49

”لوٹ سیل“

ایک اشتہار نما ”فن پارہ“ ملاحظہ ہو۔ یہ تحریر آپ دل پر ہاتھ رکھ کر ملاحظہ کیجئے اور پھر خود سے پوچھئیے کہ اس میں حقیقت کیا ہے؟ حاشیہ آرائی کتنی ہے؟ زیب داستان کے لئے کیا کچھ ہے؟ طنز ہے کہ، مرثیہ ہے؟ محض تفریح تفنن ہے؟ یا ایک سسکتے، بلکتے، گھٹ گھٹ کر چلتے ہوئے ہم جان لاشے کی اننگ کمنٹری ہے؟
ٹھیلے پر رکھا ہے ملک
ملک لے لو
رعایا لے لو
سب سے سستی رعایا لے لو
نہ آہ بھرے گی نہ فریاد کرے گی
ری سیل ویلیو ہے
بار بار بکے گی
ملک جس قیمت پر چاہے لے لو
ہر کام میں کام آئے گا
جس طرف چاہو مڑ جائے گا
استعمال ہوتا چلا جائے گا
بازار میں ایسا سستال مال نہیں ملے گا
یہ الفاظ، یہ تازیانے، یہ تشنع یا یہ کچوکے، یہ تیر، یہ نشر، یہ الہلائے کسی سیاسی جماعت کے مہذب لیڈر، کسی بکے ہوئے لوٹے،کسی بازاری شیدے، کسی بکاﺅ ٹی وی اینکر یا کسی دل جلے سیاسی شعبدے باز کے نہیں ہیں جو اقتدار سے محروم اپنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہے یہ ”دل کو چھلنی کردینے والے فقرے ملک کے ایک عظیم دانشور، ادیب، ڈرامہ نگار اور صاحب دل مصنف محترم نور الہدیٰ شاہ کے ہیں جن کا دامن کسی سیاسی جانب داری سے آلودہ نہیں ہے، یہ الفاظ ایک ایسا المیہ بیان کررہے ہیں جو ہر صاحب دل وطن پرست کے دل میں برچھی کی طرح ترازو ہو جائے گا۔ یہ الفاظ ان ہزاروں، لاکھوں لفظوں پر بھاری ہیں جو رات دن گندے ذہنوں سے ابلتے رہتے ہیں۔ ان ان گنت تقریروں سے زیادہ اثر پذیر ہیں جو اسمبلی کے ایوانوں، جلسہ گاہوں، تقاریر اور سرگوشیاں کے ذریعہ فضا میں تیرتے رہتے ہیں۔ یہ بالکل اس شعر کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
اس چند لائنوں کی اثر انگیزی ہے کہ جو بھی ذرا سا وطن عزیز کے لئے دل میں محبت رکھتا ہے اس کی آنکھوں میں نمی اور دل میں رنج کی ایک لہر دور جائے گی۔ آج ”مملکت خداداد“ کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس کی زندہ تفسیر ہے یہ ایک ایسا مرثہ ہے جسے طرف اہل دل کہہ سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں اور درد محسوس کر سکتے ہیں۔ اس ملک کو جسے لاکھوں افراد نے اپنی جانیں قربان کرکے ہمارے لئے بنایا تھا آج اسی کسی زمانے کے ”جنت نشان“ خطے کو اقتدار کے بھوکے، ابن الوقت، جاہ پسند اور کم ظرف لیڈروں نے اسے جہنم زار بنا دیا ہے۔ آج اس 20 کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کو ایک ایسا بکاﺅ مال بنا دیا ہے جس کے خریدار کبھی اسے قربانی کے جانور کی طرح ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہے ہیں کہ اس میں ابھی کتنا گوشت باقی ہے تو کبھی خریدار اس کے دانت دیکھ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ تو قربانی کے قابل بھی نہیں ہے۔
قصائی اس کے گوشت کی قیمت کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ بمعہ ہڈیوں کے اس کے کتنے دام ملیں گے یہ ملک ایک ایسا کہنہ مال بن گیا ہے کہ کباڑی تک اس کے دام دینے سے ہچکچا رہے ہیں کہ اگر اس کباڑ کو لے بھی لیا تو اس کے دام کھرے ہوں گے یا نہیں۔ اس مال کے مالک اس فکر میں ہیں کہ جس طرح اس کا آدھے سے زیادہ ”کباڑہ مال“ 30، 40 سال پہلے ایک بنئیے کے ہاتھ تقریباً مفت بیچ دیا تھا اس طرح اس کا بھی تیا پانچہ کرکے دلا دو، دور کرو اور پھر مال لے کر دنیا کی تفریح کو نکل جاﺅ۔ جن کے پاس اس وقت یہ مال نہیں ہے وہ سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کس طرح نوسر بازی کرکے اس مال کو ہتھیا لیں اور پھر اوپر سے رنگ و روغن کرکے اسے ٹھکانے لگا دیں۔ بعض ”دکندار“ اس کی سیل لگانے کے چکر میں ہیں اور ”ایک خریدو ایک مفت“ کے بورڈ تیار کررہے ہیں۔ کہیں سے سیلز مین بولیاں دینے کی مشق کررہے ہیں۔ بھائیو، ہر بار توں مال سستا لگا دیا ہے ابھی لے لو پھر موقعہ نہیں ملے گا، ”لوٹ سیل“ لگا دی ہے، میرے بھائیو ایک مرتبہ اگر موقعہ ہاتھ سے چلا گیا تو اتنا سستا مال پھر نہیں ملے گا۔ کچھ فراڈئیے اس مال کے لئے غیر ملکی خریداروں کو راغب کرنے کے لئے ماہر فن دلالوں کی خدمات حاصل کررہے ہیں کہ یہ بالکل مفت ہے لے لو۔ تو عام کے عام اور گھٹلیوں کے دام یعنی زمین بھی اور ساتھ میں بیس بائیس کروڑ ”جناور“ بھی جنہیں نہ چارے کی ضرورت، نہ پانی کی ضرورت، دن بھر گدھوں کی طرح جتے رہیں اور رات کو کھونٹوں پر باندھ لو، ان کی ساری تھکن ایک لوٹ لگانے سے دور ہو جاتی ہے۔ دوچار سنہرے خواب دکھا دو، روٹی، کپڑا، مکان کا نعرہ لگا دو، مفت کی روٹی کا لالچ دیدو، یہ پھر ری چارج ہو کر مزدوری کے لئے تیار، نہ رنگ لگے، نہ پھٹکری اور نگ بھی ایسا چوکھا آئے کہ بس دیکھا کرو۔ یہ موم کے بنے ہوئے پتلے ہیں یہ دیکھنے میں انسان لگتے ہیں مگر یہ سب بھیڑیں جدھو ہنکاﺅ گے یہ ادھر ہی سب کی سب دوڑی چلی جائیں گی۔ یہ ایسی بے زبان مخلوق ہے کہ نہ بندوق کے سامنے آنے سے ڈرتی ہیں اور نہ ہی چھری کے تلے آنے سے تڑپتی ہیں بلکہ ان سے محض کہدو کہ مر جاﺅ تو مر جاتی ہیں۔ یہ تاریکی میں رنگین والی وہ مخلوق ہے جسے نہ آنکھوں کی ضرورت ہے نہ روشنی کی تلاش بلکہ اس کی آنکھوں پر آپ نفرت، تعصب، بے غیرتی اور خودغرضی کے چشمے لگا کر ان سے جو کام لینا چاہو لے سکتے ہو۔
”مہربانوں! آخری موقعہ ہے کہ اتنا سستا مال حاصر ہے پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی، لوٹ سیل لگی ہے“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں