Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 66

آزادی کے مجرم

یہ سن دو ہزار کی بات ہے جب میں نے شکاگو سے کراچی سفر کے دوران العقبہ اردن میں چار دن گزارنے کا پروگرام بنا لیا۔ اس شہر سے کچھ پرانی یادیں وابستہ تھیں جہاں میں نے کچھ عرصہ گزارا تھا۔ طیارے نے عمان ایئرپورٹ پر لینڈ کیا اور میں نے خود کو سیٹ بیلٹ سے آزاد کیا۔ آج بیس سال بعد میں دوبارہ اس سرزمین پر قدم رکھ رہا تھا۔ عقبہ پہنچ کر مجھے صرف ایک پرانے دوست کو تلاش کرنا تھا جس کا نام مراد شاہ تھا۔ مراد شاہ کے والدین کا تعلق نواب شاہ سے تھا اور وہ کافی زمانہ سے پہلے سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے اور مراد شاہ سعودی عرب میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ ساری زندگی سعودی عرب میں گزارنے کے باوجود شاہ جی کا لہجہ خالص پاکستانی تھا۔ عقبہ کے شہری اور وفاقی محکموں میں شاہ جی جانی پہنچانی شخصیت تھے۔ اور ان کی وہاں بہت عزت تھی۔ عقبہ پورٹ کے سیکیورٹی آفس میں مراد شاہ کا نام لیتے ہی اگلے دو منٹ میں شاہ جی فون پر تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں شاہ جی مجھے لینے آگئے۔ ارے شاہ جی بیس سال بعد بھی آپ ویسے کے ویسے ہی ہیں۔ شاہ جی ہنس پڑے اور کہنے لگے ارے یہی بات میں تمہارے بارے میں کہنے والا تھا۔ خیر یہ باتیں ہوتی رہیں گی تم اپنا سامان اٹھاﺅ، پہلے چل کر کھانا کھاتے ہیں اور تم نے لمبے سفر کے بعد آرام ہی کرنا ہے اور ہاں میں نے شہزاد اور ہادی کو بھی فون کردیا ہے۔ وہ بھی پہنچنے والے ہوں گے۔ ارے کیا ہادی عقبہ میں ہی ہے، میں نے حیرت سے پوچھا۔ نہیں ہادی کرک منتقل ہو گیا تھا، آج کل عقبہ آیا ہوا ہے اپنے بھائی کے پاس، ہادی فلسطینی تھا۔ شہزاد اور ہای کے آنے کے بعد ہم نے کھانا وغیرہ کھایا اور پھر یہ پروگرام بنا کہ چار چھ گھنٹے آرام کرنے کے بعد اپنے پرانے ابوزید کے قہوہ خانے کی طرف چلیں گے۔ تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم نے قہوہ خانے کی طرف کوچ کیا۔ ہادی بھی اس قہوہ خانے میں بہت عرصہ بعد جارہا تھا لہذا اس کا اشتیاق بھی بڑھتا جارہا تھا۔
جس زمانے میں، میں عقبہ میں رہائش پذیر تھا تو یہ قہوہ خانہ ہمارا مستقل اڈہ بنا ہوا تھا۔ یہ قہوہ خانہ شہر کے آخری سرے پر تھا جس کے بعد دور تک کھلا میدان تھا اور پھر جھاڑیوں اور چھوٹی چھوٹی چٹانوں کے سلسلے تھے۔ کیا قہوہ خانہ ابھی تک اسی حال میں ہے، میں نے شاہ جی سے پوچھا۔ بالکل اسی حالت میں ہے، یہاں کی پرانی چیزیں مشکل سے ہی تبدیل ہوتی ہیں۔ قہوہ خانے میں لکڑی کی میزیں اور بنچیں ہوتی تھیں۔ ایک کونے میں ایک بوڑھا عربی رباب بجا رہا ہوتا تھا۔ موسیقی کی دھن قہوے کی بھینی بھینی خوشبو، سگریٹ اور سگار کا دھواں سب مل جل کر ایک عجیب سا ماحول پیش کررہے ہوتے تھے۔ شاہ جی نے مجھے ہلایا اور میں خیالات کی دنیا سے باہر آگیا۔ قہوے خانے سے ایک ایمبولینس کسی کو لے جارہی تھی۔ اندر جا کر شاہ جی قہوے سے مالک سے ایمبولینس کے بارے میں پوچھا پھر شہزاد اور ہادی کو بتایا کہ ابوشعب کا انتقال ہو گیا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد قہوہ خانے کا مالک آیا اور مجھ دیکھ کر کہنے لگا۔ بہت عرصے بعد آئے ہو، میں نے کہا ”ہاں“ بیس سال بعد دراصل میں عقبہ چھوڑ کر جا چکا ہوں اور صرف گھومنے آیا ہوں۔ پھر میں نے شاہ جی سے پوچھا یہ ابو شعب کون تھا، شاہ جی نے بتایا ایک فلسطینی تھا جو پینتیس سال اسرائیلیوں سے لڑنے کے بعد ہمت ہار گیا اور عقبہ میں آکر رہنے لگا اور یہ قہوہ خانہ اس کا ٹھکانہ بن گیا لیکن وہ ہمت کیوں ہار بیٹھا اور فلسطین چھوڑ کر آگیا، میں نے سوال کیا، شاہ جی کہنے لگے یہ ایک لمبی کہانی ہے لیکن میں تمہیں چند دن پہلے کی کچھ باتیں بتاﺅں گا تو وجہ سمجھ میں آجائے گی۔ کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ ہمارا ایک دوست حماد آیا ہوا تھا جو عقبہ چھوڑ کر سعودی عرب چلا گیا ہے وہ ابوشعب سے بہت مانوس تھا اس نے جب ابوشعب کو وہاں بیٹھے دیکھا تو سیدھا اس کے پاس جا پہنچا، مجھے نہیں معلوم کہ ان کے درمیان کیا باتیں ہوئیں لیکن تھوڑی دیر بعد جب میں وہاں پہنچا تو میں دیکھا کہ ابوشعب نے قہوہ کی پیالی اٹھائی، ایک گھونٹ بھرا اور ایک لمبی سانس لے کر گویا ہوا تم کیا سمجھتے ہو، اسی سال کا عرصہ کچھ نہیں ہوتا اور کتنا وقت چاہئے۔ حماد نے بے چینی سے پہلو بدلا اور بولا لیکن ابو شعب وقت تو لگتا ہے اور کوئی بھی آزادی کی تحریک اپنے لئے نہیں اپنے آنے والی نسلوں کے لئے ہوتی ہے۔
ابو شعب نے ہنکارہ بھرا اور بولا کون سی نسلیں آنے والی نسلوں میں تمہرے باپ تھے جو آزادی کی تمنا کرتے ہوئے دوسری دنیا کو سدھار گئے۔ دوسری نسل تم ہو جو آزادی کا خواب دیکھ رہے ہو اور پھر تمہاری اولادیں۔ ارے تین نسلوں میں تو پانی بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے، دریاﺅں کے رُخ بدل جاتے ہیں۔ دنیا کا نقشہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے کوئی بھی اپنی جان نہیں دیتا۔ یہ قدرت کا کھیل ہے جو بغیر کسی انسانی مداخلت کے مکمل ہو جاتا ہے لیکن آزادی کے لئے۔
حماد نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن ابو شعب نے اس کی بات کاٹ کر غصے سے کہا، خاموش رہو، تمہیں آزادی کے معنی معلوم ہیں، یہ جو تم سن رہے ہو آزادی، ملک اور قوم، یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ہم پر حکمرانی کرنے والے صرف اپنی حکمرانی کو محفوظ کرنے کے لئے، وطن، ملک و ملت، قوم اپنا پرچم اس کے لئے ہم سے جذباتی نعرے لگاتے ہیں اور ہم جوش میں آکر اپنی جانیں دے دیتے ہیں۔ ان حکمرانوں کا کیا بگڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی شرط نہیں رکھی ہے، کوئی ایسی حد نہیں باندھی ہے کہ جہاں تم پیدا ہوئے، وہاں سے ہلنا بھی نہیں ہے۔ اگر تم مذہب کی بات کرتے ہو تو پوری زمین اللہ تعالیٰ نے ہماری لئے بنائی ہے۔ جہاں چاہے رہو اور پوری زمین پر ایک نظام قائم کیا، اسلام پر لوگ عمل کریں یا نہ کریں اور عمل نہ کرنا ہمارا انکار ہے۔ کسی بھی ازادی کی جنگ میں اگر قیادت صحیح نہ ہو، خلوص اور سچائی نہ ہو تو ایسی جنگ بے مقصد ہو جاتی ہے۔ لیکن آپ نے تیس سال یہ جنگ لڑی ہے، حماد نے دُکھ سے کہا۔ ہاں میں نے تیس سال جنگ لڑی، ابو شعب مسکرائے لیکن ان کی مسکراہٹ میں بے پناہ کرب تھا۔ یہی تو افسوس ہے کہ تیس سال ضائع ہونے کے بعد مجھ پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ یہ مذہب کی نہیں اقتدار کی زمین کی جنگ ہے اس میں دھوکہ تمام فلسطینیوں کو غیروں سے نہیں اپنوں سے ملا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم کے حقوق سلب کئے جاتے ہیں انہیں محکوم رکھنے اور دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تو اس قوم میں بے چینی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اندر ہی اندر ایک طوفان جنم لینے لگتا ہے۔ ظالموں کو نظر آجاتا ہے۔ اگر یہ طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اسے روکنا ممکن نہ ہوگا اور اس سے پہلے کہ اس قوم میں سے کچھ مخلص اور ایمان دار لوگ آگے بڑھیں اور قوم کی راہ نمائی کریں۔ ظالم قوتیں جنہوں نے ہمیشہ ایسے ممالک پر نظر رکھی ہوتی ہے۔ فوراً اس قوم میں لالچی اور مفاد پرست عناصر کو تلاش کرلیتی ہیں ان کو مالی امداد دی جاتی ہے اور ان کو اپنے ناپاک عزائم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس ملک پر اپنا قبضہ رہے ان مفاد پرست عناصر کی ہر طرح سے مدد کی جاتی ہے اور ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ قوم ان چوروں کو اپنا ہمدرد اور راہ نما سمجھنے لگتی ہے اور مخلص اور ایمان داروں پر اعتماد نہیں کرتی اور یہ مفاد پرست ساری زندگی قوم کو گمراہ کرتے رہتے ہیں اور درپردہ اپنے غیر ملکی حکاموں سے فوائد حاصل کرتے رہتے ہیں۔ مجھ بتاﺅ کہ تاریخ میں کوئی ایسی مثال ملتی ہے کہ کوئی مذہبی جنگ اسی سال تک لڑی گئی ہو اور کوئی نتیجہ نہ نکلا ہو ایسی جنگیں اگر خلوص اور ایمان داری سے لڑی جائیں تو اللہ کی مدد بھی شامل ہوتی ہے۔ یہ سب کہتے ہوئے ابوشعب کے چہرے پر مایوسیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اچانک شہزاد نے سوال کیا، شاہ جی کیا بو شعب کو اپنی قیادت پر اعتماد نہیں تھا۔ اس سے پہلے کہ شاہ جی جواب دیتے، میں نے کہا ابو شعب اپنی جگہ بالکل صحیح تھا۔ کیونکہ میرے ذہن میں بھی یہ بات تھی کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، صحیح ہے یا غلط، اصل حالات سے تو وہ لوگ واقف ہیں جو اس جنگ کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ دھوکے میں تو ہم لوگ رہتے ہیں کیونکہ ہمیں جو بتایا جاتا ہے اس پر یقین کرتے ہیں اور مذہب کے بارے میں ہم لوگ ویسے ہی جذباتی قوم ہیں۔ یہودی کی اسلام دشمنی اور مظالم اپنی جگہ لیکن اپنی غلطیوں کوتاہیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کیا کررہے ہیں اور کتنے پرخلوص ہیں۔ مجھے کسی نے کہا کہ اپنا آدمی یا اپنا ہم مذہب کتنا بھی غلط ہو اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں الٹا قلم چلاﺅں۔ اپنوں کی برائی کو اچھائی اور دوسروں کی اچھائی کو برائی میں ڈھال دوں، یہ کون سا فلسفہ ہے۔ فلسطین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے لئے آٹھ آرگنائزیشن بنی ہوئی ہیں۔ حماس، فلسطین اسلامک جہاد، پی ایل او اور ابو ندال وغیرہ وغیرہ اگر یہ سب ایک ہی مقصد یعنی فلسطین کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں تو یہ اتنے گروپ بنانے کا مقصد کیا ہے؟ اور ان میں اتفاق بھی نہیں ہے۔
حماس اور الفتح میں کئی مرتبہ تصادم ہوا جس میں بے شمار مسلمان شہید ہوئے، بے شمار فلسطینی اپنے ہم وطنوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں مزے سے رہے رہے ہیں۔
واپس آتے وقت میں نے ایئرپورٹ پر اپنے دوستوں کو الوداع کہا اور جہاز میں بیٹھ کر اپنی آنکھیں موندیں تو شاہ جی کی بتائی ہوئی ابو شعب کی باتیں ذہن میں گونج رہی تھیں۔ آج بھی نہ جانے کتنے ابوشعب لاعلمی اور غلط قیادت کی وجہ سے اپنی جانیں ضائع کررہے ہوں گے۔ یا اللہ یہ مسلمان کب آپس میں لڑنا بند کرکے متحد ہو کر دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا کچھ نہیں دیا۔ لیکن یہ اپنے غریب مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے کے بجائے عیاشیوں میں پڑے ہوئے ہیں، اتنی دولت اور طاقت ہونے کے باوجود ہر مقام پر پٹ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں عقل سلیم عطا فرما۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں