28

تعریف اور ترغیب

اب جب کے پورے ملک پاکستان کے غریب عوام مہنگائی کی سونامی میں گھرے ہوئے ہیں، ہر طرف عوام مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں، غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، رمضان میں تو اس مہنگائی نے سیلاب کی مانند تمام غریبوں کو اور درمیانی طبقے کے افراد کو اپنے زور سے بہا کر غربت کی لکیر سے بہت نیچے پہنچا دیا تو ساتھ ساتھ بین الاقوامی خطرات کے زلزلے کے جھٹکے بھی قوم کو برابر محسوس کرنے پڑھ رہے ہیں، ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اور ساتھ ساتھ سرکاری اور نجی میڈیا پر جو بھی خبر سننے کو ملتی ہے اس میں کوئی بھی خبر کا پہلو دکھائی نہیں دیتا۔ حکومتوں کی طرف سے مجبوری اور لاچاری کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر سوشل میڈیا پر کچھ بہتر خبر نظر آئے تو توجہ اس طرف ہی چلی جاتی ہے۔ یہ خبر نہیں روشنی کی کرن ثابت ہو رہی ہے کراچی کے نوجوانوں کی ایک تنظیم نے عید کے موقع پر ایک مہم کے تحت ان لوگوں کے لئے عید کی خوشیوں کے حوالے سے اقدامات کئے ہیں کہ وہ جگہ جگہ مختلف افراد اور اداروں سے ایسی اشیاءحاصل کررہے ہیں جو کہ غریب آدمی اور اس کے بچوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کرسکے۔ یہ نوجوان چھوٹے چھوٹے دکان داروں سے عید کے لئے کپڑے جوتے اور دیگر اشیا حاصل کرکے وہ افراد جو کہ عید کے لئے اپنے بچوں کے لئے خریداری نہیں کر سکتے ان افراد کے لئے مفت اشیاءفراہم کرکے ان کی عید کی خوشیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس طرح کراچی میں اور بالخصوص پورے ملک میں سڑکوں پر روزے داروں کے لئے افطاری کے لئے بہت بڑے پیمانے پر افطار کے لئے دستر خوان سجائے جارہے ہیں یہ بھی سب ایک ایسی مہم کے ذریعہ اختیار کیا جارہا ہے جس میں چھوٹے چھوٹے کاروباری حضرات جو کہ چھوٹی دکانوں کے مالک ہیں یا ان کا ذریعہ آمدنی محدود ہے اور وہ اپنے چھوٹے سے سرمایہ میں سے کچھ حصہ دوسروں کی مدد کے لئے صرف کرکے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں جب کہ اس سارے کارخیر میں بڑے بڑے سرمایہ دار یا حکومت اپنے ذرائع آمد بڑھانے میں مصروف ہیں اور غریب عوام کی ضروریات ان کی ترجیحات میں شامل ہیں اس موقع پر اہل دل زندگی کے جس شعبہ میں ہوں وہ آگے بڑھ کر ان مستحق افراد کی مدد کے لئے ایک ایسی روشن مثال ثابت ہو رہے ہیں۔ جس سے امید ابھی باقی ہے کہ خیر کا راستہ چھوٹا ہی سہی مگر برائی کے مقابلے میں غنیمت ہے۔ یعنی دنیا بھر میں سب سے زیادہ خیرات اور زکوٰة دینے والے چھوٹے غریب ممالک آگے آگے دکھائی دیتے ہیں ان ممالک میں نجی طور پر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے نذرانے جتنے بڑے پیمانے پر جمع کئے جاتے ہیں اس کی نظیر بہت مشکل سے ملتی ہے۔ نجی طور پر جو بڑے بڑے کام ان غریب ملکوں میں انجام پذیر ہوتے ہیں ایسے بہبودگی کے منصوبے بڑے بڑے مغربی ممالک کی حکومتوں کے ذمہ ہوتے ہیں یعنی ہمارے جیسے غریب ملکوں کے عوام کے نجی منصوبوں کا موازنہ امیر ملکوں کی حکومتوں سے کیا جاتا ہے پھر کیوں نہ ہم تعریف کریں ان غریب ملکوں کے نجی اداروں اور عوام کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں