91

جائیں تو جائیں کہاں؟

امیدیں اور آس آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔ عمران خان کے آنے سے عوام یہ امید لگا بیٹھے تھے کہ خان صاحب کے پاس الہ دین کا چراغ ہے اور وہ آتے ہی رگڑیں گے اور اربوں ڈالرز ملک میں آئے گا اور پاکستان کا ہر غریب خود کو برونائی دارالسلام کا مکین سمجھ لے گا مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے سیاستدانوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں جب جب سیاستدانوں کے ہاتھ کھولے گئے، لوٹ مار کا وہ بازار گرم ہوا کہ الامان الحفیظ۔ جس نے کھایا، خوب کھایا، کسی نے وردی میں کھایا، کسی نے بلا وردی کے، مگر خوفناک بات یہ ہے کہ وردی کو کچھ کہا جائے تو حب الوطنی پر سوال اُٹھ جاتا ہے۔ سیاستدانوں کو کچھ کہا جائے تو جمہوریت خطرہ میں پڑ جاتی ہے۔ مذہبی جنونیوں اور ملاﺅں کو کچھ کہہ دیا جائے تو توہین مذہب اور توہین اسلام کے چارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کا باشعور پڑھا لکھا طبقہ تک سندھی، بلوچی، پنجابی، پختون اور مہاجر ہونے کے راگ الاپ رہا ہے۔ اپنے اوپر آتی ہے تو سب کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ کوئی ایسا نظر نہیں آتا جو حق اور سچ گوئی کو لئے سامنے آئے۔ ایسا جوتا چلائے کہ لوگ خود کو علاقائی اور زبانوں، مذہبی منافرتوں میں تقسیم کرکے جینا بھول جائیں اور ایک ایسے پاکستان کا نغمہ گانے پر مجبور کر دیئے جائیں جس میں صرف پاکستانی اور پاکستان کی بات ہو۔
ہماری افواج کے کرتا دھرتا اپنے مفادات کیبھٹی سے باہر نکل کر جب تک فیصلے نہیں کریں گے، تبدیلی نہیں آئے گی۔ ملک کے سیاستدان ہوں یا مذہبی جنونی، اگر قابو آئیں گے تو فوج ہی سے آئیں گے مگر ہماری کور اگر مکمل کوری ہو تو کوئی کیا کرے؟ فوج کے بڑوں کو کچھ کہنا گناہ عظیم ہے، مگر کہنا تو پڑے گا۔ تاریخ کو درست تو رکھنا ہوگا اور پاک فوج کی موجودگی سے ملک کی سلامتی ہے۔ مگر ملک کی سلامتی ہے تو ہی پاک فوج ہے۔ پاک فوج کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے پڑیں گے۔ ملک پر اور دیگر صوبوں کے رہنے والوں کو غداری کے سرٹیفکیٹس بانٹنے کے بجائے انہیں حقوق دینے ہوں گے۔ وہ یہ کام کریں، آج کریں یا کل، مگر یہ حقیقت ہے کہ بندوق کی نوک پر معاملات زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو پھر پاکستان کو اس بات کا سہارا لے کر محفوظ اور ناقابل تسخیر نہیں بنایا جا سکتا کہ پاکستان ستائیسویں کی رات معرض وجود میں آیا تھا۔ پاکستان کی حفاظت اللہ تبارک و تعالیٰ بھی جب ہی کرے گا جب مظلوموں کی داد رسی کی جائے گی۔ عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔ نوکریوں کے کوٹے ختم ہوں گے۔ تعلیم عام ہوگی۔ غریب کے سامنے امراءکو کٹہرے میں لایا جائے گا اور یہ کام موجودہ وقت میں فوج ہی کرسکتی ہے کیونکہ وہی ایک ایسا ادارہ ہے کہ جو طاقت رکھتا ہے۔ اس عمل کو پورا کرنے کی۔ مگر اگر وہی اپنی بقاءاور مفادات کے لئے قوم کو منافرت کی دلدل میں دھکیلے گا تو پھر کون ہے جو داد رسی کرے گا۔ پھر سازشی عناصر اور دشمنان وطن کا کام بھی آسان ہو جائے گا۔ فوج نہ صرف سرحدوں پر بلکہ اندرون ملک بھی وہی کچھ کرتی رہے گی جو کررہی ہے اور ملک کی جڑیں جو مکمل گل سڑ چکی ہیں، پورے سسٹم کو زمین بوس کردیں گی۔ عمران خان نوجوان نسل کی آخری اُمید تھی اور ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کب تک منہ بند رکھیں گے۔ مشکل نظر آتا ہے کہ 2019ءخیریت سے گزر جائے اور ہمارے بچوں کو حمزہ شہباز، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کی غلامی نہ کرنی پڑ جائے۔ دور دور تک کوئی ایسا حکمران نظر نہیں آتا جو وطن کو اس بھنور سے باہر نکالے۔ ہم نے تو اپنے بچوں کے پاسپورٹ تبدیل کرلئے مگر وطن کی کسک ہر دل میں موجود ہے۔ بیرون ملک رہنے والے تو بس اب چندہ دینے کے لئے رہ گئے ہیں۔ کبھی صاف پانی کے لئے، کبھی ڈیم کے لئے تو کبھی ملک میں تعلیم اور غربت اور افلاس دور کرنے کے لئے۔ نہ جانے وطن کے رکھوالے اور وطن کے حکمرانوں کو کب ہوش آئے گا اور وہ دن کب آئے گا جب ان کے دل میں خوف خدا پیدا ہوگا؟ اور اس خوف خدا کے پیدا ہونے کے لئے نہ جانے اللہ کا کون سا غضب ہوگا جس کا نشانہ ہم سب بنیں گے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور ہمیں اور ہمارے بلا وردی اور باوردی حکمرانوں کو شعور دے کہ وہ نعرے بازی سے باہر نکل کر حقیقت سے آشنا ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں