشینی اختیار کرکے خاموشی سے اسلام کی خدمات انجام دینے کا ارادہ کرلیا ہے۔ مذہبی اداکاروں نے میڈیا کے ذریعہ اپنے زیر اثر عوام کو اس طرح جکڑا ہوا ہے کہ وہ ان کے ایک اعلان پر خون خراجہ کرنے کے درپہ رہے۔ دوسری طرف وہ علماءسو ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعہ طرح طرح کی من گھڑت باتوں کو اسلامی تعلیمات کے طور پر پیش کررہے ہیں ان علماءسو نے اپنے اپنے مذہبی اداروں کو تجارت کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ان لوگوں نے مختلف مزاروں پر مجاور بن کے ذریعہ اپنا مذہبی قد اس قدر بڑا کرلیا ہے کہ وہ حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے یہ علماءسو ایسے مزاروں کے مجاور بن جاتے ہیں جن پر قبرپرستی شروع ہو جاتی ہے اس قبر پرستی کی بدولت ان علماءسو کو بے پناہ مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس لئے اب یہ نئے نئے مزاروں کی تشکیل کرنے کے لئے ایسے اقدامات کررہے ہیں جہاں پر عوام کا جم غفیر آکر اپنی اپنی مرادیں حاصل کرسکے اور ان مزاروں پر چڑھاوے کے طور پر اپنی جمع پونجی خرچ کرے۔ اس طرح ان کے مذہبی کاروبار کو ترقی حاصل ہو سکے اس طرح یہ اپنے اپنے پیروکاروں کو ان مزاروں کا مجاور بنا کر اپنا کاروبار یا اپنا دھندہ زوروں میں چلا سکیں۔ اس لئے یہ ہر ایسے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں جس سے ان کی مجاوری کے ساتھ ساتھ کاروبار میں بھی وسعت پیدا ہوسکے۔ اس لئے نئے نئے مزاروں کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جن پر عوام اپنی پونجی نجھاور کرسکیں۔ ان کے برعکس ہمارے وہ علماءحضرات جو اپنے علم کے ساتھ اپنی سادہ زندگی سے اسلام کی وہ حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں جنہیں دیکھ کر اسلام کی تبلیغ ہو رہی ہے جو مسلمان ہیں وہ اپنا ایمان تازہ کررہے ہیں جو بے دین ہیں وہ دین کے راستے پر چل کر اپنی آخرت کو سنوار رہے ہیں ان علماءکرام کی بدولت عوام کے ایک بڑے طبقے میں اپنے دین کی آگاہی حاصل ہو رہی ہے اور وہ دین کے سچے راستے پر چلتے ہوئے آخرت میں ہر طرح کے عذاب سے محفوظ رہیں گے۔ ان علماءکرام کی قدر منزلت علم کے متوالوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ مذہبی اداکار اور نام نہاد مولوی بالاکر اپنے انجام کو پہنچنے لگے۔ وقت آنے پر خدا کے سامنے اپنے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے توبہ کرکے اپنے گناہوں کی تلافی کرسکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں