Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 155

دہشت گرد

مسلمانوں پر دہشت گرد کی چھاپ لگانے میں ہمارے میڈیا کا بھی اتنا ہی قصور ہے جتنا مغربی میڈیا کا ہے۔دنیا میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے اور اگر اس میں کوئی مسلمان ملوّث ہے تو اسے دہشت گرد کا نام دیا جاتا ہے اور اگر کسی اور مذہب کا ہے تو اسے ذہنی مریض کہہ دیا جاتا ہے آخر یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ ایک زمانے سے ہمارے میڈیا کا بھی یہی طریقہ کار رہا ہے کہ ملک میں یا ملک سے باہر کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر ہنگامہ ہوجاتا ہے اور دہشت گرد دہشت گرد کی تکرار شروع ہوجاتی ہے ۔جہاں تک دہشت گردی کا تعلّق ہے تو یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے اور حکومتی پیمانے پر بھی دہشت گردی کی گئی ہے۔اور اپنے حقوق کی جنگ کو بھی دہشت گردی کا نام دیا جاتا رہا ہے۔طاقت کے بل بوتے پر کسی بھی کمزور ملک کے حکمران کو نا پسندیدگی یا حکم عدولی کی بنیاد پر معزول کرکے اس کے ملک پر چڑھائی کرکے اسکی جگہ اپنے من پسند کو تخت پر بٹھادینا۔اور اگر معزول ہونے والا حکمران اس ظلم کو اور اپنی معزولی کو قبول نہ کرے اور اپنے وفادار ساتھیوں کو اکھٹّا کرکے روپوشی کے عالم میں ہی مسلسل گوریلا جنگ جاری رکھّے اور اپنے حق کے لئے لڑتا رہے تو اسے دہشت گرد کا نام دے دیا جاتا ہے یہ مغرب کا فارمولا ہے جسے ہم لوگ ہمارا میڈیا سب دل و جان سے قبول کرتے ہیں،دنیا جب سے وجود میں آئی ہے ہابیل و قابیل سے لے کر آج تک انسانوں کے درمیان کسی نہ کسی طور جنگ رہی ہے ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس دور میں بچپن سے لے کر آج تک کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی جنگ دیکھی یا اس کے بارے میں سنا یا پڑھا ہے سب سے طویل جنگ جو ہمارے دور میں ہوئی بلکہ ابھی تک جھڑپوں کی حد تک جاری ہے اس جنگ کا میدان افغانستان ہے ایسا ملک جو صدیوں سے مختلف قوموں اور مذاہب کے درمیان جنگوں کا مرکز رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جغرافیائی لحاظ سے افغانستان مشرق وسطی’ ایشیا اور یوروپ کو ملانے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔بڑی ہی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خطّے میں ہر رنگ و نسل ، ثقافت اور ہر مذہب سے تعلّق رکھنے والی قوموں نے حکومت کی ہے۔ الیگزینڈر دی گریٹ، چنگیز خان، انڈین کشان ایمپائیر، مسلم صفاریان، غزنوی ،غوری، خلجی ،تیمور، مغل ،درّانی سب نے محتلف اوقات میں مختصر یا طویل عرصے حکومت کی اور یہ علاقہ مختلف مذاہب کی آماجگاہ بھی بنا رہا جس میں زرتشت، ہندو مت، عیسائی، بدھشت، یہودی، زنبل اور مسلمان شامل ہیں افغانستان کی جغرافیائی اہمیت تو اپنی جگہ لیکن اس کی مالیاتی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے امریکن جغرافیائی سروے کے مطابق جو کہ آٹھ سال پہلے کا ہے یہاں کی معدنیات، گیس، پیٹرولیم کی مالیت 900 بلین ڈالر سے 3 ٹریلین ڈالر تک بنتی ہے اور یہ خزانہ ابھی زمین میں دفن ہے اس خطّے میں ہم نے اس دور میں جنگ کے شعلے بھڑکتے دیکھے اور ابھی تک دیکھ رہے ہیں مغرب کا وہی پرانا فارمولا کہ دہشت گردوں سے جنگ جاری ہے لیکن کیا یہ پہلی جنگ ہے جو افغانستان میں لڑی جارہی ہے یہ سب کچھ تو گزشتہ دو صدیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے حقیقت تو یہ ہے کہ انگریز کو نہ تو افغانیوں سے دشمنی رہی ہے اور نہ ہی کوئی دلچسپی انہوں نے اس خطّے میں جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں وہ صرف اپنی بقائ کے لئے لڑی ہیں افغانستان گزشتہ دو صدیوں سے انگریز اور روسیوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے تمام جنگیں اس سر زمین پر صرف اس لئے ہوئی ہیں کہ کون بنے گا سپر پاور اور اس کی وجہ اس ملک کی جغرافیائی اہمیت ہے۔ روس کا افغانستان کے راستے سمندر تک پہونچنا اور انگریزوں کا روس کو سمندر تک پہونچنے سے روکنا بس صدیوں سے یہی کھینچا تانی ہے اور اگر روس اس سر زمین پر اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوجاتا تو یہ بھی ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ روس دنیا کی سپر پاور ہوتا اور دوسری مغربی قوّتیں اسے ایسا کرنے سے باز رکھنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں گزشتہ دو صدی کے دوران ہونے والی ان جنگوں کی تصاویر اگر لائن سے ایک دیوار پر لگادی جائیں تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوگا کہ ان تمام تصاویر میں بڑی مماثلت ہے حالات و واقعات اور مقاصد ایک ہیں۔ہمارا موضوع چونکہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ہر دور میں دہشت گرد کہلائے عجیب سی بات یہ ہے کہ ہر دور میں ان دہشت گردوں کی نشاندہی کا سہرا مغرب کے ہی سر رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں ان کا واویلا مچایا ہے زرا ایک نظر ہم بھی تاریخ کی کھڑ کی سے جھانک کر دیکھیں ۔یہ 1837ءکا دور ہے جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کا طوطی بول رہا تھا اس نے آس پاس کے تمام علاقوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت میں شامل کرلیا تھا ان میں لاہور کے علاوہ پشاور اور خیبر پاس بھی تھا۔پشاور اس زمانے میں افغانستان کا دوسرا دارالخلافہ تھا لہذا افغانستان کا شاہ دوست محمّد خان ہر صورت میں پشاور کو واپس لینا چاہتا تھا اس کے لئے اس نے انگریزوں سے مدد چاہی لیکن انگریزوں نے کوئی توجّہ نہ دی انگریز کو دوست محمّد خان کا روس کی طرف جھکاو¿ پسند نہ تھا جبکہ انگریزوں کر اس بات کی بھی پریشانی تھی کہ رنجیت سنگھ اپنے پاو¿ں پھیلاتا ہوا افغانستان تک پہونچ گیا ہے روس نے صورت حال بھانپتے ہوئے فورا” اپنا ایک وفد دوست محمّد خان کی طرف بھیجا برطانیہ کے گورنر جنرل لارڈ جارج آف آکلینڈ کو جب یہ خبر ملی تو اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اسے یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر روس دوست محمّد خان کے ذریعے افغانستان پہونچ جاتاہے تو پرر اسے انڈیا میں گھسنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے لہذا جنرل جارج نے ایک اور کوشش کی اور اپنا ایک وفد دوست محمّد خان کی طرف روانہ کیا کہ روس کے خلاف اتّحاد قائم کیاجائے لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔دوسری طرف روس کا ایران کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ ہورہا تھا جنرل جارج نے ایک سازشی منصوبہ بنایا اس منصوبے کی تکمیل کے لئے اس نے افغانستان کے معزول حکمران شجاع شاہ درّانی کی حمایت کی کہ افغانستان کا اصل حکمران شجاع شاہ درّانی ہے۔شجاع شاہ اچھی خصلت کا انسان نہیں تھا ۔وہ 1801 میں ہیرات اور پشاور کا گورنر تھا 1803میں اپنے ہی بھائی کو معزول کرکے تخت پر بیٹھا۔1809 میں ر وس کے افغانستان پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ایک بار پھر انگریزوں سے گٹھ جوڑ کیا لیکن اسی دوران محمود شاہ درّانی نے شجاع شاہ کو معزول کرکے تخت پر قبضہ کرلیا اور شاہ شجاع کو جلاوطن کردیا اور وہ انڈیا چلا گیا جہاں وہ انگریزوں کے سائے میں بہت عیّاشی سے رہا۔ لہذا ا دوست محمّد خان کے دور میں شجاع شاہ کو آلہئ کار بناکر برطانوی فوجوں نے افغانستان کا رخ کرلیا اور اپریل 1939 کو قندھار پہونچ گئیں اور پڑاو¿ ڈال دیا 22 جولائی 1939 کو حملہ کرکے غزنی کا قلعہ فتح کرلیا200 برطانوی اور 500 افغانی فوجی مارے گئے ۔دوست محمّد کو شکست ہوئی اور وہ اپنے بچے کھچے فوجیوں کے ہمراہ بخارہ کی طرف نکل گیا۔انگریز جنرل نے شاہ شجاع کو تخت پر بٹھاکر 8000 فوجی اس کی مدد کے لئے وہاں چھوڑ دئے ۔لیکن مفرور دوست محمّد اور اس کا بیٹا اکبر خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شاہ شجاع اور برطانوی فوجیوں کے لئے مسئلہ بنے رہے اور ان کے خلاف گوریلا جنگ جاری رکھی یہ بات ثابت ہوچکی تھی کہ جب تک انگریز فوجیں افغانستان میں رہیں گی شاہ شجاع کی حکومت قائم رہے گی۔[بالکل آج کے حالات کی طرح ] اسی آنکھ مچولی میں دوست محمّد گرفتار ہوا اسے 1840 میں انڈیا بھیج دیا گیا لیکن اس کا بیٹا اکبر خان آزاد تھا اور مسلسل سردرد بنا ہوا تھا۔تنگ آکر انگریزوں نے اکبر خان سے مصالحت کی بات کی کہ اسے وزیر بنادیا جائے گا اور ساتھ میں یہ منصوبہ بھی بنالیا کہ دوران میٹنگ اکبر خان کو قتل کردیا جائے گا اس کی خبر اکبر خان کو ہوگئی اور جب انگریزوں کا وفد آیا تو اکبر خان نے سب کو قتل کرواکر لاشیں بازار میں پھنکوادیں انگریزوں کو خطرے کا احساس ہوگیا تھا لہذا پہلی جنوری 1842 کر جنرل الفنسٹن نے اچانک 4500 فوجیوں اور 1200 غیر فوجی اپنے آدمیو ں کو افغانستان چھوڑنے کا حکم دے دیا۔سخت سردی میں یہ بد قسمت قافلہ جلال آباد پون نچنے سے پہلے ہی افغانی گوریلوں کے ہتھّے چڑھ گیا تمام لوگ مارے گئے صرف ایک سرجن ڈاکٹر ولیم برائڈن جلال آباد زندہ پہونچنے میں کامیاب ہوا گزشتہ دو صدیوں سے روس اور برطانیہ اس خطّے میں دہشت گردی پھیلاتے رہے اور آج اسی خطّے سے دہشت گرد کا شوشہ چھوڑا گیا جو تمام مسلمانوں کے ماتھے پر سجانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں