Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 138

عدلیہ اور عوام کا کردار

گزرے وقتوں کی بات ہے جب شہنشاہیت کا دور دورہ تھا کہا جاتا ہے کہ بہت ہی منصفانہ دور تھا لیکن یہ صرف کا غذی باتیں ہیں حقیقت تو یہ ہے کہ انصاف بادشاہ کے موڈ پر ہوتا تھا۔اگر چاہے تو بغیر پورا مقدمہ سنے ملزم کی گردن اڑادے اور اگر موڈ اچھا ہے تو بغیر مقدمے کے ہی رہائی کے احکامات جاری کردے اسی طرح نواب،جاگیردار ،زمین دار تھے یہ سب اپنی ذاتی مخالفت پر جب چاہیں جس کو چاہیں موت کے گھاٹ اتروادیں علاقے کی غریب اور بے سہارا عورتوں کو جب چاہے اٹھوالیں ،انصاف کا بول بالا تو کسی بھی دور میں نہیں رہا۔پھر آہستہ آہستہ لوگوں نے جاگنا شروع کیا زیادتیاں برداشت سے باہر ہونا شروع ہوئیں لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کیا ،اور اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کا آغاز ہوا گروپ تشکیل کئے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنم لیا اور دنیا کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے باقاعدہ عدالتیں قائم ہوئیں ۔نئے سرے سے قوانین میں ردّوبدل ہوئی الزامات سنے جانے لگے اور برابری کی بنیاد پر فیصلوں کے دعوے ہونا شروع ہوگئے۔اس مد میں بیشتر ممالک میں ایک انقلابی صورت حال پیدا ہوئی۔سخت سے سخت قانون بنائے گئے اور ان پر خالص عمل درآمد بھی ہوا قوم میں شعور پیدا کیا گیا کہ ترقّی کا راستہ یہی ہے اور انسانوں کی طرح رہنے کے کیا فوائد ہیں ۔جس نے حقیقت میں ان ممالک کو ترقّی کی راہ پر گامزن کردیا۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اسمبلیوں میں جانے والے قانون بنانے والے۔یہی جگیردارانہ ،سرمایہ دار ،اور زمین دارانہ ذہنیت کے لوگ ہیں جن کو انگریز جاتے ہوئے ہمارے سر پر مسلّط کرگیا تھا۔ان لوگوں نے انسانیت کو غلام بناکر رکھا ہوا ہے۔وہ لوگ جو تحریک آزادی کے دوران انگریزوں کے وفادار بن گئے۔اپنی قوم کے ساتھ غدّاری کی انگریز نے ہندوستان سے جاتے وقت ان کی خدمات کے عوض ان کو حد سے زیادہ مراعات سے نوازا مال و دولت زمینیں ،جاگیریں عطا کیں اور ان کو اتنا طاقت ور بنادیا کہ پاکستان ان کے چنگل سے نکل نہ سکے۔چونکہ انگریزوں نے اپنے طویل دور میں ان کو ذہنی غلام بنادیا تھا لہذا یہ غلامی ان کے خون میں رچ بس چکی تھی ،امراہ کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے رہنا ان کا اوّلین فرض تھا۔چاہے ان امراہ کا تعلّق انگریزوں سے ہو یا ہندوستانی سے ہو۔انگریز ایسے ظالم لوگوں کو قوم کے سر پر مسلّط کرکے گیا تھا کہ ساری زندگی تحریک آزادی کو یاد کریں ۔یہ ایسے ناسور تھے کہ ہمیشہ پیسے کے لالچ میں رہے ملک کی ترقّی اور عوام کی خوش حالی سے انہیں کبھی کوئی سروکار نہ رہا اور نتیجہ سامنے ہے عدالتیں تو بن گئیں لیکن ان عدالتوں میں انصاف ناپید ہے۔جیل صرف عام آدمی کے لئے ہے سرمایہ دار اور ان کی اولادیں ہر طرح کے جرائم میں ملوّث ہیں۔غریبوں پر مظالم کے آسمان توڑے ہوئے ہیں جس کو چاہیں قتل کردیں۔عورتوں کی آبرو محفوظ نہیں ہے قانون کا سر عام مذاق اور دھجّیاں اڑائی جارہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔پولیس ان کی نوکر اور عدالت ان کی چا چا ہے۔کسی کیس میں ایک جج صاحب فرماتے ہیں کہ ہم فیصلے اپنے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں۔کون سا ضمیر وہ بہرہ اور مردہ ضمیر جسے کسی غریب کی آہ بھی سنائی نہیں دیتی ہے۔جج ہونا کبھی صرف پیشہ ہی نہیں رہا۔یہ ایک عزّت و وقار کا اعزاز بھی ہوا کرتا تھا ہر ایک پر تعظیم فرض تھی۔جج پر نا انصافی کے الزام کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔کبھی ایسا بھی نہیں ہوا کہ جج خود اپنی صفائی پیش کرے ۔اپنی بات کا یقین دلانے کے لئے قسمیں کھائے۔جس منصف کو ہاتھ میں ترازو لئے ہوئے یہ احساس ہوجائے کہ اس پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوچکا ہے اور اس کے ہاتھ کانپ جائیں تو وہ کیا انصاف کرے گا۔آج یہ ثابت ہوجانے کے بعد بھی کہ جج صاحبان کی چھپی ہوئی جائیدادیں بھی سامنے آرہی ہیں ۔ان کے فیصلوں سے صاف نظر آرہا ہے کہ ترجیحی بنیاد پر فیصلے ہورہے ہیں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جارہے اس کے باوجود وکیلوں کا ایک طبقہ جو کہ جج صاحبان کی طرح معتبر سمجھا جاتا تھا ان کرپٹ لوگوں کی حمایت کررہا ہے جس سے صاف ظاہر ہورہا ہے کی ہماری عدلیہ شکوک و شبہات کا شکار ہونے جارہی ہے۔ایک غیر ملکی جج کا قصّہ بہت عام ہے اور بارہا سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے کہ اس کی عدالت میں ایک ایسے ملزم کو پیش کیا گیا جس پر روٹی چوری کرنے کا الزام ہے۔جج نے مقدمہ سننے کے بعد کہا مجھے معلوم ہے کہ یہ چوری تم نے بھوک اور بے روزگاری سے تنگ آکر کی ہے۔لیکن چوری کرنا جرم ہے اور تمہیں اس جرم کی ضرور سزا ملنی چاہئے لہذا میں تمھیں دس ڈالر جرمانے کی سز ا سناتا ہوں جرمانا ادا نہ کرنے پر تمہیں جیل جانا ہوگا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم یہ دس ڈالر ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو۔لہذا یہ دس ڈالر میں اپنی جیب سے تمھارے لئے بطور قرض جمع کرادیتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سچّا واقعہ ہے ہوسکتا ہے کہ وہ کوئی بہت ہی نرم دل جج ہو ورنہ عموما” ایسا ہوتا نہیں ہے۔ہمارے ملک میں ہر شخص اپنے آپ کو تنہا اور غیر محفوظ سمجھنے لگا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی میں شامل ہوکر اپنے آپ کو محفوظ کرلے۔کریم الدّین گھر میں کہہ رہا ہے فکر مت کرو میں اپنی پارٹی کے لئے بہت کام کررہا ہوں جس دن برسر اقتدار آگئی سب کے وارے نیارے ہو جا ئیں گے جعلی دھندے پولیس ہماری عدالت ہماری کسی کی کیا مجال جو ہماری پارٹی کی حکومت ہوتے ہوئے ہمارے اوپر ہاتھ ڈال سکے۔یہی تمام امیدیں محمّد بخش لئے بیٹھا ہے جس دن اس کی پارٹی حکومت میں آگئی تمام لائسینس تمام اجازت نامے اس کی مٹھّی میں ہوں گے جتنے چاہو پاسپورٹ بنوالو چکّی میں آٹے کے ساتھ برادہ پسے گا معائنہ کرنے والے کو چکّی نہیں صرف آنکھیں دکھانا پڑیں گی ہاں ہاں سب کچھ ہوسکتا ہے کون سی ایسی بے ایمانی ہے جو نہیں ہوسکتی ملک و وطن سب بھاڑ میں جائے مال بنانا ہے مال ہم نے کیا لینا دینا بس ہماری پارٹی کو آجانے دو پھر دیکھنا۔۔رئیس خان ،خدا بخش،مجمّد علی،کریم جان ،اتّفاق حسین ،احمد شاہ سب یہی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں اکھٹّا بیٹھ کر چائے پی رہے ہیں اور ز مانے بھر کی باتیں ہورہی ہیں۔ہوٹل والا سب کی ہاں میں ہاں ملارہا ہے اس کی دکان داری چل رہی ہے۔سب ڈاکو بن گئے ہیں چالیس چالیس چوروں کی ٹولیاں بن چکی ہیں۔یہ ایسی جگہ بن چکی ہے جہاں انسانیت سسک رہی ہے ،جہاں بے گناہوں کی لاشوں پر رقص کیا جاتا ہے ، جہاں ننھی ننھی بچّوں کے ساتھ زادتی کرکے قتل کردیا جاتا ہے کچھ دن احتجاج ہوتا ہے اور پھر احتجاج کے لئے اگلے واقعے کا انتظار کیا جاتا ہے ،جہاں مستقبل کے معماروں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے ، جہاں وہ جاگیر دار جن کی جاگیروں پر پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا اپنی ہی جاگیروں میں غریبوں کو قتل کرکے الزام نوکروں پر لگادیتے ہیں ، قلعے کے پہرے دار ہی قلعے میں رہنے والوں کو لوٹ لیتے ہیں ، بن بیاہی لڑکیاں رشتوں کے انتظار میں بوڑھی ہوجاتی ہیں جہاں اکلوتے بیٹے کی لاش پر روتے روتے ماں باپ کی آنکھوں کی بینائی چلی جاتی ہے ،،جہاں پھول جیسے معصوم بچّوں کو اغوا کرکے تاوان طلب کیا جاتا ہے ،،جہاں عبادت گاہوں کی بے حرمتی عام ہوگئی ہے جہاں اپنے پیٹ کی آگ بحھانے کی خاطر دوسرے کی زندگی کا چراغ گل کردیا جاتا ہے ،،جہاں اپنے سامان تعیش کے لئے غریب سے اس کی واحد چادر بھی چھین لی جاتی ہے ،،جہاں سیاست کی بساط پر صرف بے ایمانی سے جیتا جاتا ہے ،،جہاں اپنی زندگی قائم رکھنے کے لئے وہ پانی پینا پڑتا ہے وہ غذا کھائی جاتی ہے جسے جانور بھی منہ نہیں لگاتے ،،جہاں زندگی صرف امراہ کے سامنے رقص کرتی ہے۔اور غریب کو صرف دھوکے میں رکھتی ہے ،،جہاں زبان کا فرق بندوق کی گولی بن جاتا ہے۔ ان تمام خرابیوں کے بعد اور نا کو نہ چھوڑنے کے بعد کیا تبدیلی اور ترقّی کی امید کی جاسکتی ہے بالکل نہیں ایسی بے حس قوم کو سدھارنے کے لئے محنت کرنا وقت کا ضیاع ہے اور کچھ نہیں۔جب دینی مسائل بیان کئے جاتے ہیں تو لوگ کیوں کہتے ہیں چودہ سو سال پرانی بات مت کرو یہ تمام برائیاں چودہ سو سال پہلے موجود تھیں جسے ہمارے مذہب نے ہمارے نبی کے ذریعے ختم کرایااور کافی زمانے تک اس کا اثر رہا۔آخری بات یہ کہ ملک کی بقاہ اسی صورت ہے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے سدھر جائیں۔عدلیہ شفّاف ہوجائے اور لوگوں کو اپنی ذمّہ داری اور بے حسی کا احساس ہوجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں