19

نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی

آج ہی ہم سب کے عزیز، سلمان حیدر، نے پاکستانی وزیرِ خزانہ اسد عمر پر ایک لطیف طنز کرتے ہوئے لکھا کہ وہ دن دور نہیں جب اسد عمر صاحب، پاکستان کی بر آمدات بڑھانے کے لیئے ہر شہری کو ایک کلو Kilo، اچا رڈالنے کا مشورہ دیں گے، یوں کروڑوں کلو، اچار کی برآمد ہمارے قومی خزانے کو مالا مال کر دے گی۔ ان کا یہ مشور ہ ہمیں اچار کے بنیادی عنصر، تیل، کی طرف متوجہ کر گیا۔
ہماری سیاست میں اول دن ہی سے یہ فکر راسخ رہی ہے کہ، ہر آنے ولا سیاسی حکمران، جو خود غیر مرئی قوتوں کے کندھوں پر چڑھ کر صاحبِ اقتدار بنتا ہے ، اپنے زمانے کی ہر معاشی، سیاسی قباحت کو سابقان کے سر ڈالتا ہوا ، روتا ، چلّاتا ہو ا ,خود سابق ہو جاتا ہے۔ پھر کوئی نووارد غیر مرئی قوتوں کے کاندھے پر چڑھ کر سابقان کا مرثیہ پڑھنے لگتا ہے۔
ہم سب ہمیشہ ہی غیر مرئی قوتوں کا ذکر کرتے کرتے تھکن سے نڈھا ل ہو رہے تھے، تو ہماری اعلیٰ عدلیہ نے جو خود غیر مرئی قوتوں کا آلہ کار سمجھی جاتی رہی ہے چند بیباک اشار ے کرد یے اور اپنے کندھے سے غیر مرئی جوا اتارنے کی کوشش میں ان قوتوں کو بے نقاب کرنے کے اشارے دے دیئے۔ ایک تو جنرل مشرف پر غداری کے مقدمہ کا حکم دے کر اور پھر حال ہی میں عسکری قوتوں کی سیاست میں دخل اندازی کی نشاندہی کرتے ہوئے۔ یوں اصحابِ رائے کو یہ کہنے کی اجازت سی ملی کہ پاکستان کے اول دنوں ہی سے ہمارا سیاسی، معاشی، عسکری ، مذہبی نظام، عسکریت ہی کے طابع رہا ہے۔
کئی دوستوں کی ناراضگی کے خوف کے باوجود ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ، قیام پاکستان سے آج تک ہمارا کوئی اہم سیاسی رہنما ایسا نہیں ہے جو واقعی عوام کی مرضی سے اقتدار میں آیا ہو۔ ایوب خان کی آمریت سے پہلے اور اب تک ایسا ہی ہوا ہے۔ چونکہ آج کے نوجوانوں کو بنگلہ دیش سے پہلے کے پاکستان سے کوئی سرو کار نہیں ہے، اس لیئے وہ جان لیں کہ، بعد از بنگلہ دیش کے پاکستانی سیاسی نظام میں ذوالفقار بھٹو، نوا ز شریف، بے نظیر، اور اب عمران خان ، سب ہی اپنے سیاسی تجربوں کے لیئے عسکری اشرافیہ کے مرہونِ منت تھے۔
وقتاً فوقتاً ان رہمناﺅں کی عوامیت، جمہوریت پرستی، اور انقلابیت کے جو غلغلے آپ سنتے دیکھتے رہے ہوں گے، وہ صرف ایک المیاتی یا Tragic ڈرامہ ہی ہوتا ہے۔ جس میں ہیرو کو صرف ایک حد تک اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ مثئلاً وہ عوامی فلاح کی نعرے بازی وغیرہ کر سکتے ہیں، صوبائی قوم پرست کے محدود اعلان کر سکتے ہیں۔ لیکن کسی حال میں بھی انہیں دور رس معاشی، سیاسی، یا عسکری فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ذوالفقار بھٹو، بے نظیر، اور نواز شریف کا حشر آپ کے سامنے ہے۔ اس سے آپ کو عمران خان کے مستقبل کا بھی اندازہ ہو سکتا ہے۔
یہاں آپ کو ایک ایسی حقیقت پر دھیان دینا ہوگا، جو ہمیشہ آپ کی نظر سے اوجھل رہتی ہے۔ وہ ہے ہماری معیشت۔ آپ کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے معاشی نظام میں جس میں بجٹ ایک اہم عنصر یا اشارہ ہے، ہمارے وسائل کا ایک خطیر حصہ ہمارے دفاعی اخراجات پر خرچ ہوتا ہے۔ ان اخراجات پر کبھی بھی بر سرِ عام بحث نہیں ہوتی۔ ہمارے وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ ہمارا ہر وزیرِ دفاع صرف اور صرف ایک کٹھ پتلی ہوتا ہے جو خود اپنی دھن پر بھی سر نہیں ہلا سکتا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہماری معیشت کی ہر اہم نشست پر ہر کردار یا تو عسکری اشرافیہ کا مرہونِ منت ہوتا ہے یا طابع۔ ہمارے معاشی نظام میں عسکری قوتوں کا کیا کردار یا حصہ ہے ، اس کی طرف اشارہ کرنے والے یا دلیل دینے والے ماہرین، اور مصنفین، ملک دشمن قرار دیئے جانے کے بعد ترکِ وطن ہی اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی کتابوں کی طرف اشارہ کرنا بھی عبث ہے۔
مندرجہ بالا سطور کا مقصد صرف اس امرکی طرف نشان دہی ہے کہ پاکستان آج کل اپنی معیشت کے تارک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ ہم بھیانک افراطِ زر کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو ہماری موجودہ حکومت جو، آئی ایم ایف IMFسے مدد مانگنے کے خلاف قسمیں کھاتی تھی ، اب تھوک کر چاٹ رہی ہے اور نہ صرف آئی ایم ایف کی خوشامدیں کر رہی ہے بلکہ یہ خوش خبریاں بھی سنارہی ہے کہ جیسے ہی آئی ایم ایف راضی ہو گا ہمارے ہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی، نوکریا ں ہن کی طرح بر سنے لگیں گی، بے گھروں کے لیئے لاکھوں مکان بن جایئں گے، اور رادھا خوشی کے ناچ ناچے گی۔
تلخ حقیقت ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ اب کے معاشی تنگ حالی کا شکنجہ اتنا سخت ہے کہ اس کا اثر لا محالہ ہمارے دفاعی نظام پر بھی پڑے گا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہماری مالیات کا جو ایک از حدقلیل حصہ، عوام کی فلاح کے لیئے استعمال ہو سکتا ہو، وہ بھی قومی عظمت ، اور بھارت کے علاوہ دیگر بیرونی اور اندرونی دشمنوں کے بہانے سے عسکری نظام کے حصہ میں چلا جائے گا۔ اور ہمارے عوام جو ستر سالوں سے خوش حالی کے خواب دیکھتے دیکھتے فنا ہوتے رہے ہیں، ایک بار پھر جھوٹی عظمتوں کے جہنم میں جھونکے جایئں گے۔
اگر آپ ہماری باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہتے تو ان معاشی اشاریوں پر نظر ڈال لیں جو خشک تو ہیں لیکن قابلِ غور ہیں۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیئے آپ کو سوشل میڈیا پر پھیلے جھوٹ، ٹی وی اینکروں اور خود ساختہ ماہرین کی تو تو ، میں میں سے ہٹ کر ان کی باتوں پر دھیاں دینا ہوگا جو آپ تک سچ پہنچانے کی کوشش میں زہر کے پیالے پی رہے ہیں۔ اب آپ کو میٹھا میٹھا ہپ ہپ کرنے کے بجائے تلخ نوائی برداشت کرنا ہوگی۔ جان رکھیئے کہ اب آپ کے پاس نو من تیل نہیں ہے، جس کے چراغوں کی روشنی میں رادھا ناچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں