Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 65

معیشت کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

آج ذرا ملکی معیشت پر بات کر لیتے ہیں جس کو لے کر عمران خان کی حکومت کو آئے روز تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تنقید کرنے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود معیشت کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور وہ لوگ ہیں جو اصل حقائق کو جاننے کے باوجود دوسروں کی خوشنودی اور اپنی مجبوری کے باعث ایسا کررہے ہیں۔ میں کوئی ماہر معاشیات تو نہیں ہوں لیکن ریاضی کے بنیادی اصولوں سے ضرور واقف ہوں اسی کی روشنی میں اس موضوع پر لکھنے کی جسارت کررہا ہوں۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز پر روزانہ کی بنیاد پر باضابطہ اعداد و شمار کے ذریعے قوم کو یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ موجودہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر اتنے ارب روپے کا قرضح لے رہی ہے اور مہنگائی کی شرح اتنی بڑھ گئی ہے اور ڈالر کی قیمت جو اسحاق ڈار کے زمانے میں ایک سو دس روپے کا تھا اب 145 یا 150 روپے کا ہو گیا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ عمران خان کی حکومت روزمرہ کی بنیاد پر ایک خطیر رقم قرض کی شکل میں ادا کررہی ہے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ عمران خان کو حکومتی باگ ڈور سنبھالے ایک سال بھی نہیں گزرا ہے اور جس قرض کا وہ سود ادا کررہے ہیں وہ 2019ءکا لیا ہوا نہیں ہے بلکہ وہ تیس چالیس سال قبل کا لیا ہوا ہے جس وقت ان ہی چوروں اور لٹیروں کی حکومت تھی جو اس وقت گلا پھاڑ پھاڑ کر مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، خود کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے عمران خان پر اپے زرخرید میڈیا کے ذریعے تابڑ توڑ حملے کروا رہے ہیں۔ ملک جو معاشی طور پر کینسر زدہ ہو چکا ہے اس کے ذمہ دار شریف برادران اور زرداری اینڈ کمپنی ہیں جو معیشت کی ابجد سے بھی واقف نہیں، وہ صرف ”سبسڈی“ کے ٹانک سے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کی استرکاری کرتے رہے یا اس کی مرہم پٹی کرتے رہے، ان کے اس گورکھ دھندے میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی برابرکے شریک تھے جن کا مقصد پاکستان پر قرضوں کا حجم بڑھا کر اس کی خودمختاری سے کھلواڑ کرنے کے لئے راہ ہموار کرنا تھا۔ اسی لئے وہ اس طرح کی حکومتوں کو اتنا ہی آسان شرائط پر قرض فراہم کررہی تھی جو قرض ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے لے رہی تھیں۔ غرض ان سابقہ حکومتوں نے کینسر زدہ معیشت کی سرجری کرنے یعنی اس کا حل ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ مہنگائی کو ”سبسڈی“ کے ذریعے کنترول کرتے رہے۔ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرتے رہے۔ پیٹرول کی قیمتوں کو بھی اسی طرح سے مصنوعی طریقے سے ارزاں داموں فروخت کرتے رہے اور اس طرح سے وہ حکومتی خزانے پر قرض کا بوجھ بڑھاتے رہے اور ملکی عوام کو اپنی بہترین معیشت کا ترانہ سنا کر دھوکہ دیتے رہے اب جب عمران خان کینسر زدہ معیشت کی سرجری کرتے ہوئے ہر چیز کی قیمت اس کے اصل مقام پر لاکر ملکی خزانے پر پڑنے والے ”سبسڈی“ کے بوجھ سے چھٹکارہ دلا رہا ہے تو وہ سیاستدان جو اس بربادی کے ذمہ دار ہیں وہ گلی کے پاگل کتوں کی طرح سے گزرنے والے فقیر پر بھونک رہے ہیں ان کی ایماءپر ان کا وظیفہ خوار میڈیا بھی عوام کو گمراہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف بکواس کررہا ہے۔ اسی طرح سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بھی عمران خان کو اب قرضہ انتہائی کڑی شرائط پر دے رہا ہے۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ ان سے لیا گیا قرضح مرہم بن کر خود ان کے پیدا کردہ کینسر کے علاج کا باعث بنے گا چونکہ وہ نہیں چاہتے کہ معیشت کا کینسر بہتر ہو جائے اس لئے وہ قرض دینے میں بہت زیادہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں یہ وہ صورتحال ہے جس سے وطن عزیز ان دنوں دوچار ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ عمران خان کی حکومت میں مہنگائی میں اور بھی اضافہ ہو گا اس لئے کہ مہنگائی کے بم کے ذریعے ہی عمران خان کے وژن کو ناکام بنایا جا سکتا ہے اس لئے وہ ساری قوتیں جو پاکستان اور عمران خان کے وژن کے خلاف ہیں وہ مہنگائی کارڈ کے ذریعے ملکی عوام میں مایوسی پھیلا کر حکومت کے خلاف استعمال کریں گے۔ جس میں میڈیا اب سے ان قوتوں کے مددگار کا کردار ادا کررہا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ معاشی پالیسیوں میں عمران خان کی حکومت سے کچھ غلطیاں ہوئی ہیں جس کا گرچہ ازالہ کرلیا گیا ہے مگر مہنگائی سے پسے ہوئے ملکی عوام کو تاحال کوئی ریلیف نہیں مل رہا ہے۔ اس لئے عمران خان کو چاہئے کہ وہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے آتے ہی کچھ اس طرح کے انقلابی اقدامات کریں کہ جس سے غریب عوام کو ریلیف مل سکے اور انہیں مہنگائی کی شدت سے کسی حد تک چھٹکارہ ملے۔ کھانے پینے کی ضروری اشیاءکی قیمتوں میں کمی لائیں۔ دوسری جانب قومی خزانے پر ڈاکہ مارنے والے سیاستدانوں اور ملکی معیشت کو اس نہج پر لانے کے ذمہ داروں کے ساتھ بے رحمی کے ساتھ قانونی کارروائیاں کریں اور ان سے لوٹی جانے والی قومی دولت کی برآمدگی کو یقینی بنائیں یہ ہی نئے اور بدلتے ہوئے پاکستان کا تقاضا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں