Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 149

بند دروازے

سر ،یہ ڈپٹی صاحب نے فارورڈ کے لئے بھیجی ہیں ان پر نوٹ بھی لگا ہوا ہے۔اختر نے فائلیں نئے صاحب کی میز پر رکھتے ہوئے کہا اور وہ جیسے ہی جانے کے لئے پلٹا صاحب کی آواز آئی سنو ! کیا لکھا ہے نوٹ میں زرا پڑھ کر سناو¿، اس نے حیرانی سے صاحب کی طرف دیکھا اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے کہا اس نوٹ کو پڑھ کر سناو¿ اس میں کیا لکھا ہے ، جی سر، اختر نے گھبراکر فائل اٹھائی فائل سے نوٹ نکال کر جلدی جلدی پڑھا اور نوٹ دوبارہ فائل میں لگادیا اور باہر جانے کی کوشش کی لیکن صاحب کی آواز نے ایک مرتبہ پھر قدم روک دئیے۔ایک منٹ رکو ! اختر تمھارے انگلش پڑھنے کے انداز اور لہجے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ایک تعلیم یافتہ شخص ہو ،تم نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ہے ؟ سر میں نے بی۔کام کیا ہے فرسٹ ڈویڑن میں ، کیا؟ تم نے فرسٹ ڈویڑن میں بی۔کام کیا ہے اور تم چپراسی کی نوکری کررہے ہو؟ سر میں ایک غریب مزدور کا بیٹا ہوں جس نے ایک معمولی نوکری پر ہی ساری زندگی گزارا کیا۔ ان کے پاس میری نوکری کے لئے نہ تو دولت تھی اور نہ ہی تعلّقات میری تعلیم بھی میرے باپ نے اور میں نے محنت مزدوری کرکے حاصل کی اور اس کے لئے ہمیں کیا کرنا پڑا کس طرح اپنا پیٹ کاٹنا پڑا آپ تصوّر بھی نہیں کرسکتے یہ میرے ماں باپ کا خواب تھا کہ میں پڑھ لکھ کر افسر بن سکوں اور ان کا فخر بنوں لیکن ان بے چاروں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان خوابوں کی تعبیر کے لئے ان کو مخملیں بستر پر سونا ضروری ہے۔سر ، غریب گریجویٹ کو جس کی کوئی سفارش نہ ہو اور جیب بھی خالی ہو چپراسی کی نوکری مل جانا بھی نعمت سے کم نہیں ہے ۔اختر نے پھیکی سی مسکراہٹ سے کہا اور یہ کہتے کہتے اس کی آنکھوں میں موتی جگمگانے لگے ۔صاحب نے ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور پھر بولے وہ ! تمھاری فائل کہاں ہے ؟ لیکن خیر تم جاو¿ میں خود ہی دیکھ لوں گا۔ صاحب نے ایک مرتبہ پھر اختر کو حیران و پریشان کردیا تھا۔دوسرے دن اختر جب آفس پہونچا تو صاحب نے فورا” ہی طلب کرلیا ۔وہ تھوڑی سی گھبراہٹ کے ساتھ صاحب کے کمرے میں داخل ہوا اور میز کے سامنے کھڑے ہوکر سوالیہ نظروں سے صاحب کی طرف دیکھنے لگا صاحب نے ایک نظر اختر پر ڈالی اور کرسی کی طرف اشارہ کرکے کہا بیٹھو اختر۔ کیا؟ اختر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔اس آفس میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا تھا کہ کسی افسر نے ایک موم لی چپراسی کو کرسی پر بیٹھنے کو کہا ہو۔ہاں ہاں میں نے تمھیں کرسی پر بیٹھنے کو کہا ہے اس قدر حیران کیوں ہو ۔بادل نخواستہ اختر نے کرسی سنبھال لی۔اختر میں نے تمھاری فائل دیکھ لی ہے تم نے دو سال اس آفس میں بہت محنت اور ذمّہ داری سے کام کیا ہے تم ایک تعلیم یافتہ ایمان دار اور محنتی شخص ہو مجھے افسوس ہے کہ تمھاری تعلیم اور قابلیت کے مطابق تمھارے ساتھ انصاف نہ ہوا ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ اور ہما رے ملک کی ترقّی میں رکاوٹ یہی ہے کہ ایک ہی آفس میں ایک گریجویٹ چپراسی ہے اور ایک انٹر پاس سفارش کی بنیاد پر کلرک لگا ہوا ہے۔بہرحال دیر آئید درست آئید اب تم ایسا کرو کہ تین دن کے لئے تمھاری چھٹّی ہے تنخواہ کے ساتھ اور تین دن کے بعد جب تم آو¿گے تو کلرک کی کرسی تمھارے لئے خالی ہوگی صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اتنا بڑا فیصلہ سنادیا ۔حیرت اور خوشی کے مارے اس کی زبان گنگ ہوکر رہ گئی تھی بالآخر اس نے اپنے اوپر قابو پاکر صاحب کی طرف ممنونیت سے دیکھا اور کچھ کہنے کے لئے منہ کھولنے کی کوشش کی لیکن صاحب نے ہاتھ اٹھاکر اسے روک دیا بس بس میری دعا ہے کہ تم اپنی محنت سے بہت جلد ترقّی کروگے۔چلو ٹھیک ہے اب تم سے تین دن بعد ملاقات ہوگی صاحب نے ہنس کر اسے جانے کا اشارہ کیا وہ جلدی سے کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا جانے کے لئے پلٹا اور پھر گھوم کر صاحب سے کہنے لگا برا نہ منائیں تو ایک بات کہوں صاحب ، ہاں ہاں بولو کیا بات ہے ۔صاحب آپ نے جس المیے کا ذکر کیا وہ ختم ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔ہمارے معاشرے میں اقربا پروری ، رشوت اور بے ایمانی کا زہر بھر چکا ہے۔اور آج مجھے جو کرسی آپ نے عطا کی ہے وہ مجھے میری قابلیت پر نہیں بلکہ آپ کی سفارش پر ہی ملی ہے۔ دل چھوٹا نہ کرو اختر مجھے یقین ہے کہ تم جیسے لوگ ہی اس زہر کا تریاق بنیں گے کسی نہ کسی کو تو ابتدا کرنا پڑے گی آہستہ آہستہ تبدیلی ضرور آئے گی۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر اس کرسی کے قابل شخص کی سفارش کی جائے تو اتنا برا نہیں ہے۔جی سر دعا کریں اللہ تعالی’ مجھے ہمّت اور طاقت دے کہ میں بھی کسی کے کام آسکوں ، انشائ اللہ آمین ۔صاحب نے جواب دیا اور اختر آمین کہتے ہوئے دروازے سے باہر چلا گیا۔ اختر سیدھا اپنے گھر پہونچا اور سب سے پہلے اس نے یہ خوشخبری اپنی ماں کو سنائی جو یہ خبر سن کر خوشی سے پھولے نہ سمائی اور اس نے اختر کے ابّا جی کو آواز دی ،اجی سنتے ہو اختر کیا خبر لے کر آیا ہے۔اختر کے ابّا جی کمرے سے باہر آئے ۔ارے کیا ہوگیا بھئی کیا خوشی کی خبر ہے ؟ ابّا جی وہ جو نئے صاحب آ ئے ہیں نا ان کی کوششوں سے مجھے اپنے آفس میں ہی کلرک کی کرسی دے دی گئی ہے اچھا یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہے لیکن بیٹا میں تو تمھیں بڑا افسر دیکھنا چاہتا ہوں ا بّا جی نے افسردگی سے کہا ۔ارے اب رہنے دو تم بچّے کا دل خراب نہ کرو امّاں نے مداخلت کی ۔نہیں نہیں یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہے اور پھر ہمارا بیٹا محنتی،ایمان دار ہے بہت جلد افسر بھی بن جائے گا۔ ابّا جی نے فورا” سنبھالا لے لیا۔ابّا جی یہ تو نئے صاحب کی وجہ سے ہوگیا ورنہ نہ جانے کب تک چپراسی ہی رہتا ۔ہاں بیٹا ہم اس نیک شخص کے لئے ہر نماز میں دعا کریں گے اللہ اسے قدم قدم کامیابی دے اور صحت اور تندرستی عطا کرے۔ اچھّے لوگ ہر قوم میں ہوتے ہیں میں تمھیں ایک واقعہ سناو¿ں ابّا جی نے کہا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرے بابا جی یعنی تمھارے دادا ہم سب کو لے کر پٹیالہ سے دہلی منتقل ہوگئے انگریز کا دور تھا بابا جی گھوڑے سدھارنے میں کمال کا درجہ رکھتے تھے لہذا دہلی آتے ہی ان کو ایک گورا صاحب کے اصطبل میں گھو ڑوں کی نگرانی کی نوکری مل گئی انہوں نے بھی ہمیں پڑھانے لکھانے کے لئے بہت محنت کی میں اپنے اسکول کا ذہین طالبعلم تھا لیکن دس جماعتیں پاس کرنے کے بعد ہی ایک دن با با جی میرا ہاتھ پکڑ کر گورا صاحب کے پاس لے گئے اور اسے بتایا کہ میرے بیٹے نے دس جماعتیں پاس کرلی ہیں اور اب اسے نوکری کی طلب ہے۔گورے صاحب نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور اپنے ساتھ آفس میں آنے کا اشارہ کیا وہ دو گھنٹے تک مجھ سے سوالات کرتا رہا اور پھر آخر میں بولا میں تمھیں اپنے پاس نوکری تو دے سکتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک اچھّے اور محنتی شخص سے محروم ہوجاو¿ں گا ۔میں نے مسکراکر جواب دیا اچھےاور محنتی لوگوں کی کمی نہیں ہے سر، میں آپ کو باباجی جیسا کوئی اور شخص مہیّا کردوں گا۔میرا جواب سن کر وہ چیخ پڑا ،،ویلڈن!! اس نے اپنی چھڑی زور سے میز پر ماری اور کہنے لگا میں تمھاری ذہانت کا قائل ہوگیا ہوں کتنی جلدی تم نے میری بات کو سمجھ کر جواب دیا ہے اس کے بعد میں ڈھائی سال اس گورے کے ساتھ کام کرتا رہا لیکن ان دنوں ہندوستان میں گوروں کے خلاف نفرت عروج کو پہونچ چکی تھی حالات خراب دیکھ کر میں بابا جی کو لیکر پٹیالہ واپس آکیا کچھ عرصے بعد پاکستان بن گیا اور میں تم سب کو لے کر لاہور منتقل ہوگیا میں آج تک حیران ہوں یہ کس قسم کی آزادی تھی جہاں کوئی کسی کا نہیں بس افراتفری کا عالم ہے۔ابّا جی یہ کہتے ہوئے بوجھل قدموں سے اپنے کمرے کی طرف چل دئیے۔ہندوستان میں محنت ، ذہانت اور وفاداری کی قدر بادشاہوں نے کی اور اس کے بعد انگریزوں نے اور انگریز کو یہ مطلب نہیں تھا کہ کوئی شخص اس کے ساتھ وفاداری اپنی قوم کے ساتھ غدّاری کرتے ہوئے کررہا ہے وہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ اس کے ساتھ وفاداری ہورہی ہے ۔ بد قسمتی سے پاکستان پر بھی ان ہی لوگوں کا قبضہ رہا جنہوں نے انگریز کے ساتھ وفاداری اور اپنی قوم کے ساتھ غدّاری کے صلے میں زمینیں جاگیریں حاصل کیں۔ اختر کی کہانی کسی ایک فرد کسی ایک قوم یا کسی ایک معاشرے کی کہانی نہیں ہے یہ اس ملک میں رہنے والے ہر نوجوان کی کہانی ہے ۔یہ پنجاب کے ان کسانوں اور ہاریوں کی کہانی ہے جن کے بچّے کسی زمیندار کسی جاگیردار کے بچّوں کے جوتے صاف کرتے ہیں اور ان کی مار کھاتے اپنی زندگی گزاردیتے ہیں ان کے لئے تعلیم کا خواب دیکھنا بھی گناہ ہے۔یہ پختونخواہ کے ان چھوٹے چھوٹے علاقوں کے ان نوجوانوں کی کہانی ہے جن کو تعلیم،روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھّا گیا اور وہ شہروں شہروں پھر کر اور گڑھے کھود کھود کر اپنا پیٹ بھرتے رہے یہ سندھ کے ان دیہاتی نوجوانوں کی کہانی ہے جو ساری زندگی وڈیروں کے آکے ہاتھ جوڑے ان کی خدمت کرتے اور ان کے پاو¿ں چھوتے رہے۔ یہ بلوچستان کے ان نوجوانوں کی بھی کہانی ہے جن کے سرداروں نے ان کو دبائے رکھنے کے لئے ساری زندگی رقمیں وصول کیں ان کو غلامی میں رکھا اور ان کی اپنی زمین کی دولت سے ان کو محروم رکھا یہ چند کردار دیمک کی طرح اس ملک کو چاٹتے رہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہمارے نوجوان سوتے رہیں گے اس بند دروازے کو کھولنا ہوگا جس کے پیچھے یہ تم ام کردار کرسی کے لئے کھینچا تانی میں مصروف رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں