27

طبلِ جنگ بج چکا ۔۔۔ (2)

تیسری جنگ عظیم کی ابتداءجو ایران سے شروع ہوگی اور جس میں امریکہ اور اسرائیل کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر امریکہ کے حاشیہ بردار ملک شامل ہوں گے، دراصل ایران کے خلاف نہیں بلکہ یہ عالم اسلام کو نیست و نابود کرنے کے لئے کی جائے گی۔ اس سلسلے میں بعض امریکی پالیسی ساز جس میں ٹرمپ کا یہودی داماد اور اس کی بیٹی شامل ہیں۔ چاہتے ہیں کہ اس جنگ میں اسرائیل پس پشت رہے اور سارا کام عربوں سے لیا جائے اور اس مقصد کے لئے 50 سے زائد مسلم ممالک کی مشترکہ فوج جسے امریکہ کی تجویز کے ذریعہ سعودی عرب نے تشکیل دیا ہے اور جسے یمن کی جنگ میں بے گناہ حوثی قبیلے کو تباہ و برباد کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے اور جس کی قیادت پاکستانی جنرل راحیل شریف کررہا ہے کو بھی استعمال کیا جائے اس طرح ایک طرف اسرائیل اپنی تخریبی فوجی صلاحیتوں کو بیک گراﺅنڈ میں استعمال کرتے ہوئے ایران کو ختم کرنے کی مہم میں شریک بھی رہے گا اور اصل کام عربوں سے لیا جائے۔ اس طرح مسلمانوں کو مسلمانوں کے ذریعہ ختم کرنے کا منصوبہ مکمل کیا جائے جس کے بعد پورا مشرق وسطیٰ اسرائیل کے رحم و کرم پر آ جائے گا جہاں کی اقتصادیات اور تیل کی دولت امریکہ اور اسرائیل کے قبضے میں ہوگی اس طرح ایک پنتھ دو کاج کے ذریعے مسلمانوں کو محکوم بنا کر اس دولت پر قبضے کرنے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ہنری کسنجر نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ امریکی اور یورپین جوان گزشتہ دس سالوں کی جنگوں کے نتیجے میں بے حد تربیت یافتہ ہو چکے ہیں اور جب ان کو جنگ پر جانے کے لئے کہا جائے گا تو ان کی وحشیانہ جبلت پوری طرح سے بیدار ہو جائے گی اور وہ اس جنگ میں وحشیوں کی طرح کود پڑیں گے۔ (داعش کی تخلیق اور اس میں سفید فام افراد جس کا سربراہ ابو بکر بغدادی خود ایک سفید فام ہے نے اس مقصد کے تحت نوجوانوں کو وحشیانہ ہلاکت کے لئے تیار کیا ہے اسی طرح سے نائیجیریا میں جو نوجوانوں کی باغی فوج تیار کی ہے جنہوں نے ہزاروں نوجوان لڑکیوں کو اغواءکرکے ان کی عزتیں لوٹیں ہیں اسی سلسلے کی کڑی ہے)۔
کسنجر کے مطابق یہ امریکی اور یورپین جنگجو جوان مسلمانوں کو تہہ تیخ کرنے کے لئے بخوشی جنگ میں کود پڑیں گے۔ اس سلسلے میں کسنجر کا کہنا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہی ہم مسلم ممالک کی ان تنظیموں کو بھی ساتھ ملا لیں گے جو کہ ہمارے لئے ان ممالک میں تخریبی کارروائیاں کررہی ہیں اور ان حکومتوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرکے نفرت پیدا کررہی ہیں۔ (ملاحظہ ہو پاکستان میں پختون، بلوچی اور سندھی تحریکیں اور اس کے ساتھ ساتھ میں ایم کیو ایم الطاف) جس پر ہم نے بہت بھاری سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور ان کے راہنما ہمارے تنخواہ دار ملازم ہیں۔ یہ غداران وطن ہمارے مقاصد کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے اور ان کے ذریعہ ہم اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ کسنجر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے روس اور ایران کے لئے تابوت تیار کرلئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ایران اس تابوت کی آخری کیل ثابت ہوگا جس کے بعد دنیا ان سے نجات حاصل کرلے گی۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکہ ان ممالک کو کچھ عرصے کے لئے سنبھلنے کا موقعہ دے گا جس کے بعد دنیا میں امریکہ واحد سپرپاور ملک ہوگا جو بعد میں وہ اپنا ایک دیرینہ معاشرہ (فری مسینری) قائم کرکے ایک نئی دنیا تشکیل دے گا جہاں صرف اور صرف ایک ہی سپر پاور ہو گی اور ایک ہی حکمران ہوگا۔ امریکہ اور صرف امریکہ۔ کسنجر نے کہا کہ یہ اس ہنری کسنجر کا خواب ہے جسے دنیا والے تصور نہیں کرسکتے تھے، وہ سمجھ جائیں گے کہ ہنری کسنجر کون ہے یہ ایک ایسی دنیا ہو گی یہ ایک ایسا شہنشاہیت ہو گی جس کا خواب اور اس کی تعبیر ہنری کسنجر کے ذریعہ ہی ہوگی یہ ایک نیا ورلڈ آرڈر ہو گا جس کا خالق جرمنی کے ایک یہودی خاندان میں 1923ءمیں ہوا تھا۔
یہ چشم کشا انٹرویو، یہ متعصبانہ خیالات، یہ طاغوتی منصوبہ اور یہ شیطانی خیالات ان لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہئیں جو کہ اب تک یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ تو ایران کے ساتھ ہوگا، اس سے ہمارا کیا واسطہ؟ یہ سارے منصوبے ان لوگوں کو معلوم ہونے چاہئیں جو اس وقت پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں مصروف ہیں، وہ ماضی کے حکمران جنہوں نے اس ملک کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا اور اب وہ دوسرے ممالک میں بیٹھ کر امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ کیا زرداری کے یہودی ایجنٹ امریکہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف چلنے والی تحاریک کی حمایت نہیں کررہے؟ کیا حسین حقانی جیسے وطن فروش اور پیپلزپارٹی کے دیگر غدار پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کی سازشوں میں شریک نہیں ہیں؟ کیا بلاول زرداری جیسا نابالغ پشتون تحریک کی حمایت کرکے امریکہ سے اپنی وفاداری کا حق ادا نہیں کررہا؟ کیا مریم نواز پشتون دہشت پسندوں کی ہلاکت پر واویلا کرکے اسرائیل، امریکہ کو خوش نہیں کررہی ہے؟ کیا لندن میں بیٹھا الطاف حسین اپنے زہریلے بیانات سے حق غلامی ادا نہیں کررہا ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمن جیسا منافق اور ابن الوقت اپنے تیس لاکھ طالبان کے ذریعہ اسلام آباد پر چڑھائی کی باتیں کرکے امریکی ڈالروں کی نمک حلالی نہیں کررہا ہے؟ آج جو غاصب لٹیرے اور بدمعاش حزب اختلاف والے اپنے بیانات، عمل، کردار سے کسنجر کے اس بیان کی توثیق نہیں کررہے ہیں کہ ”ہم نے مسلم ممالک میں اپنے ایجنٹ مقرر کر رکھےہیں جن پر ہم نے بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور وقت آنے پر وہ ہمارے لئے ملک میں نفرت انگیزی، تخریب کاری، اور ملک دشمن کارروائی کرکے ہمارے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے“۔ کیا پاکستان کا امریکہ کے ہاتھوں بکاﺅ میڈیا اس ملک، حکومت اور فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم نہیں چلا رہا؟ یہ سب وہی زبان بول رہے ہیں جو یہودی کسنجر بول رہا ہے، یہ افراد پنے غیر ملکی آقاﺅں کو خوش کرنے کے لئے اور حق غلامی ادا کرنے کے لئے میر جعفر، میر صادق کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کوئی جھجھک محسوس نہیں کریں گے بلکہ یہ غیر ملکی فوجوں کو پھولوں کے ہار پہنائیں گے جیسے کہ پیپلزپارٹی کی نام نہاد شہید بے نظیر بھٹو نے ایک دفعہ کہا کہ ”اب وہ بھارتی فوجوں کے ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آئیں گی“۔ جیسے غدار وطن، ملک فروش نواز شریف نے بھارتی سرمایہ کاروں اور نریندر مودی کو اپنے گھر بلا کر ملک کا سودا کیا تھا اور جب فوج نے اس کی سازش کا بھانڈا پھوڑا تو اس نے امریکہ سے فوج کے خلاف شکایتیں کیں۔ کیا یہ غلط ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے امریکہ کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا اور فوج کے خلاف شکایتیں کیں اور پاکستان کو F15 طیارے دینے سے منع کیا، یہ ہی وطن فروش اور غداران وطن اب ایک بار پھر ملک کو فروخت کرنے کی سازش کررہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں