130

کہیں تو کیا کہیں، چُپ رہیں تو کیوں؟

منزل حق کو پائیں گے آج نہیں تو کل سہی
ہم بھی خوشی منائیں گے آج نہیں تو کل سہی
اے دُشمن چمن طاقت پہ ناز ہے بہت
پر ہم کیا ہیں یہ بتائیں گے آج نہیں تو کل سہی
تانے ہوئے ہیں آج جو سنگین میرے شہر میں
They will surrender if not today
They will surrender tomorrow
یہ اشعار جو میں نے لکھے ہیں یہ الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کو دو روز قبل ریکارڈ کرکے بھجوائے، چاہے تو اس کی اہمیت کو سمجھ لیا جائے اور چاہے اسے رد کردیا جائے مگر یہ اس بار جس انداز سے تحریک الطاف حسین نے یہ اشعار ادا کئے وہ نہایت زہر میں ڈوبے ہوئے اور نہایت حالات کا عندیہ دیتے دکھائی دیئے۔ ہم غلط فہمی میں رہنا چاہیں تو رہیں مگر پاکستان کے خلاف خطرناک سازش تیار ہوچکی ہے اور وہ قائد تحریک جنہیں کراچی کے عوام پر مسلط کرنے والی بھی فوج اور پھر اُن پر آپریشن کرکے نوجوانوں کو قتل کرنے اور غائب کرنے والی بھی فوج، رینجرز اور پولیس۔ جس کا ایک کارندہ راﺅ انوار اس وقت بھی خفیہ اداروں کی تحویل میں نہایت سکون سے کسی آنے والے بہتر وقت کے انتظار میں ہے، کسی عدالت اور کسی ادارے کو اس کے بارے میں سوال اُٹھانے کی اجازت نہیں کیونکہ اس بہادر بچہ نے وہ کام سر انجام دیا ہے جس کے لئے کراچی میں مامور کیا گیا تھا۔ آنے والا وقت یقیناً فوج اور رینجرز کے لئے نہایت خطرناک دکھائی دے رہا ہے اور ملک میں نفرتوں کے جو بیج بوئے گئے ہیں اور جس طرح کراچی کے عوام کو ان کے اپنے گھروں میں دہشت گردی کے ذریعہ دہشت زدہ کیا گیا ہے۔ اس کا پھل کھانے کا وقت قریب آرہا ہے۔ اللہ کرے میرا اندازہ غلط ہو مگر مجھے ملک میں خون ہی خون دکھائی دے رہا ہے اور یہ خونی کھیل سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کراچی میں ہی کھیلا جائے گا۔
گزشتہ چند سالوں سے ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے جس طرح بلوچوں، پختونوں اور سندھ کے شہر کراچی میں عوام کے سروں پر ایک جنگ مسلط کر رکھی ہے اور جس کا ہلکا سا اظہار فوج کے ترجمان نے گزشتہ دنوں اپنے ایک خطاب میں کیا تھا کہ ملک کی بقاءاور سلامتی کے لئے سب جائز ہے۔ اور یہ بات انہوں نے ایک ایسے موقع پر کہی کہ جب اُن سے Missing Persons کے بارے میں سوالات کئے گئے۔ انہوں نے اپنے اس مختصر سے وضاحتی بیان پر واضح طور پر تحکمانہ انداز اپناتے ہوئے کہا تھا کہ Missing Persons کے بارے میں زیادہ بات نہ کی جائے اور انہوں نے اس حوالہ سے جیو ٹی وی کے اینکر حامد میر پر طنز کے تیر برسائے تھے کہ انہیں مسنگ پرسنز سے بڑی ہمدردی ہے۔ درحقیقت Missing Persons سے اور ان کے اہل خانہ سے ہر وہ شخص ہمددی رکھے گا جو اپنے ہم وطن کے لئے احساس رکھے گا۔ یہ ممکن ہے کہ ان مسنگ پرسنز میں کچھ ایسے بھی ہوں جو ملک کے خلاف کام کررہے ہوں مگر انہیں عدالتوں میں لانے کی بجائے خاموشی سے اٹھا کر خفیہ جگہ منتقل کردینا آئین اور قانون کے منافی ہے اور قابل مذمت ہے۔ حتیٰ کہ اس موضوع پر جس نے بھی لکھا اور جو بھی بولا، اسے دھمکیوں اور بدمعاشیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ متناسب انداز میں فوج میں بھرتیوں کا نہ ہونا، پنجاب رجمنٹ میں 100 فیصد پنجابی، سندھ رجمنٹ، فرنٹیئر رجمنٹ اور بلوچ رجمنٹ میں 95 فیصد بھی وہاں کے مقامی افراد کے بجائے 95 فیصد پنجابیوں کا ہونا، انارکی پھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔ چلئیے ایک وقت کو یہ مان لیا جائے کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد چونکہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہے چنانچہ اس کا کوٹہ مناسب ہونا چاہئے مگر یہاں تو ایسی اندھیر نگری چوپٹ راج ہے کہ پنجاب کے علاوہ کے دیگر صوبوں کی فوج کا تعلق پنجاب سے ہے اور یہی وجہ ہے کہ دیگر صوبوں کے وسائل اور عوام کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا جارہا ہے جو ظلم کے خلاف بولے اسے خاموش یا غائب کردیا جاتا ہے۔ اب کوئی بتائے کہ جب یہ پاکستان کے حب الوطن اپنے حقوق نہ ملنے پر جب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آواز حق بلند کریں تو انہیں ملک کا غدار کہہ کر پکارا جائے اور انہیں واجب القتل یا واجب الاغواءقرار دے دیا جائے مگر آخر کب تک؟ جب ملک میں انصاف نہیں ملے گا تو کیا عوام پاکستان مخالف قوتوں کے آلہ کار نہیں بنیں گے؟۔ یقیناً انہیں اس کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آئے گا کہ جس کے پاس جا کر فریاد کرسکیں۔ یوں پاکستان کے دفاع کرنے والے نہ صرف ملکی سطح پر تنہا ہوتے جارہے ہیں بلکہ باہر کے دشمنوں سے لڑنے کی سکت بھی آہستہ آہستہ کھو رہے ہیں اور یہی الارمنگ صورتحال ہے۔ جس کے سبب ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا فاتحانہ انداز سامنے آیا ہے۔ آج کی صورتحال میں سندھ کی دو بڑی جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے علاوہ دیگر مختلف جماعتیں بھی فوج کے خلاف کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ کیا پاکستان کے عوام اپنے ملک کی اسٹیبلشمنٹ سے یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتے کہ انہوں نے گزشتہ 70 سالوں میں ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب کیوں نہیں کیا۔ انہیں کل فری ہینڈ اگر دیا گیا تھا تو آج ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا کیا جواز بنتا ہے۔ الطاف حسین نے پرچہ آﺅٹ کردیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ شروع ہونے والے ملک کے امتحان میں کون کون پاس ہوتا ہے اور کون فیل۔ اگر فیل ہونے والی ہماری اسٹیبلشمنٹ ہوئی تو پھر پاکستان کا کیا ہوگا؟ کیونکہ جب چوکیدار خود چور بن جائے تو پھر
کسے گواہ کریں کس سے منصفی چاہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں