Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 85

انقلابی تنظیمیں

کافی عرصے سے ایک بات تقریباً ہر پلیٹ فارم پر موضوع بحث ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سازشیں زور پکڑ رہی ہیں اور یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ تخریبی کارروائیوں میں براہ راست انڈیا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں۔ کلبھوشن کے علاوہ کئی ”را“ کے ایجنٹ پکڑے گئے یا مار دیئے گئے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے ایجنٹوں کی موجودگی کی اطلاعات بھی ہیں۔ حال ہی میں اسرائیل کا پائلٹ گرفتار ہو چکا ہے۔ دوسری طرف افغانستان اور ایران پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے، اب جو سوال پیدا ہو رہا ہے وہ سوال بے شمار پاکستانیوں کے ذہن میں موجود ہے جس کا برملا اظہار بھی کیا جاتا ہے کہ ”یار پاکستان میں ایسی کون سی دولت ہے جو غیر ملکی یہاں سازش کریں گے“ اور کچھ لوگ اس بات پر خوب مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ یہی ان سب کی بھول ہے۔ ان کے خیال میں پاکستان ایک غریب، قدرتی وسائل سے محروم اور قرضے اور امداد پر چلنے والا ملک ہے۔ کیونکہ مفاد پرست سیاست دانوں نے عوام کو یہی تاثر دیا ہوا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی خواہش صرف یہ ہوتی ہے کہ اقتدار ان کے پاس آجائے اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے، چاہے ملک کو نقصان پہنچے، ان کو اس بات کی قطعی پرواہ نہیں ہے کہ عوام بھوکے مریں، سیاسی پارٹیوں کی کھینچا تانی، چپقلش اور سازشوں کی وجہ سےکوئی ایک پارٹی حکومت میں نہیں رہ سکتی، اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی پارٹی حکومت میں آئی، اسے خود بھروسہ نہیں رہتا کہ اس کی حکومت کتنے دن رہے گی اور یہ کرسی کسی بھی وقت چھن سکتی ہے لہذا وہ صرف وہ راستے ڈھونڈنے میں مصروف رہے جس سے جلد از جلد پیسہ بنایا جا سکے۔ ملکی خزانے کو لوٹ کر پیسہ غیر ممالک منتقل کیا جا سکے۔ نہ تو انہوں نے زمینی معدنیات کی طرف توجہ دی اور نہ ہی تیل نکالنے کے اسباب پیدا کئے بلکہ ان شیطانی قوتوں کے آلہ کار بنے جنہوں نے ان کو ان تمام منصوبوں سے باز رکھنے کے لئے زر و جواہر سے ان کے منہ بند کئے کیونکہ یہ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان مضبوط نہ ہو اور ہمارے رحم و کرم پر رہے اور ایک دن اس تمام دولت پر ہم قابض ہو جائیں لہذا ہر حکمران نے عوام کو یہی تاثر دیا کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہے اور ہم قرضے پر پل رہے ہیں۔ لہذا ہمارے عوام کے خیال میں پاکستان میں کچھ نہیں ہے اور ہم ایک غریب ملک کے باشندے ہیں لہذا اس ملک کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ غیر ملکی اس میں دلچسپی لیں۔
لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان اتنا اہم نہیں ہے تو چائنا نے سی پیک معاہدہ کیوں کیا؟ اور یہ معاہدہ ہونے کے بعدکئی ممالک میں بے چینی کیوں پھیل گئی، روس نے بھی قدم بڑھائے کہ اسے بھی سی پیک میں شامل کیا جائے، ادھر سعودی حکمران بھی فوراً پاکستان پر مہربان ہوگئے اور ارادہ ظاہر کردیا کہ سی پیک معاہدے میں ان کا بھی نام ہو، اب رسہ کشی شروع ہو گئی، اسرائیل، انڈیا کی پوری کوشش ہے کہ یہ منصوبہ ناکام ہو جائے، جس کی بناءپر دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، دوسری طرف امریکہ کبھی نہیں چاہتا کہ روس اور چائنا کی رسائی پاکستان تک ہو، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ دو سو سال سے انگریزوں اور روس کی یہی کشمکش چل رہی ہے کہ کسی ایک کا قدم افغانستان پر نہ جم سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان بننے سے پہلے ایک بڑا علاقہ افغانستان میں شامل تھا۔ یہی کشمکش آج بھی جاری ہے۔ اب برطانیہ کے ساتھ امریکہ بھی روس کے مقابل ہے۔ بہرحال پاکستان میں دہشت گردی کی اصل وجہ یہ ہے کہ پاکستان کو پسماندہ رکھا جائے اور اسے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا جائے۔ لہذا سازشوں کے جال بنے جاتے ہیں اور کچھ پاکستانی شہریوں کو پیسے کا اور اچھی زندگی کا لالچ دے کر اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں ہمارے کرپٹ حکمرانوں نے کبھی کوئی توجہ نہیں دی۔ نہ کوئی ان علاقوں میں ترقیاتی کام ہوئے، نہ ہی ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایا گیا، ایسے علاقوں میں مایوسی اور محرومی نے جنم لیا لہذا دشمن عناصر ایسے ہی کسی علاقے سے کسی کو اپنا آلہ کار بناتے ہیں اور اس کے ذریعے علاقے کے لوگوں کو محرومی کا احساس دلا کر فوج اور حکومت کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کرتے ہیں جس کے باعث جہادی اور انقلابی گروپس جنم لیتے ہیں۔
ملک کے تمام حصوں میں مثلاً بلوچستان، کے پی کے، سندھ خصوصاً کراچی شہر ان تمام علاقوں میں کرپٹ حکمرانوں نے یہاں کے باشندوں کو بنیادی سہولیات کے لئے بہت تکلیفیں دیں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک نہ رکھا جس کے باعث دشمن قوتں نے ایسے علاقوں میں اپنے جال بچھائے، نئے نئے لیڈر اور تنظیمیں کھڑی ہوتی رہیں اور آج کل ایک نیا شوشہ موضوع گفتگو بنا ہوا ہے اور وہ ہے ”منظور پشتین“ کی پارٹی پشتون تحفظ موومنٹ۔ پی ٹی ایم کیا ہے اس نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں جنم لیا۔ جہاں سے منظور پشتین نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی اور چند دوسرے طلباءکے ساتھ اس تحریک کی بنیاد ڈالی۔ شروع میں اس تحریک کا نام محسود تحفظ موومنٹ تھا۔ محسود وزیرستان میں محسود قبیلے کا علاقہ ہے۔ اس تحریک کے صرف دو مطالبات تھے کہ فوجی آپریشن کے دوران وزیرستان میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی صفائی کی جائے اور لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے اور اگر وہ قیدی میں ہیں تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ فوج نے بارودی سرنگوں کو صاف کیا، جس میں فوج کے کئی جوان شہید ہوئے، اس تحریک کے یہی دو مطالبات تھے، یہ تحریک 2014ءمیں شروع کی گئی تھی۔ 2018ءمیں اس تحریک کو کافی شہرت ملی اور کئی پختون برادر اس میں شامل ہوئے۔ اس کی وجہ ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کا قتل تھا جو پولیس کے جعلیپولیس مقابلے میں شہید ہو گیا تھا۔ اور اس جعلی مقابلے میں راﺅ انوار ملوث تھا لہذا نقیب اللہ محسود کے والد کو انصاف دلانے کے لئے پی ٹی ایم آگے بڑھی اور کافی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوئے اس وقت تک اس تنظیم کا نام محسود تحفظ موومنٹ ہی تھا لیکن نقیب اللہ کے واقعے کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے پشتون تحفظ موومنٹ رکھ دیا گیا۔ بس اس مقام پر دشمن ملک کی ایجنسیوں نے اس تنظیم کی مقبولیت دیکھتے ہوئے منظور پشتین پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اسے مالی امداد دی گئی اور پاک فوج کے خلاف آمادہ کیا۔ منظور پشتین چونکہ پہلے ہی پاکستان فوج کے وزیرستان آپریشن کے خلاف تھا اور اس کے خیال میں وزیرستان کے بے گناہ مارے جانے والے افراد کی ذمہ دار پاک افواج تھی لہذا وہ جلد ہی دشمنوں کی ہاتوں میں آگیا چونکہ انڈیا اور اسرائیل کے ایجنٹوں سے مالی امداد بھی ملی لہذا وہ پورے طور پر پاکستانی فوج کے ساتھ لڑنے پر آمادہ ہوگیا لیکن پاک فوج کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، پاک فوج نے ہر ہر مقام پر ملک کو بچانے کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں اور ابھی تک سینہ سپر ہیں۔ دشمن کی ہر چال کو ناکام بنانے کا عہد کیا ہوا ہے۔ عوام میں فوج کے خلاف تمام غلط فہمیاں ان دشمن ممالک کے ایجنٹوں نے پھیلائی ہوئی ہیں۔ ملک سرحد کی جنگ سے کبھی نہیں ٹوٹے، ہمیشہ اندرونی سازشوں سے ٹوٹتے ہیں۔ شرپسند عناصر جس میں صرف باہر کے نہیں بلکہ اندر کی سازشوں سے پیدا شدہ اندر کے لوگ بھی شامل ہیں۔ ہر تھوڑے عرصے بعد کوئی نہ کوئی انقلابی لیڈر کھڑا ہو جاتا ہے۔ کبھی سندھ سے تو کبھی پنجاب سے اور زیادہ تر کے پی کے اور بلوچستان سے اور ان سازشوں کا مقابلہ ہماری فوج اور آئی ایس آئی کررہی ہے۔ اور اس علاقے کے رہنے والے محب وطن عوام کررہے ہیں۔ پاک فوج نے بے شمار آپریشن کئے اور شرپسند کاررائیوں کو ناکام بنایا۔ کئی سازشوں کو بے نقاب کئے بغیر یعنی عوام کے علم میں لائے بغیر خاموشی سے ختم کردیا۔ اس جنگ میں نہ جانے کتنے فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں اور ابھی تک ہو رہے ہیں۔ لیک ہم صرف سیاسی چقپلش کی بناءپر فوج کو بھی بُرا کہتے ہیں۔ دہشت گردوں اور غیر ملکی شرپسند عناصر کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں فوج کا ساتھ دینا چاہئے اور منظور پشتین جیسے دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے۔ خدارا حقائق پر نظر ڈالیں اور فوج کی قربانیوں کو نظر انداز نہ کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں