37

ذیابیطس کے مریض اور رمضان کے روزے

کراچی: بیسویں صدی تک عام خیال تھا کہ ذیابیطس اور دل کے مریض روزہ نہیں رکھ سکتے لیکن پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں ایپیڈار ( ایپڈیمولوجی آف ڈائی بیٹس اینڈ رمضان) اسٹڈی اور پاکستان میں مقامی سطحوں پر کیے گئے مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ دل اور شوگر کے مریض اپنے ڈاکٹروں کے مشورے اور رہنمائی سے ماہِ صیام کی برکتیں اور رحمتیں سمیٹ سکتے ہیں۔
ذیابیطس اور روزے کے چار چیلنج:
ذیابیطس کے مریض کو روزے میں ممکنہ طور چار بنیادی مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے ان میں سے ایک خون میں شکر کی مقدار میں کمی ہے جسے ”ہائپوگلائیسیمیا“ کہا جاتا ہے، ملک بھر کے مختلف اسپتالوں کی جانب سے کیے گئے مطالعات سے یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ عام دنوں کے برعکس رمضان میں ذیابیطس کے مریضوں میں روزہ رکھنے کے باوجود بھی شوگر کی کمی کے واقعات زیادہ نہیں ہوتے بلکہ ان کی تعداد عام حالات کے تحت ہی ہوتی ہے تاہم شوگر کی مقدار ان لوگوں میں زیادہ کم ہوتی ہے جو رات کو اچھی طرح کھانا نہیں کھاتے اور سحری نہیں کرتے۔ یا سحری میں تاخیر سے ا±ٹھنے پر صرف دوا کھاتے ہیں اور کھانا چھوڑ دیتے ہیں جب کہ سحری کرنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ روزے میں غیرمعمولی مشقت سے خون میں شکر کی سطح کم ہوجاتی ہے۔
دوسری کیفیت میں خون میں شکر کی مقدار کا بڑھ جانا ہے جسے ”ہائپرگلائسیمیا“ کہا جاتا ہے اس کے نتیجے میں مریض کوما میں جاسکتا ہے جب کہ ٹائپ ون کا کوما بہت جلدی واقع ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں ہفتہ 10دن تک شوگر بڑھتی رہتی ہے اور کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ یہ بڑھتے بڑھتے اس درجے پر پہنچ جاتی ہے کہ مریض کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
شوگر کے مرض میں تیسری پیچیدگی کا تعلق موسم سے ہے اور اس وقت پاکستان میں موسمِ گرما ہے جس کے باعث گرمی اور پسینے سے جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے۔گرمی میں عام افراد کوتو پانی کی کمی کا مسئلہ درپیش ہوتا ہی ہے لیکن ذیابیطس کے مریضوں میں یہ مسئلہ بہت جلد بڑھ جاتا ہے اس لیے ایسے افرادکو چاہیے کہ افطار کے بعد سے سحری ختم کرنے تک اپنے جسم میں پانی کی مقدار پوری کریں۔ گرمی کے موسم میں بہت مشقت اور پسینہ بہانے سے گریزکریں۔
شوگر کے مرض کا چوتھا مسئلہ جسم میں خون کے لوتھڑے بننا ہے، گرمیوں اور پانی کی کمی سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کے لوتھڑے بن سکتے ہیں یہ لوتھڑے دل کی شریانوں میں جم سکتے ہیں اور ہارٹ اٹیک کے ساتھ دیگر بہت سے امراض کی وجہ بھی بن سکتے ہیں لہٰذا اس کے لیے دو کام ضروری ہیں کہ ذیابیطس کے مریض پانی کی مقدار پوری کریں اور خون کو پتلا کرنے والی جو دوائیں استعمال کررہے ہیں انہیں بھی جاری رکھیں جب کہ رمضان شروع ہونے سے قبل اپنے معالج سے بات چیت کرکے اپنی ادویات کے اوقات طے کرلیں۔
ذیابیطس کے مریض:
عام طور پر ذیابیطس کے مریض جتنی دوا صبح کے اوقات میں لیتے ہیں اس کی ساری مقدار شام میں لے لیتے ہیں اور سحری میں آدھی خوراک کھاتے ہیں۔ مثلاً ایک مریض ایک گولی صبح ناشتے کے بعد اور ایک گولی شام میں لیتا ہے تو وہ رمضان میں عموماً ایک گولی روزہ کھولتے ہی لیتا ہے جب کہ سحری میں وہ آدھی گولی لیتا ہے اس کا بہترین مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے معالج سے دواو¿ں کے شیڈول پر مشورہ کریں اور خود سے خوراک تجویز کرنے سے گریز کریں۔
شوگر کے مریض کا ذہنی طور پر تیار رہنا:
ذیابیطس کے مریض کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے کہ اسے کسی بھی وقت روزہ کھولنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ذیابیطس کے مریض کی شوگر60 یا اس سے نیچے چلی جائے یا پھر 300 یا اس سے اوپر ہوجائے تو وہ فوری طور پر روزہ کھول لے۔
ذیابیطس اور سحری:
ذیابیطس کے مریض سحری میں ایسی غذائیں کھائیں جو دیر سے ہضم ہوں، عام حالات میں ذیابیطس کے مریض پراٹھا نہیں کھاسکتے لیکن وہ سحری میں کم تیل میں تلا ہوا پراٹھا کھاسکتے ہیں۔ دیر سے ہضم ہونے والی غذا میں حلیم بھی شامل ہے جس میں گھر کا حلیم بہتر تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں فائبر بہت زیادہ ہوتے ہیں جس سے ہمیں دیر سے بھوک لگتی ہے اوربہت دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس رہتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کو کولیسٹرول بڑھنے کے خدشات کے باعث انڈے کے استعمال سے منع کیا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ انڈے کی زردی نقصان دہ نہیں ہوتی اور اس میں دماغ کو فائدہ پہنچانے والے اجزا ہوتے ہیں جو خون میں کولیسٹرول بڑھانے کا باعث نہیں بنتے، انڈے میں 250 ملی گرام کولیسٹرول کی بات عام تھی لیکن اب نئی تحقیق کے مطابق اس میں صرف 160 ملی گرام کولیسٹرول ہوتی ہے۔ شوگر کے مریض احتیاط کے طور پر نصف زردی کھاسکتے ہیں جو 80 ملی گرام کولیسٹرول کے برابر ہوتی ہے اوراگر تلے ہوئے انڈے سے پیاس زیادہ بڑھے تو انڈے کا شوربہ بھی بنایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ سبزی یا چکن کا سالن بھی بنایا جاسکتا ہے۔
ذیابیطس اور پیاس:
جن مریضوں کو پیاس زیادہ لگتی ہے وہ سحری میں الائچی کا قہوہ اس طرح استعمال کریں کہ سادہ چائے میں الائچی ابال لیں اور اس میں معمولی دودھ شامل کریں اس سے پیاس کم لگتی ہے اور اگر مریض کو بلڈ پریشر کا مسئلہ نہ ہو تو نمکین لسی پینے سے بھی روزے میں پیاس کم لگتی ہے۔
کھجلہ اور پھینی سے پرہیز:
کھجلہ اور پھینی میں گھی اور مضر صحت تیل کا استعمال کیا جاتا ہے اس لیے اس کے استعمال سے پرہیز کریں اور اس کے متبادل کے طور پر سویاں کھائی جاسکتی ہیں۔
افطار:
ذیابیطس کے مریضوں کو افطار میں کھجورکھانے سے منع کیا جاتا ہے جو غلط ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ ایک کھجور میں 6 گرام کاربوہائڈریٹس ہوتی ہیں جس میں معدنیات، فائبر ، فاسفورس اور پوٹاشیم ہوتا ہے۔ افطار سے قبل آخری وقتوں میں تھکاوٹ اور بوجھل پن کی وجہ بھی پوٹاشیم میں کمی واقع ہوتی ہے جسے کھجور کھاکر فوری طور پر دور کیا جاسکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض ایک کھجور کھاسکتے ہیں اوراگر ان کی شوگر کنٹرول میں ہے تو وہ 2 کھجوریں بھی کھا سکتے ہیں، پھلوں کی چاٹ بغیر چینی اور دودھ کے کھائیں، کٹے ہوئے پھلوں میں تھوڑا سا لیموں شامل کرلیں توبہت فائدہ ہوگا۔ مشروب میں ایک گلاس لیموں پانی شامل کرلیں اور نمک چینی سے احتیاط کریں۔ ذیابیطس کے مریض گھر کا بنا ایک سموسہ اور چند پکوڑے استعمال کرسکتے ہیں جب کہ یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ نمک، چینی اور تیل (گھی) کا ملاپ ذیابیطس کے مریض کے لیے بہت مضر ہوتا ہے۔
روزہ اور رات کا کھانا:
شوگر کے مریض رات کو ایک چپاتی ہلکے سالن کے ساتھ یا سلاد اور رائتہ کے ساتھ ایک پلیٹ ابلے ہوئے چاول کھاسکتے ہیں اور سوتے وقت بھوک لگتی ہے تو ایک کپ دودھ لے سکتےہیں۔
ازخود علاج نہ کریں:
اگر آپ کا کوئی دوست ذیابیطس میں مبتلا ہے تب بھی اس کے مشوروں پر سنجیدہ نہ ہوں کیونکہ ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے اس لیے اپنے ڈاکٹر کے مشوروں پر سختی سے عمل کریں اور خود سے دوا اور علاج کرنے سے دور رہیں۔
دل اور ذیابیطس کا سنگین مرض اور روزہ:
ایسے مریض جن کی شوگر مسلسل بڑھی رہتی ہے اور ایسے مریض جنہیں شوگر کم ہونے پر بار بار اپنے معالج سے رجوع کرنا پڑتا ہے وہ روزہ رکھنے سے گریز کریں اسی طرح بہت زیادہ انسولین لینے والے بھی روزہ نہ رکھیں۔ بار بار اسپتال جانے والے دل کے مریض، گردوں کے مرض میں مبتلا افراد اور حاملہ خواتین بھی روزہ نہ رکھیں۔
ذیابیطس کی اقسام:
ذیابیطس کے مریض کو دو درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جسے ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کہا جاتا ہے۔
ٹائپ ون ذیابیطس:
ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ بہت ہی کم انسولین پیدا کرتا ہے جو نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے یا لبلبہ انسولین بنانا مکمل طور پر بند کردیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم کا دفاعی امنیاتی نظام خود لبلبے کے خلیات کو تباہ کرنا شروع کردیتا ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس:
ٹائپ ٹو ذیابیطس مریض ایسے ہوتے ہیں جن کا لبلبہ انسولین تو پیدا کررہا ہوتا ہے لیکن وہ کچھ کارآمد اور کچھ بے کار ہوتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس ہوتے ہی لبلبہ ناکارہ انسولین بنانے لگتا ہے اور مفید انسولین بہت کم بنتی ہے اس کیفیت کو انسولین مزاحمت (ریزسٹنس) بھی کہاجاتا ہے جو ایک بہت خطرناک عمل ہے اس میں مریض میں دل کے امراض کا اتنا ہی خطرہ ہوتا ہے جو ایک باقاعدہ شوگر کے مریض کو ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں ہارٹ اٹیک تک ہوجاتا ہے اس مرض میں مریض کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے کیونکہ وہ زیادہ کھانے لگتا ہے اور اگلے مرحلے میں جسم میں انسولین میں تیزی سے کمی ہونا شروع ہوجاتی ہے۔
یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں انرجی ڈرنکس کی وجہ سے نوجوانوں میں بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کی شرح میں خطرناک اضافہ ہورہا ہے اس لیے ہر قسم کی انرجی ڈرنکس سے دور رہنا ضروری ہے اس کی جگہ ہمارے معاشرے میں لسی، سکنجوین، ستو اور تھادل وغیرہ قدرتی انرجی ڈرنکس ہیں جن کا استعمال توانائی فراہم کرتا ہے اور فائدہ مند بھی ہے۔ ایک اعدادو شمار کے مطابق یومیہ 2 سے 3 انرجی ڈرنکس پینے والے 20 سے 25 نوجوان روزانہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں