41

سدا بہار محبتوں کے سفیر

زندہد ل لوگوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد خوشیوں، مسرتوں، قہقوں کی شمعیں کبھی بجھنے نہیں دیتے جن کی روشنی نہ صرف دیدہ زیب ہوتی ہے بلکہ ماحول میں موجود جادوئی کیفیت روح تک پہنچ جاتی ہے۔
خوشی، دعا، محبت، خدمت سب تقسیم کرنے والی اشیاءہیں اور بانٹنے والا کبھی تہی دامن نہیں رہتا، سب کچھ پلٹ کر واپس اسی کی جھولی میں آ گرتا ہے۔
خوشیوں کے انہی لمحوں کو زندہ رکھنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے راجہ اشرف صاحب انچارج ریڈیو چینل سدا بہار کی جانب سے رائل بینکوئیٹ ہال میں ایک رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد لوگوں میں وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے سکھ برادری کے لوگوں سے بھرپور تعاون کا اظہار تھا۔ کلچرل سطح پر اس قسم کے پروگراموں کا انعقاد صدیوں سے چلی آرہی سوچ اور نظریہ کی تبدیلی کی طرف ایک کاوش تھی کیونکہ اسٹیریو ٹائپ سوچ کے مطابق ہندو مسلم سکھ سب الگ الگ مذاہب کے پیش رو ہونے کی وجہ سے متحد نہیں ہو سکتے جب کہ اسلام اخوت بھائی چارہ کی مثال دے کر اس نظریے کو غلط ثابت کرتا ہے۔ سدا بہار محبتوں کے سفیر نے اس حقیقت کو اس پروگرام کے تحت حقیقت کا روپ دے کر لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ محبتیں، جذبے، سچی خوشیاں اور بے لوث کاوشیں کسی کی ذاتی جاگیر نہیں جن پر مسلط ہو کر نظام زندگی چلایا جا سکے۔ تبدیلی تو بہرحال ضروری امر ہے، خواہ ذہنی سطح پر ہو یا عملی سطح پر۔
وزیر اعظم پاکستان کا ”گرونانک یونیورسٹی“ کا افتتاح اور کرتار سنگھ بارڈر کو ازسرنو کھولنے کی تجویز بلاشبہ قابل تحسین اور خوش آئند قدم ہے جس کے پیچھے نیک نیتی اور حقوق العباد کی روح کام کررہی ہے اور میرا ایمان ہے کہ نیتوں کے اجر اسی دنیا میں مل جاتے ہیں خواہ وہ نیتیں راجہ اشرف صاحب جیسے لوگوں کی ہوں جو اپنے ساتھیوں کو ایک جگہ متجمع کرکے اداس شام میں رنگ بھرنے کا اہتمام کر لیتے ہیں یا ان لوگوں کی ہو جو دور پردیس میں بیٹھے اپنوں کے دلوں سے نکلتی دعاﺅں کے حقدار ہوں۔
مقامی سطح پر اس طرح کی محفلیں جہاں ذہن اور روح کا ملاپ خوش کن لمحات کی عکاسی کرتا ہے، صدقہ جاریہ ہیں۔ کیونکہ صبح سے شام تک محنت اور تھکن سے چور جسموں کو سکون اور محبت کا ایک لمحہ بھی گوہر نایاب ہے۔
جہاں مسکراہٹوں کے تبادلے بھی نظر آتے ہیں اور سکون آمیز بارش کی ہلکی ہلکی پھوار بھی میسر آتی ہے۔
محبتوں اور چاہتوں کے اس سفر میں سب لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا اور مایوسی، تنگ نظری، نفرت، خود غرضی کے وینٹی لیٹر پر پڑی قوم کو روایات کی کالی پٹی آنکھوں سے اتار کر ذہنی، جسمانی آسودگی کی خوبصورت دل کش اور دل آویز سیج پر بتھانا آسان کام نہیں۔ محنت، مشقت، حوصلہ اور وسعت نظر چاہئے۔
ذاتی شناخت کا یہ عمل بھی ایک شخص کو شخصیت کے اونچے مینار پر جاکھڑا کرتا ہے۔ کیونکہ شخص تو ایک دن دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرکے چلا جائے گا اس کا کام اس کی باتیں، آوازیں مقاصد نیتیں پیچھے رہ جائیں گے پھر لوگ اس کو کس لقب سے نوازتے ہیں یہ اس کے عمل پر منحصر ہے۔ دعا دے گا تو دعا لے گا، خوشیاں بانٹے گا تو مسکراہٹیں پائے گا۔ لوگوں میں سکھ تقسیم کرے گا تو روز قیامت تک روشن چہرہ اس کا مقدر بنا رہے گا۔ فیصلہ آپ پر ہے۔ محبت دے کر لازوال ہونے کا پھر نفرت اور تعصب پھیلا کر افسوس اور شرمندگی کے کانٹوں سے اپنا دامن تار تار کرنے کا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں