79

وژن

سندھ میں تقریباً ستر سال گزارنے کے بعد جہاں آزادی (جو کہ اس خطے کو راتوں رات ہندوستان کے لاکھوں افراد کی شہادت، کھربوں روپیہ کی زمینوں اور جائیدادوں کو چھوڑنے کے بعد حاصل ہو گئی تھی) کے مفہوم یہاں کے لوگوں کے لئے یہ تھے کہ ہندوﺅں کے ہاتھوں قرضوں میں جکڑے ہوئے وڈیروں کو ان سے نجات مل گئی۔ تو غریب کسانوں کو ظالم ہندوﺅں کے شکنجے سے آزادی ملی جن کی بیٹیاں ان کے ہاتھوں گروی رکھی جاتی تھیں اور ان کے بچوں کو تعلیم نامی کسی چیز تک رسائی نہیں تھی۔ اور جو باپ اس خواہش کا اظہار بھی کرتا تو ہندو سیٹھ اسے ایک گدھا گاڑی دلا کر کہتا ہے کہ پڑھ کر کیا کرے گا، بیٹے کو کام سے لگا دے چار پیسے کما کر لائے گا۔ اس آزادی کے لئے جس کے متعلق آج دعوے کئے جاتے ہیں کہ سب سے پہلے سندھ نے اس کا نعرہ لگایا تو اس کے پس پشت یہ لالچ تھا کہ جب ہندو یہاں سے رخصت ہوں گے تو مسلمان زمینداروں کو قرضوں سے نجات ملے گی اور ان کی چھوڑی ہوئی زمینوں کو جائیدادوں پر قبضہ کرلیں گے۔ یہ گروہ جس نے کبھی بھی سندھی عوام کی فلاح بہبود اور ترقی کے لئے ذرہ برابر بھی نہیں سوچا بلکہ ہندوﺅں کی طرح اپنے ہاریوں سے وہی سلوک روا رکھا جو ہندو رکھتے تھے اس کا ثبوت یہ ہے کہ پورے سندھ میں مسلمانوں نے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا جو کچھ بھی کیا ہندوﺅں نے کیا اور انہوں نے اپنی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا انہوں نے سندھ میں فنی ادارے قائم کئے تاکہ ان کے بچے اس میدان میں آگے نکلیں مگر مسلمان وڈیروں اور پیروں نے جاہل عام کو اپنا غلام بنانے کے لئے استعمال کیا کہ کہیں یہ پڑھ لکھ کر ان کی غلامی کا طوق اپنی گردن سے نہ اتار دیں۔ یہاں کے با اثر افراد نے تقسیم کے بعد بھی یہی رویہ روا رکھا ہم نے سکھر میں اپنی ساری زندگی گزاری اور وہاں سے پیرزادہ عبدالستار سندھ کا کئی دفعہ وزیر اعلیٰ رہا اسے یہ توفیق نہ تھی کہ سکھر میں کوئی تعلیمی ادارہ قائم کردے۔ یہاں تقسیم کے وقت لڑکیوں کا ایک ہائی اسکول پی پی سی گرلز اسکول تھا جو کسی سندھی ہندو نے اپنی بچوں کے نام سے قائم کیا تھا اس کے علاوہ وہ ایک مشن اسکول بشپ میریز تھا جب کے ریلوے کا ایک ہائی اسکول تھا اس کے علاوہ ایک گورنمنٹ اسکول تھا جب کہ حد یہ تھی کہ میٹرک کے امتحان کے لئے لڑکے شکارپور جا کر امتحان دیتے تھے، وہاں بھی ایک ہندو نے ایک ہائی اسکول اور اسپتال قائم کیا تھا یہی حال پورے سندھ کا تھا مسلمان وڈیرے اپنے لہولیب میں مبتلا تھے اور جب وہ اقتدار میں آئے تو پیسے کی ہوس میں اتبداءمیں کرپشن سے کی اس سلسلے میں ایوب کھوڑو کے خلاف ایپڈو اور پروڈا جیسے قوانین کے تحت کارروائی ہوئی یہ شخص جو وزیر دفاع رہ چکا تھا کو حوالات کا منہ دیکھنا پڑا آج اسی کا تسلسل نثار کھوڑو ہے جو بڑھ چڑھ کر جمہوریت کے نعرے لگاتا ہے اسی طرح پورے سندھ میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔ نہ ہی صنعتیں قائم کی گئیں اور نہ ہی فلاحی ادارے قائم ہوئے یہ تو ہندوستان سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجروں کا کام تھا کہ انہوں نے سکھر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا اور وہاں کے نوجوانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا اس کا بدلہ سکھر کو کیا ملا؟ کیونہ اسے اردو بولنے والوں کا سفر قرار دیدیا گیا تھا لہذا اس بدقسمت شہر کے حصے میں نہ کوئی میڈیکل کالج آیا نہ ہی انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹی تو بہت دور کی بات تھی۔ سندھیوں کی تعصب اور نسل پرستی کی یہ واضح مثال ہے کہ نواب شاہ میں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج قائم ہوئے۔ لاڑکانہ میں میڈیکل کالج بنا، خیرپور میں یونیورسٹی قائم کی گئی مگر سندھی ذہنیت نے سکھر کو ان تمام اداروں سے محروم رکھا۔ یہ اس پارٹی کا متعصبانہ رویہ تھا جو خود کو بہت ترقی پسند اور عوامی کہتی تھی۔
بھٹو کے دور سے جو غیر سندھیوں کے ساتھ رویہ تھا وہ پھر بے نظیر کے دور میں بھی جاری رہا اس کی واضح مثال سندھ کا کوٹہ سسٹم ہے جو دس سال کے لئے نافذ ہوا تھا مگر آج چالیس تینتالیس سال گزر جانے کے بعد بھی یہ لعنتی سسٹم قائم ہے جس کے ذریعہ اردو بولنے والے شہری عوام کا اقتصادی اور معاشی قتل عام کیا جارہا ہے۔ آج کا سندھی جو پورے سندھ پر قابض اور جو اب ایک غاصب شوہر کے قبضے میں ہے جس نے بیوی کو قتل کروا کر اور ایک جعلی وصیت لہرا کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے اس نے لوٹ مار اور کرپشن کی ساری حدیں پار کردی ہیں اور سندھیوں کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیا ہے جہاں ایک ہی منشور ہے کہ جس طرح چاہو جیسے چاہو لوٹ مار کرو لہذا حکومت کے برسر اقتدار گروہ سے لے کر اب نچلے درجے تک پورے سندھ میں کرپشن کی ایسی روایات قائم ہو رہی ہیں جسے نام نہاد پڑھے لکھے سندھی بھی ایک وژن کا نام دیتے ہیں۔ صحیح معنوں میں زرداری نے بدعنوانی لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا ایسا وژن قائم کیا ہے جس سے ہر سطح پر سندھی لوٹ مار میں مصروف ہے بلکہ اس کو ایک آرٹ کا درجہ دیدیا گیا ہے کہ جو جس جس طریقے سے چاہے مال حرام حاصل کرے اور فخر سے نعرہ لگائے کہ یہ ہمارے لیڈر کا وژن ہے اس طرح ان لٹیروں نے سندھ میں ایک ایسی کرپٹ سوسائٹی قائم کردی ہے جس کی زندگی اور موت اس غاصب کے وژن کے تحت ہے کہ اگر انہیں حکمرانی سے محروم کیا گیا تو ان کے بھی لالے پڑ جائیں گے لہذا وہ یک زبان ہو کر اس لٹیرے کے اقتدار کی سلامتی کے لئے نعرے لگاتے رہتے ہیں جس کے نمرو، فرعون اور شدّاد کو مات دیدی ہے اور اس کی پوری قوم اس مقولے کے تحت زندگی گزار رہی ہے کہ
با سیر با عیش کوش کہ عالم دوبارہ شیت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں