Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 79

اب ڈنڈا ہی چلے گا

پاکستان میں جب بھی کبھی کسی لسانی گروہ کی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کسی بھی وجہ سے کوئی جھڑپ ہوتی ہے تو اس جھڑپ کے ساتھ فوری طور پر ”سقوط ڈھاکہ“ کا ٹانکہ ضرور جوڑ دیا جاتا ہے وہ جھڑپ کراچی میں ہو یا بلوچستان کے کسی دور دراز علاقے میں ہو یا پھر حال ہی میں قبائلی علاقے میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر پشتون تحفظ موومنٹ کے دو اراکین قومی اسمبلی کے سربراہی میں مشتعل ہجوم کا حملہ ہو اس کے بعد سے ملک کی اپوزیشن جماعتوں اور خود میڈیا کے ایک گروپ نے اس واقعہ کے تناظر میں سقوط ڈھاکہ کا ذکر کردیا۔
میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس طرح کے واقعات کے ساتھ سقوط ڈھاکہ کے افسوسناک سانحہ کو ہی کیوں جوڑا جاتا ہے۔ میرے خیال میں اس طرح سے کرکے وہ اپنی جانب سے حملہ آوروں کو کلین چٹ دینا چاہتے ہیں اور اس سانحہ کا ذمہ دار دوسرے فریق کو ٹھہراتے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ حملہ آوروں کی ایک طرح سے حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں کہ ”لگے رہو منا بھائی“ تم اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہو جاﺅ گے، گولی شکار ایک نامور اینکر پرسن خاص طور سے پشتون تہفظ موومنٹ کی شر انگیزی کو ہوا دے رہا ہے وہ بار بار اس سانحہ کے کے ساتھ سقوط ڈھاکہ کو جوڑنے کی کوشش کررہا ہے اس لئے کہ اسے خود بھی سقوط ڈھاکہ سے ذہنی لگاﺅ ہے جو سیاسی پارٹیاں اور میڈیا پرسن اس طرح کے سانحات کے ساتھ سقوط ڈھاکہ کو جوڑتے ہیں وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے پشت پر کون سی طاقتیں تھیں۔ اور وہ یہ بھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پشتون تحفظ موومنٹ سمیت جتنی بھی لسانی تحریکیں پاکستان میں چل رہی ہیں ان کی پشت پر کن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں ہیں لیکن ان کا ذکر کرتے ہوئے کیوں ان کی زبان خشک اور قلم تھر تھرانے اور کیمرے بند ہو جانا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کی پشت پر ”را“ اور ”این ڈی ایس“ ہیں ان کے ایجنڈے پر ہی یہ لسانی گروہ سیکیورٹی فورسز سے نبرد آزما ہے وہ تو ان حملہ آوروں کو مظلوم بنا کر اور ہیرو ظاہر کرکے پیش کررہے ہیں۔ یہ ہی حال ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پی ٹی ایم کے سیکورٹی چیک پوسٹ پر حملے کے سانحہ کے ساتھ سقوط ڈھاکہ کو جوڑنے کے بیان کو ”بارگینگ ٹول“ کے طور پر استعمال کیا ہے تانکہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے نیب کے مقدمات ریلیف حاصل کرسکیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بعض میڈیا گروپس اور اس معروف ٹی وی اینکر نے ایسا کیوں کیا؟ کیوں انہوں نے حقائق کو توڑنے اور مروڑنے کی کوشش کی؟ کیا اس کا مقصد حکومت سے اشتہار لینا ہے؟ یا پھر پی ٹی ایم کی پشت پر کام کرنے والی غیر ملکی قوتوں سے کسی طرح کا تبرق وصول کرنا ہے؟ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے لیکن جو بھی ہے اس طرح سے کرکے اپوزیشن پارٹیوں اور خود میڈیا کے ایک گروپ نے ذاتی فائدے کی خاطر ملک اور قوم کا بہت بڑا نقصان کیا اس طرح کے صحافی ہی دراصل پی ٹی ایم کی شکل میں دشمنوں کے پیدا کردہ چنگاری کو ہوا دے کر شعلہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو اس ملک کی سلامتی کے ساتھ ایک طرح کا کھلواڑ ہے جب کہ بلاول زرداری کے علاوہ بعض مجھے ہوئے سیاستدانوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے دو اراکین قومی اسمبلی کا ہجوم کے ساتھ چیک پوسٹ پر حملے کو احتجاج اور جمہوری عمل کا نام دیا ہے اور ان دونوں اراکین اسمبلی کی گرفتاری پر احتجاج بھی کیا ہے۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ یہ کس طرح کی جمہوریت اور یہ کس طرح کا احتجاج ہے؟ جمہوریت تو قانون کی ماں ہوتی ہے اور کوئی ماں کس طرح سے اپنے بیٹے پر حملہ یا اسے ہلاک کرنے کی کسی کو اجازت دے سکتی ہے؟
بالکل بھی نہیں ویسے بھی پاکستان کو اس جمہوریت اور اس کی روایات نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اس طرح سے تو کسی دشمن نے بھی نہیں پہنچایا ہو گا۔ پی ٹی ایم جیسے جتنے باغیانہ ذہن رکھنے والے عناصر ہیں ان تمام نے جمہوریت ہی کا تو لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ جمہوریت کی آڑ میں بھی تو اس ملک کی بنیادیں کھوکھلا کررہے ہیں۔ دنیا کی کون سی جمہوریت احتجاج اور آزادی اظہار رائے کے نام پر سرکاری املاک کو تباہ کرنے یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ دنیا کی کوئی ایک بھی جمہوریت اس طرح کی لاقانونیت کو برداشت نہیں کرتی، پاکستان کی یہ بدقسمتی ہے کہ یہاں ہر آمریت جمہوریت کی میزبانی سے ہی وجود میں آئی اور ملک کے نامور سیاستدانوں نے خود آمریت کے نرسریوں میں پرورش پائی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ملک میں فوج کا ادارہ خودمختار نہ ہوتا تو آج وطن عزیز کا وہی حال ہوتا جو ملکی سیاستدانوں کا ہے۔ ملکی سیاستدان جس طرح سے ذاتی مفاد کو قومی و ملکی مفاد پر ترجیح دے کر ملکی ادارے فروخت کررہے ہیں ان کا بس چلتا تو وہ اس ملک کی سلامتی سے متعلق تمام چیزیں ہی فروخت کردیتے۔ یہ تو فوج کا ڈر ہے جو وہ اس طرح سے نہیں کرتے، میں کوئی جمہوریت دشمن نہیں لیکن جس طرح کی جمہوریت پاکستان میں جمہور کے بغیر کی جاتی ہے۔ میں اس کا مخالف ہوں، کس طرح سے ملکی پارلیمنٹ کو وہائٹ کالر مجرموں کا کلب بنا دیا گیا ہے جو اس کلب کا ممبر ہی محض اس لئے بنتے ہیں کہ وہ جمہوریت کے تحفظ میں آجائیں اسی طرح کی جمہوریت نے آج پاکستان کو قرضوں میں ڈبو دیا ہے یہ ہی جمہوریت سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار ہے اور ابھی اسی سقوط ڈھاکہ کے خوف سے سیکورٹی فورسز کو ڈرانے اور دھماکے کی کوشش کررہا ہے تانکہ انہیں کرپشن کے مقدمات میں ریلیف مل جائے۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر باجوہ کو چاہئے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے چیک پوسٹ پر حملے کے معاملے کو خود تحقیقات کریں اور میڈیا کو اس پر شرانگیزی سے روکنے کے لئے اقدامات کریں اور اپوزیشن کو بھی اب ایک شٹ اپ کال دینا ضروری ہو گیا ہے جو دشمنوں کے آلہ کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں