Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 85

اب نہیں تو کبھی نہیں

لالچ،غرور،تکبّر ،فکر انجام سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں سوچنے سمجھنے کی مہلت نہیں دیتےاور انسان اس کے جال میں پھنستا چلا جاتا ہے اور جب آنکھ کھلتی ہے تو بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔ اور یہ عمل عبرت ناک تاریخی واقعات حالیہ ماحول اور مستقبل کی خوفناک تباہیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے انسان غورو فکر سے عاری ہوجاتا ہے۔بیداری کے لئے طاقت کا نشہ ٹوٹنا،مال و دولت کی لالچ اور اس کے ہونے پر غرور و تکبّر کا قلعہ قمع ہونا ہی ملک و قوم کے ایک بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔تاریخ شاہد ہے کی ایسا ہی ہوا ہے تو حالات بدلے ہیں ورنہ راہ راست اور بعض نہ آنے پر اللہ تعالی’ نے رسّی کھینچی تو پوری دنیا میں پناہ کا کوئی ٹھکانہ نہ ملا اور انسانیت نے سکون کا سانس لیا۔اگرچہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر تاریخ سے سبق نہ لیا ہو تو ایسی تاریخ کے پیچھے وقت ضائع کرنا فضول ہے تاریخ میں اور ہماری مقدّس کتاب میں ایسے کئی واقعات اور کرداروں کا ذکر ہے جن سے عبرت کا سبق ملتا ہے ۔اور ان میں ایک قوم عاد کا بھی ذکر ہے جو دنیاوی دولت سے مالا مال تھی اور ان کا بادشاہ شدّاد جس کا نام آج بھی بچّہ بچّہ جانتا ہے وہ ایک غرور و تکبّر میں ڈوبا ہوا شخص تھا اور اس کی پوری قوم بگڑ چکی تھی نا انصافی کا دور دورہ طاقتور کمزور پر غالب ہر طرح کی من مانی اور گناہوں میں ڈوبی ہوئی قوم ایسے میں اللہ تعالی’ نے حضرت ھود علیہ السّلام کو ہدایت کے لئے بھیجا لیکن اس بگڑی ہوئی قوم نے ان کی بات نہ مانی بلکہ الٹا ان کو تکلیفیں پہونچانے کی ترکیبیں کرنے لگے۔حضرت ھود علیہ السّلام نے شدّاد کو سمجھانے اور اسے اللہ کی طرف راغب کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ دولت اور طاقت کے نشے میں چور تھا اس نے ایک نہ سنی نتیجے میں اللہ کا عذاب نازل ہوا سات دن اور رات تیز طوفانی ہوا چلتی رہی جس نے ہر چیز کو تہس نہس کردیا اور اس طوفانی ہوا کے بعد ایک بڑا ریت کا طوفان آیا جس نے پوری قوم عاد کو دفن کردیا صرف حضرت ھود علیہ السّلام اور ان کے چار صحابی زندہ بچے۔ اسی طرح ایک نام نمرود کا بھی ہے جس نے خدائی کا دعوی’ کیا تھا اس کا ٹکراو¿ حضرت ابراہیم علیہ السّلام سے ہوا اور انہوں نے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی اور خدائی کا جھوٹا دعوی’ کرنے سے باز رہنے کو کہا اور اس سے کہا کہ خدا وہ ہے جس کے ہاتھ میں موت اور زندگی ہے اس بات پر نمرود نے سزائے موت کے دو قیدی بلوائے ایک کو قتل کردیا اور دوسرے کو رہا کرکے کہنے لگا یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے فرمایا اللہ تعالی’ سورج مشرق سے طلوع کرتا ہے تم مغرب سے کرکے دکھاو¿ ظاہر ہے یہ کام وہ نہیں کرسکتا تھا لہذا طیش میں آگیا اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو آگ میں پھنکوادیا لیکن اللہ تعالی’ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے جسم پر حرام کردیا ۔کچھ عرصہ پہلے صدّام حسین کا انجام سب نے دیکھا اس کے ساتھ اچھا ہوا یا برا یہ ایک علیحدہ بحث ہے لیکن غرو و تکبّر اور ظلم میں وہ بھی کسی سے پیچھے نہیں تھا بعض اوقات انسان ظلم اور گناہ کرتا رہتا ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں مل رہی لیکن ایسے شخص کو جب سزا ملتی ہے تو ایسے جرم میں جو اس نے نہیں کیا ہوتا ہے۔ وہ بے گناہ ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی’ ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکتا تب اسے اپنے پچھلے گناہ یاد آتے ہیں اور وہ توبہ کرتا ہے۔ صدّام حسین کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے ہی اس کا باپ اپنے خاندان کو چھوڑ کر بھاگ کیا تھا عام سے گھرانے کا فرد لیکن دولت اور اقتدار ملتے ہی اپنی اصلیت بھول بیٹھا اللہ تعالی’ نے دو مرتبہ اسے سنبھلنے کا موقع دیا لیکن وہ نہ سمجھا اور انجام سب کے سامنے ہے۔اسی طرح کرنل قذّافی مغرب کی سازش کا شکار تو ہوا لیکن اس کے انجام سے معلوم ہوگیا کہ اس کے عوام اس سے خوش نہ تھے اس کے بیٹے کی رنگینیوں کے قصّے بھی عام تھے۔کرنل قذّافی کے والدین بکریوں کا دودھ دوہ کر اور مکھّن پنیر بیچ کر گزارا کرتے تھے اس میں کوئی برائی نہیں تھی محنت کرکے پیٹ پالتے تھے لیکن قذّافی کو اقتدار کے نشے نے یہ احساس ہی بھلادیا کہ غربت کیا ہوتی ہے۔اسی طرح شاہ ایران جو کہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوا اور آخر تک سونے کے چمچ سے ہی کھانا کھاتا رہا۔شہنشاہیت کا جشن منانے کے لئے کیلینڈر کو ہی پیچھے کردیا اور دنیا سے انوکھا کیلینڈر چلتا رہا اور پھر انقلاب کے بعد کیلینڈر کو واپس اپنی جگہ لایا گیا۔اسی طرح اس کی گھڑی ایک گھنٹہ پیچھے ہوگئی تو اس کے خوش آمدی وزیر نے اسے اپنی گھڑی آگے نہیں کرنے دی بلکہ پوری قوم کی گھڑیاں ایک گھنٹے پیچھے کروادیں۔غرور اور عوام پر ہونے والے ظلم نے اس کا وہ حشر کیا کہ دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں۔لیکن ان سب کا انجام کیوں اور کتنے عرصے میں ہوا یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے ۔ان سب کو اپنے انجام تک پہونچنے میں اور ان کی عوام کو ان کے ظلم سے نجات ملنے کو ایک طویل عرصہ لگا۔اور یہ طویل عرصہ کیوں لگا اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالنے کی ذمّہ داری پوری قوم پر عائید ہوتی ہے جب قومیں بگڑ جاتی ہیں تو ظاہر ہے حکمران بھی اسی بگڑی ہوئی قوم میں سے چنے جاتے ہیں پھر ظلم شروع ہوتا ہے اور جب تک اس انتہا تک نہیں پہونچتا کہ جہاں لوگ عاجز آکر صرف خدا کی طرف رجوع ہوں اور صرف اسے ہی اس ظلم سے نجات کا زریعہ سمجھیں اور اس ہی کی مدد کے طالب ہوں اور اس کی ذات اور مدد پر یقین کامل ہو تو پھر رحمت خداوندی بھی جوش میں آجاتی ہے لیکن جب تک لوگ صرف اپنے لیڈران ہی کو نجات دہندہ سمجھیں تو خدا بھی ان کی مدد کو نہیں آتا۔خدا کہتا ہے کہ مجھ سے مانگو میں تمھیں دوں گا لیکن اس کے ساتھ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ تمھیں کس چیز کی اشد ضرورت ہے۔بغیر مانگے اور بغیر اس کی ذات کو پہچانے وہ کچھ بھی نہیں دیتا اور اگر ایسا ہوتا تو تمام عبادتوں کی اور تمام عبادت گاہوں کی کوئی ضرورت نہ رہتی آج ہماری پوری قوم مصیبتوں میں مبتلا ہے لیکن اس کے باوجود چور کرپٹ اور ظالم لیڈروں کا دامن چھوڑنے کو تیّار نہیں ہیں۔ان کو صرف اپنے اپنے لیڈروں پر بھروسہ ہے دعاو¿ں میں کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے وجہ ہی ہے کہ سچّے دل سے ملک و ملّت کی دعا نہیں ہوتی ہے ہماری دعائیں ہوتی ہیں بیٹی کی کسی اچھّی جگہ شادی ہوجائے ،بیٹے کی اچھّی سی نوکری لگ جائے ،شوہر کی ترقّی ہوجائے ،گھر میں دولت کی ریل پیل ہوجائے ،مال داروں کے علاقے میں ایک برا سا بنگلہ مل جائے۔یہ دعائیں بہت کم ہیں کہ یا اللہ ہمارے ملک کو دشمنوں سے آزاد کردے ،ملک دشمن عناصر کو غرق کردے ،ہمیں مظالم سے نجات دلا حالت یہ ہے کہ جس پر آج ظلم ہوا ہے صرف وہ رورہا ہے باقی لوگ کہتے ہیں ہمارا کیا جاتا ہے ہم تو اسے جانتے بھی نہیں ہیں۔ آج ساری دنیا کو یہ علم ہے کہ نواز شریف اور زرداری نے مل کر ملک کو لوٹا ہے ہمارے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ملک کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کیا ہے ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا ان کا غرور و تکبّر سب نے دیکھا یہ اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھے تھے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔اب اللہ تعالی’ نے موقعہ دیا ہے ان لوگوں سے نجات حاصل کرنے کا لیکن تمام چور مل کر راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں اور عوام میں سے وہ لوگ جو ان لیڈروں کے دور میں خود بھی کرپٹ ہوگئے اور حرام منہ کو لگ کیا ہے وہ جانتے بوجھتے ان کی حمایت کررہے ہیں ۔ان چوروں سے تمام لوٹی ہوئی دولت واپس لینا چاہئے اور ان پر مقدمات چلاکر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے اور میرا خیال ہے ان چوروں کو انجام تک پہونچانے کا یہ آخری موقعہ ہے اگر اب نہیں تو پھر کبھی بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں