123

ریاست ِ مدینہ کا خواب

اس ہفتہ کی خبریں بہت گرم ہیں، گرفتاریوں پر گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ آصف زرداری، حمزہ شہباز، پاکستان میں اور الطاف حسین لندن میں گرفتار ہیں۔ کیا حسن اتفاق ہے کہ تمام بڑے بڑے قائدین پر نحوست کے سائے منڈلا رہے ہیں مگر عوامی ردعمل کہیں نظر نہیں آیا۔ آصف زرداری کی گرفتاری کے دوران چند جیالوں نے جئے بھٹو کے نعرہ لگائے مگر بقول خورشید شاہ کہ کسی میں جرات نہیں کہ آصف علی زرداری کو گرفتار کرے۔ اگر ایسا ہوا تو دما دم مست قلندر ہوگا۔ مگر کہیں نہ کوئی مستی نظر آئی اور نہ ہی قلندروں کی فوج۔ لگتا ہے کہ عمران خان نے حکومت چلانے میں کامیابی حاصل کی ہو یا نہیں لیکن ان سابقہ حکمرانوں کا جینا ضرور حرام کردیا ہے۔ اپنی اس بات کو پورا کر دکھایا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ اور سب کو اندر کردیا مگر کیا ان کے اندر جانے سے معاشی صورتحال میں بہتری آئے گی۔ موجودہ بجٹ نے غریب عوام کو کیا سکھ دیئے ہیں، سمجھ میں نہیں آتا۔ کہا جارہا ہے کہ بگڑے ہوئے معاملات کو سنبھالنے میں وقت تو لگے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کم از کم تین سال کا عرصہ درکار ہے۔ اس کے بعد حالات کچھ بہتر ہوں گے۔ عمران خان نے عوام سے کئے حالیہ خطاب میں بتایا کہ پاکستان ایک عظیم ملک بننے جارہا ہے۔ جو ریاست مدینہ کی طرز پر ہوگا۔ نہ جانے ان کے دماغ میں کیا ہے اور وہ کیونکر ایک ایسے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے پر تلے بیٹھے ہیں جہاں اسلام کی تبلیغ کرنے والے مولانا ڈیزل جیسے بدکردار اور کرپٹ لوگ ہیں۔ ریاست مدینہ میں تو اس وقت کے یہودی اور عیسائی بھی سچ بولتے تھے۔ جو عہد کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو چھوٹے سے لے کر بڑا تک کسی نہ کسی فراڈ یا کسی نہ کسی چوری میں ملوث ہے اور جھوٹ بولنا کوئی برائی نہیں۔ احساس باقی نہیں رہا، باہمی اتفاق کا فقدان ہے۔ لوگ ایک ملک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کا حق صلب کرنے میں مشغول ہیں۔ اقربا پروری کا یہ عالم ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ ہر شخص ایک دوسرے کی عزت لوٹنے کے درپہ ہے۔ معصوم بچیوں کی عزتیں محفوظ نہیں۔ انصاف بک رہا ہے اور صرف اور صرف غریب پر لاگو ہے۔ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بڑوں کی لڑائی جاری و ساری ہے۔ اگر احتساب صحیح معنوں میں ہو رہا ہے تو بھی اس پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ آیا اس کا کچھ نتیجہ نکلے گا کہ نہیں کیونکہ ان سیاسی پنڈتوں کو اگر اپنی انا اور ضد کے سبب بند کیا گیا ہے تو پھر مستقبل کی صورتحال نہایت تشویش ناک اور مایوسی کن ہوگی اور اگر واقعی خفیہ ہاتھ چیزوں کو ٹھیک کرنا چاہ رہے ہیں تو ان پنڈتوں کو اندر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا بلکہ ماضی کی طرح اگر خفیہ معاہدوں کے عوض انہیں چھوڑ دیا گیا اور یہ پھر سیاست میں آگئے اور ان کے بچوں نے مستقبل کی باگ ڈور سنبھال لی تو پھر قوم یاد رکھے کہ کہاوت ہے کہ سانپ کو یا تو مارو نہیں اور اگر مارنے کا ارادہ کرلو تو جانے نہ دو، نہ سانپ کو زخمی کرکے چھوڑو‘ وگرنہ وہ ایک نیا اور تازہ دم حملہ کرے گا جو شاید سنبھالا نہ جا سکے۔ خفیہ ہاتھوں نے بڑے کھیل کھیل لئے مگر اب مزید کھیل کود نہایت خطرناک ہے۔ کہیں پاکستان ریاست مدینہ بننے سے پہلے ہی خدانخواستہ قبرستان نہ بن جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں