Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 128

مجرا

گزرے دور کی بات ہے نوجوانوں میں بازار حسن کے بارے میں بہت تجسّس پایا جاتا تھا۔ چونکہ معاشرے میں تہذیب و شرافت کا فقدان نہیں تھا لہذا جانے اور دیکھنے کی خواہش پر پکڑے جانے کا خوف غالب آجاتا تھا۔ اس بازار کا علاقہ علیحدہ اور مخصوص ہوا کرتا تھا جس کا تعلّق د وسرے رہائشی علاقوں سے ہٹ کر ہوتا تھا۔ ہندوستان میں مغلیہ دور سے پہلے ہی بازار حسن ہر شہر میں پائے جاتے تھے۔ لیکن مغلیہ دور میں ان بازاروں کو نئی جلا ملی ۔اسی دور میں لکھنو¿ کے بازار نے کافی شہرت پائی جو بڑے بڑے نوابوں کے لئے وقت گزاری کا ایک ٹھکانہ تھا اور یہاں کئی کہانیوں نے بھی جنم لیا جن پر بہت کچھ لکھا گیا بہت سےنا ول اور افسانے اور ان پر فلمیں بھی بنائی گئیں۔ان فلموں اور کہانیوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ بازار حسن بھی ہندوستان کی ثقافت کا ایک حصّہ بن چکا تھا ۔ اسے تہذیب و ثقافت کا مرکز اس حوالے سے سمجھا گیا ہے کہ نواب خاندان کے بچّوں کو تہذیب و آداب سکھانے کے لئے اس بازار میں کوٹھوں پر بھیجا جاتا تھا۔ اور جب یہ بچّے بڑے ہوجاتے تھے تو تہذیب اور آداب کا مظاہرہ کرنے کے لئے اور ان کوٹھے والے اور والیوں کو سکھانے کے لئے ان ہی بازار کا رخ کرتے تھے کیونکہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ شریف اور خاندانی لوگ کوٹھوں پر جاتے تھے تو طوائفوں کو بھی وہ تہذیب و آداب آگئے تھے جسے سیکھنے کے لئے بچّوں کو بھیجا جاتا تھا لہذا سیکھنے بھی وہیں جاتے تھے اور بعد میں سکھانے بھی وہیں کا رخ کرتے تھے ۔لاہور کا شاہی محلّہ جسے بعد میں ہیرا منڈی کا نام دیا گیا مغلیہ دور میں قائم ہوا تھا ۔اس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اس کا نام ہیرا منڈی ہیرا سنگھ کے نام پر رکھ دیا گیا تھا جو کہ رنجیت سنگھ کے ایک وزیر کا بیٹا تھا اور اس کا زیادہ تر وقت وہیں گزرتا تھا۔جب کہ بعض لوگ اس نام کی وجہ اس بازار میں حسین و جمیل لڑکیوں کی موجودگی بتاتے ہیں بہرحال یہ ایک قدیم بازار حسن تھا اور مغلیہ دور سے ہی مجروں کا ایک بہت بڑا مرکز تھا یہ مقام بادشاہی مسجد کے جنوب میں اور ٹیکسالی گیٹ کے قریب ہے۔اسی طرح مختلف شہروں میں بازار حسن قائم تھے کراچی میں یہ بازار نیپئیر روڈ پر ایک چھوٹے سے محلّے پر مشتمل تھا بعد میں وسیع ہوتا چلاگیا کئی بڑی عمارتیں بن گئیں جن میں مشہور مجرے کی عمارت بلبل ہزار داستان تھی۔ہمیں پیپلز پارٹی کے وزیر جام صادق علی کے خلاف ایک رپورٹ لکھنے کا کام ملا تھا اس مقصد کے لئے کئی دن اس بازار حسن کے چکّر لگانے پڑے اور کئی کئی گھنٹے اس جگہ رہنا پڑا اس دوران ہمیں اس بازار کے بارے میں اچھی خاصی معلومات اور یہاں ہونے والے مختلف دھندوں اور یہاں آنے والی بڑی بڑی شخصیات کے بارے میں اچھی خاصی معلومات ہوچکی تھیں۔لیکن چونکہ ہمارا کام جام صادق علی تک تھا لہذا ہماری ساری توجّہ اس پر ہی تھی ہمیں اطلاع ملی تھی کہ جام صادق علی کی ایک بہت پرانی رکھیل یہاں رہتی ہے جام صادق کے ساتھ مخصوص ہونے سے پہلے اس کا ایک بیٹا اور بیٹی تھے بعد میں جام صادق سے ایک بیٹا ہوا جو اس وقت جوان تھا اس کا نام امجد تھا۔جام صادق نے اسے کے ایم سی میں لگوادیا تھا اور وہ صرف سائن کرکے آجاتا تھا امجد اسی بازار میں رہنا پسند کرتا تھا اور جام صادق کی مجبوری تھی کہ وہ اسے کھلّم کھلّا اپنا بیٹا نہیں کہہ سکتا تھا۔ جام صادق اپنے فرصت کے اوقات یہیں گزارتا تھا۔امجد کا سوتیلا بھائی خورشید درزی تھا اور اسی بازار میں اس کی درزی کی دکان تھی۔ہم نے یہ رپورٹ لکھی جو بعد میں ایک رسالے میں شائع ہوئی۔اس کے بعد بازار حسن کے بارے میں ایک طویل مضمون لکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا جس کے لئے ہمیں دوسرے شہروں میں بھی جانا پڑا۔ایک دلچسپ بات سامنے آئی کہ ان بازاروں میں ناچ گانے والیاں چند ایک ہی مستقل ہوتی ہیں ورنہ ان سب کے ٹائم لگتے ہیں مطلب پندرہ دن ایک شہر میں پھر دوسرے تیسرے اس طرح ان کا مقام بدلتا رہتا ہے تاکہ گاہک اکتا نا جائیں۔بہرحال ضیائ الحق کے دور میں ان تمام بازاروں میں ایک آپریشن کے زریعے چھاپے مارے گئے اور ان کو بند کردیا گیا۔ لاہور کے شاہی محلّے میں مختلف دکانیں اور ریسٹورینٹ کھل گئے۔ اس علاقے کا شاہی جوتا جسے کھوسہ کہا جاتا ہے کافی مشہور ہے اس کے علاوہ لذیذ کھانوں کے ریسٹورینٹ بھی کافی مشہور ہیں۔اب اس علاقے کو ہیرا منڈی کہنے پر یہاں کے لوگ برا مانتے ہیں۔ یہ تمام بازار حسن تو بند ہوگئے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمام ناچنے گانے والیاں پورے شہر میں پھیل گئیں۔ظاہر ہے ان کا دھندہ ہی یہی تھا اب وہ چنے تو بیچنے سے رہے۔جو اونچے درجے کی طوائفیں تھیں وہ شہر کے مالدار علاقوں میں کوٹھوں سے کوٹھیوں میں منتقل ہوگئیں اور جو معمولی درجے کی تھیں وہ مختلف علاقوں کے فلیٹوں میں منتقل ہوگئیں اور ان کا دھندہ پہلے سے زیادہ آسان ہوگیا۔ انہوں نے اپنے آدمیوں کو پیسے دےکر اپنی تعریف کرنے اور دوسرے کی برائی کرنے کے لئے چھوڑا ہوتا ہے۔اب محلّے والے بھی اتنی توجّہ نہیں دیتے کیوں کہ ٹی وی کے مختلف چینلوں نے ان کو ناچ گانے کا اتنا عادی بنادیا ہے کہ شرافت اب قدامت پسندی کہلاتی ہے اور ناچ گانا جدید دور میں ترقّی کی علامت کہلاتا ہے اب ٹی وی پروگرام میں ایک موٹر سائیکل کی خاطر ایک اسلامی داڑھی رکھے ہوئے شخص انڈیا کے گانوں پر ڈانس کرتا نظر آتا ہے۔مجرے اب بھی ہوتے ہیں اور چھوٹے علاقوں میں سرمایہ داروں زمین داروں چودھریوں ،وڈیروں اور نوابوں کی پرانے دور سے ہی شان کہلاتے ہیں۔ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کی تقریب میں ایسا مجرا ہو کہ جس کی تعریف دور دور تک پھیل جائے اس مقصد کے لئے مخولیوں کو پیسہ دیا جاتا ہے کہ جہاں بھی جاو¿ ہمارے مجرے کی خوب تعریف کرو کہ ایسا شاندار مجرا پہلے نہیں دیکھا دوسری طرف مخالفین بھی اپنے بندوں کو پیسہ دیتے ہیں کہ جہاں جاو¿ اس کے مجرے کی برائی کرو کہ ہمارے جیسا نہیں تھا۔بڑے شہروں میں بڑے بڑے لوگ بھی پرائیویٹ مجرے کرواتے ہیں جن میں وزراءاور پولیس کے بڑے بڑے افسران کو دعوت دی جاتی ہے ۔لیکن عام لوگ زیادہ تر اب ٹی وی کے شوقین ہیں اور اینکرز کے دو دو گھنٹے کے پروگرام دیکھتے ہیں لوگوں کی زیادہ تر توجّہ سیاست کی طرف ہے اور یہ اینکرز حضرات اسی سے فائدہ اٹھاکر لوگوں کے مزاج کے مطابق دنگل پیش کرتے ہیں۔سیاست دان ان کو پیسے دے کر اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتے ہیں ہمارے کسی کام کی کس طرح تعریف کرنا ہے اور مخالف کو کس طرح بدنام کرنا ہے کوئی سیاست دان یا وزیر کوئی قابل تعریف کام کرتا ہے تو مخالفین میں بے چینی پھیل جاتی ہے کہ کس طرح اس کے کام میں خرابیاں نکالی جائیں اس کے لئے بھی ٹی وی چینل استعمال کئے جاتے ہیں اگر کسی وزیر یا سیاسی شخصیت سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو سب میدان میں کود جاتے ہیں اور اینکر حضرات کی چاندی ہوجاتی ہے ۔مخالفین پیسے دےکر معاملے کو اور اچھالتے ہیں اور اس وزیر کے بندے پیسے دے کر دوسرے اینکر سے دفاع کرواتے ہیں۔مثلا” ابھی کچھ دن پہلے فواد چودھری اور سمیع ابراہیم کا واقعہ سامنے آیا واقعی افسوسناک تھا اور ایک وزیر کی طرف سے ایسے عمل کی مذمّت ہونا چاہئے لیکن جس طرح سے ہر اینکر نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور ابھی تک کئی کئی گنٹے ٹی وی پر اس معاملے میں بحث ہورہی ہے میرا خیال ہے کہ کشمیر کے معاملے پر بھی ٹی وی نے اتنا وقت نہیں دیا ہوگا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں آج تک ایسا واقعہ نہیں ہوا ہے۔اور اس تمام معاملے میں اینکرز کے اکاو¿نٹ بڑھ رہے ہیں۔ اب ہر جگہ اپنی تعریف اور مخالف کو بدنام کرنے کے لئے پیسہ دیا جاتا ہے طریقہ کار مختلف ہے لیکن مقصد ایک ہی ہے۔یہ مضمون مجرے کے بارے میں تھا لیکن بات کہاں سے کہاں چلی گئی دوسرا ہی موضوع شروع ہوگیا حالانکہ دونوں موضوعات میں کوئی مطابقت نہیں ہے لیکن اگر کسی کو کوئی مطابقت نظر بھی آتی ہے تو محض اتّفاقیہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں