170

لمحہ فکریہ

ہم اپنے وطن کو چھوڑ کر سات سمندر پار اپنے بچوں کو سینے سے لگائے اس لئے آگئے کہ ہمیں نظر آرہا تھا کہ پاکستان میں حلال روزگار کے تحت زندگی گزارنا بچوں کو اچھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا، ان کی پرورش اچھے انداز سے کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی لاکھوں لوگ پاکستان میں روزمرہ زندگی کے لئے کس قدر تگ و دو کررہے ہیں مگر ملکی حالات دن بدن بدترین ہوتے جارہے ہیں۔ ہر حکمران وقت نے حکومت میں آنے سے قبل عوام عوام کا راگ الاپا، لوگوں کے جذبات سے کھیل کر حکمران بن جاتا ہے اور پھر وہی ”دھاگ کے تین پات“ وہی Stereo Type، وہی گھسے پٹے بیانات اور وہی مسائل کا رونا، چند سالوں میں اپنا بوریا بستر تو کیا مال و متاع سمیٹ کر نکل جاتا ہے اور عوام ایک بار پھر نئے وعدوں اور نئے نعروں کا سبق پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ روز اوّل سے چلا آرہا ہے۔ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا، ملک کے حقیقی حکمران اور ملک بنانے والے تو زندہ درگور کردیئے گئے۔ ہاں اُن کے مقبرے ہی شاندار بنائے گئے اور ان کی یادیں خوب منائی جاتی ہیں مگر ملک حاصل ہوتے ہی انہیں منوں مٹی تلے دفن کرکے یہ ثابت کردیا گیا کہ جس وطن کی مٹی کی آزادی کی خاطر تم نے قربانیاں دی تھیں اسی مٹی کے لئے تمہارے خون کا خراج وصول کیا جائے گا۔ اور یہی کیا گیا جو پاکستانی وطن سے نکل کر دوسرے ممالک میں آباد ہو گئے ان کے بچے بھی وہاں کے سسٹم میں ضم ہوگئے اور حق اور سچ بات کہنے والے اور اصولوں پر زندگی گزارنا سیکھ گئے۔ غیر مذاہب کے لوگوں میں رہ کر اپنے مذہب کی بھی اصل روح سے واقف ہوئے جب کہ پاکستان میں رہ جانے والی نوجوان نسل کے لئے مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ مذہبی جنونیت، اقربا پروری، مذہبی منافرت اور روزمرہ مشکلات نے نئی نسل کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ آنے والی عمران خان حکومت سے نوجوانوں نے آس لگائی اور آج بھی سنگ سنگ ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ وہاں اکیلا عمران خان کچھ نہیں کرسکتا۔ وہاں ڈوریاں ہلانے والے کوئی اور لوگ ہیں جو
”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“
مگر قوم کے پاس کوئی چوائس نہیں جنہیں پہلے سر آنکھوں پر بٹھایا وہ آج اپنے جرائم کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور جو حکومت میں ہیں وہ بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اب آجائیے بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب۔ یہاں بھی پاکستان والی گندی سیاست کا آغاز ہوچکا ہے، لوگ زبانوں اور برادریوں کی بنیاد پر الیکشن میں کھڑے ہونے لگے ہیں، مساجد سیاست کا گڑھ بن کر رہ گئی ہیں اور اگر آپ کی نوجوان نسل یہاں الیکشن لڑنا چاہے تو ہر علاقہ سے کئی ایک پاکستانی کھڑے ہو کر اور باہمی چپقلش کے ذریعہ کثیر آبادی والے مسلمان علاقوں سے بھی اپنی سیٹیں گنوا رہے ہیں، کیا ہی بہتر ہو کہ ہم خود الیکشن لڑنے کے بجائے اپنے علاقہ سے کسی گورے کو ہی کھڑا کردیں تاکہ وہ ہمارے کاموں کو بہتر طریقہ سے پایہ تکمیل تک پہنچا سکے۔ وگرنہ نظر آرہا ہے کہ آنے والے وقت میں امریکہ اور کینیڈا جیسے ممالک میں بھی پاکستانیوں اور مسلمانوں کا رہنا ناممکن بنا دیا جائے گا۔ ہمیں سوچنا ہوگا اور سنجیدگی کے فیصلہ کرنا ہو گا اور باہمی اتفاق کے ذریعہ اپنی نئی نسل کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں