41

تاریخ کا سبق

دُنیا بھر کے حکمرانوں کی مکافات عمل کی داستانیں اب سوشل میڈیا پر جا بجا دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پھر بھی پاکستان کے حکمران اس سے سبق حاصل کرنے کے بجائے وہی وطیرہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی صاحبان اختیار نے بانیءپاکستان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس کی غمازی وہ منظر تھا جس میں ایک بوسیدہ ایمبولینس میں شاہراہ فیصل پر آخری سانسیں لینے والے محسن پاکستان کو سسکتا ہوا کڑی دھوپ میں بے یارومددگار، بے رحم موت کے شکنجے میں جکڑنے کے لئے چھوڑتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر اس ہی طرح کی صورت حال تقریباً پانچ سال بعد راولپنڈی میں لیاقت باغ میں شہید ملت کے بوسیدہ بنیاں کے نیچے سینے پر گولیاں برسا کر نمک حرامی کا ثبوت دیا گیا۔ اس چھپے دشمن نے پاکستان کے ان سچے حکمرانوں کے ساتھ ہی یہ سلوک نہیں روا رکھا بلکہ پورے پاکستان کے وجود کو لہولہان کرکے پاکستان کی بنیادوں میں بھی معماران پاکستان کا خون اور ان کی آخری سانسیں بھی شامل کردیں جس کی سسکیوں کو اب تقریباً ستر سال کے گزرنے کے باوجود پاکستان کی بنیادیں بھی لرزتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں اور پھر بعد میں آنے والے دور میں ان لرزتی ہوئی بنیادوں کو مسلسل جھٹکے کبھی غلام محمد کی صورت میں ملک کی حکمرانی کے تحت لگتے، کبھی اسکندر مرزا جیسے حکمران کی صورت۔ مکافات عمل کا آغاز اسکندر مرزا سے ہوا، جس نے ملک میں اندرونی سازشوں کے ذریعہ منتخب نمائندوں کو اقتدار سے دور رکھا جب اسکندر مرزا بھی ایوب خان کی صورت مکافات عمل سے دوچار ہوئے یوں اسکندر مرزا کو ایوب خان کے مارشل لاءکے تحت اقتدار سے معزول کرکے وقت نے وہی سزا کا مرتکب قرار دیا جو اس نے منتخب نمائندوں کے ساتھ سلوک روا رکھا۔
ایوب خان نے اسکندر مرزا کے انجام سے سبق حاصل کرنے کے بجائے بہت سے منتخب سیاست دانوں کو ایبڈو کے تحت سیاسیت میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی اور ایک طویل عرصے تک ملک میں اپنی آمریت کے تحت حکمرانی کی مگر جب محترمہ فاطمہ جناح نے اس کے خلاف الیکشن میں مقابلہ کیا تو ان کو بھی اپنے سامنے سے ہٹا دیا۔ مگر جب اس کی اپنی کابینہ کے رکن جو اس کو اپنا ڈیڈی کہتے نہیں تھکتے تھے، انہوں نے اس کے خلافملک گیر تحریک میں حصہ لیا تو ایوب خان بھی مکافات عمل کے تحت اقتدار سے دستبردار ہو کر اپنے فوجی نائب یحییٰ خان کو اقتدار حوالے کرکے تاریخ کے سبق کا حصہ بن گئے۔ یحییٰ خان بھی بنگالی مسلمانوں کو اقتدار منتقل کرنے کے بجائے بھٹو کو اقتدار حوالے کرکے مشرقی پاکستان میں نوے ہزار فوجیوں کو رسوا کرکے تاریخ کا حصہ بن گئے۔ یوں اقتدار اور شاید پہلی بار اختیار کبھی کافی عرصہ بعد ایک سول مارشل ایڈمنسٹریٹر ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کرکے انتقال اقتدار اور اختیار ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی 1300 ملکی بیوروکریسی کے ان ٹیکنوکریٹ کو بہ یک جنبش قلم برطرف کرکے اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کردی۔ انہوں نے بھی آہستہ آہستہ اپنے دیرینا ساتھیوں کے ساتھ اپنے مخالفین کے ساتھ بھی غیر انسانی برتاﺅ کرنا شروع کردیا۔ یوں ان کے خلاف بھی تحریک شروع ہو گئی اس کا فائدہ فوجی حکمران ضیاءالحق نے اٹھا کر ان کو اقتدار سے معزول کرکے تخت دار پر ٹانگ دیا اور پھر جن کی خاطر اس کو یہ عمل کرنا پڑا انہوں نے ہی تقریباً گیارہ سال بعد ہوائی حادثہ میں اس کو اس کا مزار اسلام آباد کے اسی علاقے میں قائم کردیا جس کو اب لوگ جبڑا چوک کہتے ہیں۔ پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کا دور شروع ہوا جو ایک دوسرے کے خلاف ان قوتوں کے ساتھ شریک ہو جاتے جن کے پاس اختیارات بھی تھے پھر صاحب اختیار ہی صاحب اقتدار مشرف کی صورت ظاہر ہو گئے جس کے نتیجہ میں پہلے نواز شریف کو ملک بدر ہونا پڑا پھر بعد میں بے نظیر کو ملک عدم۔ یوں اقتدار نواز شریف سے ہوتا ہوا زرداری تک پھر دوبارہ نواز شریف تک۔ اب اقتدار عمران خان کے حوالے۔ اب عمران خان کا سلوک نواز شریف اور زرداری کے ساتھ ہے۔ نواز شریف اب تقریباً ساٹھ کی دہائی کی عمر کے ہوگئے وہ تقریباً ستر سال کے ہونے کے ساتھ دل کے مریض ہو گئے ہیں اس کے علاوہ اس ہی سال اپنی شریک زندگی سے بھی محروم ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے وہ اندر سے مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں اس عمر میں جب عموماً لوگ نانا دادا بن کر اپنے بچوں کے ساتھ زندگی کا آخری حصہ گزارتے ہیں نواز شریف جیل کی سلاخوں کے پیچھے تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں جو کہ ان کی اڑسٹھ سالہ زندگی کا انوکھا تجربہ ہے اس سے پہلے انہوں نے اپنی زندگی کو بڑے شاہانہ انداز میں گزارا ان کی ایک ابرو چشم پر بڑی سے بڑی خواہش پوری ہو جاتی۔ آخری عمر میں انہوں نے نظام کو تبدیل کرنے کا نعرہ بلند کیا، اداروں کو یہ نعرہ پسند نہیں آیا، ان کا سب سے بڑا مخالف عمران خان ملک کا حکمران بنا دیا گیا جو اس بات کی ضد پر قائم ہے کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ ایک طرف عمران خان کی ضد کہ اس شخص نے اپنے خاندان کو نوازنے کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں کو بے پناہ نوازا اور ملک کے خزانے کو بے پناہ نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے ملک بدحالی کے سمندر میں ڈبکیاں لگا رہا ہے اس کا ذمہ دار وہ براہ راست ان دونوں بھائیوں کو سمجھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو اس وقت سب سے زیادہ نا اہل کرپٹ لوگ خود اس کے گرد جمع ہیں جب کہ نواز شریف کے پاس بہت سے اہل لوگ بھی تھے مگر ساتھ ساتھ ان پر کرپشن کے بھی الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ عمران خان کی مجبوری یہ بھی ہے کہ وہ الیکٹ ایبل اور نا اہل افراد کو اپنے ساتھ ملا کر انتخابات میں کامیاب ہو کر اپنے منصوبوں پر عمل پیر اہو سکے اب ان کے پاس اقتدار کی منزل کے ساتھ ساتھ قوت بھی حاصل ہو گئی ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ احتساب اپنے اطراف سے شروع کریں جس طرح نواز شریف کو عروج سے زوال تک کی منزل تک پہنچایا ہے اس ہی طرح وہ خود کو بھی احتساب کے لئے پیش کریں وہ بدعنوان لوگوں کو اپنے ساتھ ساتھ بٹھا کر شفاف احتساب کو لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں بنا سکتے۔
عمران خان کا ایک سب سے بڑا مقصد تو یہ ہی حاصل ہو گیا کہ نواز شریف کو ان کے عروج میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کروا کر نا اہل ساری زندگی کے لئے کروا دیا پھر ان کو کرپشن کے الزامات کے تحت سپریم کورٹ نے ساری زندگی کے لئے نا اہل قرار دے دیا جس کی پاداش میں اب انہیں جیل کی کوٹھریوں میں بقیہ زندگی گزارنی ہوگی۔ اس کو کہتے ہیں مکافات عمل جس کے لئے ہر حکمران کو ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ جنرل مشرف جیسا فوجی حکمراں جس کے پیچھے اس کا پورا ادارہ کھڑا ہے، مختلف مقدمات میں پاکستان کی عدالتوں میں دھکے کھانے کے بعد آج وطن سے دور کسی ہسپتال کی بستر پر لیٹا بیماریوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی عدالتوں سے مختلف عدالتوں میں مقدمات کے سامنے پیش ہونے کے لئے کورٹ کے نوٹس وصول کررہا ہے۔
آصف زرداری جس کے پیچھے بھٹو خاندان کے ساتھ ساتھ اس کی پوری پارٹی موجود ہے وہ بھی ایک طویل عرصہ جیل میں گزارنے کے باوجود اب بھی پاکستان کی مختلف عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہا ہے۔ یہ ہی سب کچھ دوسرے حکمرانوں کے ساتھ بھی پیش ہوسکتا ہے۔ عمران خان اس سے مبرا نہیں ہے اس لئے عمران خان کو بھی اس طرح کے حالات کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اس کا تدارک بھی اس طرح سے ہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے ایسے ہی سلوک کا مرتکب ہو جیسا کہ بعد میں اس کو بھی سامنا کرتے ہوئے اس طرح کے حالات نہ درپیش ہوں جیسا کہ اب نواز شریف، پرویز مشرف اور آصف زرداری کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ اب ایک طرف عمران خان کا موقف ہے دوسری طرف نوازشریف اور زرداری ہے، موجودہ زمانے میں سیاست کے یہ چار کردار نواز شریف، عمران خان، مشرف، زرداری کی صورت تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے جس میں جا بجا ایسے اشارے نظر آرہے ہیں جن کو مکافات عمل کا نام دیا گیا۔
عمران خان اس وقت اقتدار میں ہیں وہ اگر چاہیں تو تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنے ماضی کے حکمرانوں کے انجام سے دوچار ہونے کے بجائے اپنے مخالفین کے ساتھ ایسا ہی برتاﺅ کریں کہ جب ان کا کوئی مخالف اقتدار میں آکر ان کے ساتھ اس ہی سلوک کا ارتکاب کرے تو ان کو ان تکالیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وقت نے ان کی آنکھوں کے سامنے ساری صورت حال کھول کر رکھ دی ہے اب بھی انہوں نے اس سے سبق سیکھ کر اپنے مخالفین سے بہتر سلوک کا مظاہرہ نہیں کیا تو وہ خود کو اس طرح کے انجام سے دور نہ رکھ سکیں گے۔
تیری نظر پہ چھوڑا ہے فیصلہ دل کا
آدمی بن کر رہوں یا فرشتہ کی طرح

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں