107

اورنگ آباد سے پکرنگ تک ”حمایت علی شاعر“

وہ تقریب ہمارے خانوادے کے لئے بہت اہمیت کی حامل تھی۔ یہ تقریب ہمارے والد جناب صبا اکبر آبادی کے مجموعہ کلام کے اجراءتقریب تھی جو بہت مدت بعد اور بڑی کاوشوں سے منعقد کی جارہی تھی۔ ہمارے والد صبا اکبر آبادی نے قیام پاکستان کے بعد آگرہ سے ہجرت کے کچھ عرصہ تک اپنی مقبولیت کے سہارے پاکستان کی ادبی محفلوں میں بھرپور حصہ لیا۔ حیدرآباد سندھ میں رہائش کی بدولت وہاں سندھی اردو کے مشاعرے منعقد کئے جس میں انہیں بہت حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی مگر مجموعی طور پر نئے پاکستان کے بننے والے ادبی ماحول سے آہستہ آہستہ کنارہ کشی اختیار کرنا شروع کردی پھر ایک دور ایسا بھی آیا کہ انہوں نے مکمل گوشہ نشینی اختیار کرکے اپنے خاندان اور اپنوں سے جڑے ہوئے خاندانوں کی کفالت میں اپنا تمام وقت گزارنا شروع کردیا اس کے باوجود ان کی تخلیقی فکر جاری و ساری رہی وہ اپنی تخلیقات مکمل پابندی سے جاری رکھتے رہے۔ والد صاحب خاندانوں کی کفالت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے حیدرآباد سے کراچی منتقل ہو چکے تھے۔ حیدرآباد میں ہمارے سلطان نسیم بڑے بھائی جان ہم سب بہن بھائیوں کی نگرانی کے لئے معمور تھے۔ وہ حیدرآباد کے علمی و ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے رہے ان کے ساتھیوں میں فلم اسٹار محمد علی، ارشاد علی، عبدالکریم بلوچ، مصطفیٰ قریشی بھی شامل تھے مگر ان سب کی نگرانی کے لئے حمایت علی شاعر جو ہمارے خانوادے میں حمایت بھائی کے طور پر جانے جاتے تھے، موجود تھے۔
حمایت بھائی سلطان جمیل بھائی سے عمر میں اور علمیت کے رتبے میں بھی بڑے نہیں تھے بلکہ وہ سلطان جمیل بھائی کو چھوٹے بھائی کی طرح سمجھ کر ان کی رہنمائی کرتے رہے تھے۔ سلطان جمیل بھائی کو مکمل افسانہ نگاری کی طرف راغب کرنے میں حمایت بھائی کا بڑا کردار تھا۔ وجہ یہ تھی کہ سلطان جمیل بھائی شروع میں شاعری کو اپنا وسیلہ اظہار بنانا چاہتے تھے اور حمایت بھائی شروع میں نثر یا افسانہ کی طرف زیادہ راغب تھے۔ اس ہی طرح حمایت بھائی نثر اور افسانہ نگاری سے شاعری کی طرف اپنے آپ کو مکمل منتقل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے اس طرح انہوں نے سلطان جمیل بھائی کو شاعری سے نثر اور افسانہ کی طرف راغب کرنے میں بہت رہنمائی کی۔ حمایت علی شاعر کی مقبولیت حیدرآباد سے نکل کر پورے پاکستان کے ساتھ ساتھ جہاں جہاں اردو زبان سمجھی جاتی تھی وہاں تک پہنچنا شروع ہو گئیں۔ حمایت بھائی کراچی مستقل طور پر منتقل ہو گئے ان کو ادب اور شاعری میں بہت اہم مقام حاصل ہوتا چلا گیا اس طرح حمایت علی شاعر شاعری کی ہر صنف میں بہت اعلیٰ مقام کے حامل ہوگئے۔ یہاں سے ان کی ادبی زندگی میں ایک موڑ اور آیا جب وہ کراچی سے لاہور وہاں کی فلم انڈسٹری میں پہلے تو ایک نغمہ نگارکی حیثیت سے شامل ہو گئے اور ان کے نغموں اور گیتوں کی دھوم پورے برصغیر میں گونجنے لگی۔ ان کے گیتوں اور نغموں میں خالص شاعری رچی بسی ہوئی تھی اسی طرح ان کی شاعری نغمی سے بھرپور تھی جو ان کی ذات میں شاعری کے ساتھ ساتھ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اس ہی دوران وہ اپنی اردو شاعری کی تمام اصناف میں نئی تخلیقات کا مسلسل اضافہ بھی کرتے رہے اور فلمی دنیا میں اپنی دھاگ بھی بٹھاتے رہے جب تک وہ فلمی دنیا میں رہے وہاں کے تمام معروف ایوارڈ بھی حاصل کرتے رہے جس میں نگار ایوارڈ بھی نمایاں ہے اس موقع پر حمایت بھائی کی شہرت چارگاہ دو علم تھی۔ وہ مقبولیت کے اس بڑے درجے پر پہنچنے کے باوجود عاجزی انکساری کے بھی سب سے بڑے درجے پر تھے انہوں نے اس ہی دوران فلم ”لوری“ بھی پروڈیوس کی جس میں انہوں نے اپنے پرانے ساتھی فلم اسٹار محمد علی اور زیبا کو بھی شامل رکھا۔ خلیک احمد جو اس وقت فلموں سے دور ہو رہے تھے ان کو بھی دوبارہ فلم دنیا میں واپس لانے میں انہوں نے فلم ”لوری“ کے گیتوں کی موسیقی کی ذمہ داری خلیل احمد کے سپرد کی۔ فلمی دنیا میں مکمل عروج اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجد حمایت بھائی لاہور سے کراچی واپسی کا سفر شروع کردیا۔ اور سندھ یونیورسٹی کے استاد بن گئے اس دوران انہوں نے تین مصرعوں پر مشتمل ایک مثنی صنف کا اضافہ بھی کیا ان کے لکھے ہوئے قومی گیت ان کے وطن سے محبت کا بھرپور اظہار بھی تھا۔ اسی کی دہائی میںہمارے خانوادے کے ایک اور فرد تاجدار بھائی نے بڑے بھائی جان سلطان جمیل نسیم کے ساتھ والد صاحب کو گوشہ نشینی سے نکالنے کی بھرپور کوشش شروع کردی۔ ان کی تخلیقات کے نئے نئے مجموعہ چھپوا کر صاحبان ادب کے سامنے پیش کرتے رہے اس موقع پر حمایت بھائی بھی ہمارے خانوادے کی ان کاوشات میں مکمل طور پر شریک ہو گئے اس طرح ہمارے والد صاحب کو گوشہ نشینی سے نکال کر صاحبان ادب کے سامنے لانے میں حمایت بھائی کا بھرپور حصہ رہا ہے۔
مجھے یاد ہے والد صاحب کی کتاب کی تقریب میں پاکستان تقریباً تمام بڑے ادیبوں اور شاعروں کو مدعو کرنے میں حمایت بھائی کی شخصیت اور شہرت کا بھرپور ہاتھ تھا۔ اس موقع پر جب حمایت بھائی سے درخواست کی گئی کہ وہ تقریب کی نظامت کی بھی ذمہ داری سنبھالیں تو حمایت بھائی نے بڑے ذوق و شوق سے تقریب کی نظامت کرکے تقریب کو کامیاب بنایا۔ اس ہی تقریب میں حمایت بھائی نے والد صاحب کی بے پناہ تخلیقات اور مختلف اصناف میں جس میں مرثیہ، نعت گوئی، غزل، نظم، رباعی اور ترجموں کے باعث ان کے بارے میں یہ تاریخی جملہ کہا کہ ”صبا اکبر آبادی اردو کے وہ واہد شاعر ہیں جو ہمہ گو زود گو اور پرگو شاعر ہیں“۔ حمایت بھائی کی والد صاحب کے ساتھ ساتھ ہمارے خانوادے کے تمام افراد سے خصوصی محبت کا اظہار مختلف مواقعوں پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اپنے زمانے کے واحد چینل پی ٹی وی میں تاجدار عادل کے ذمہ مختلف تفریحی، سماجی پروگراموں کے علاوہ علمی اور ادبی پروگراموں کی ترتیب دینا بھی شامل تھی اس موقع پر تاجدار عادل کو جب بھی حمایت بھائی کی رہنمائی اور نگرانی کی ضرورت محسوس ہوتی، حمایت بھائی سب سے آگے بڑھ کر پروگراموں کی ترتیب دینے میں شامل رہتے۔ جن میں عقیدت کا سفر، روشنی کا سفر، شامل ہے۔ اس طرح کی خصوصی محبت حمایت بھائی کا خاصہ صرف ہمارے ہی خانوادے کے لئے ہی نہیں تھا بلکہ وہ اس طرح کی محبت کا اظہار ہر اس فرد سے کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے تھے کیونکہ یہ ظرف حمایت بھائی کی شخصیت کا خاصہ تھا اور وہ شخص جو دنیا بھر کو اپنی ذات سے محبت بانٹے وہ کیونکر اپنے اطراف کو اس محبت سے محروم رکھے۔ وہ فلمی صنعت میں رہتے تو لوگوں میں محبت بانٹتے رہتے جب لاہور سے کراچی منتقل ہوئے تو علمی ادبی حلقوں میں بھی اس ہی سلسلے کو جاری رکھتے رہے۔
پھر کیوں نہ اس محبت سے اپنے خاندان کو محروم رکھتے۔ کہتے ہیں شاعر کی بیوی کی قسمت خراب ہوتی ہے کہ اس کی شادی کسی شاعر سے ہو جائے کیونکہ شاعر کی بیوی الگ ہوتی ہے، محبوبہ الگ، لیکن حمایت بھائی کی رفیق زندگی اس لحاظ سے خوش نصیب تھیں کہ وہ حمایت بھائی کی رفیق زندگی کے ساتھ ساتھ محبوب بھی تھیں۔ جس کا اظہار حمایت بھائی نے اپنی شاعری کے بیشتر حصے میں بارہا اپنے اشعار میں کیا وہ اپنی رفیق حیات کو ہی ٹوٹ کر نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کے لئے اپنی شاعری کا رخ ہی تبدیل کرکے اس طرح پیش کیا کہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تمام شاعری اس محبو کے لئے ہے۔ جو ان کا رفیق زندگی ہے۔
تجھ کو معلوم نہیں
تجھ کو بھلا کیا معلوم
اس ہی طرح حمایت بھائی کی اپنے بچوں سے محبت بھی نمایاں طور پر نظر آتی۔ وہ نہ صرف ایک اعلیٰ بہترین شوہر ہی نہیں ایک بہترین محبت کرنے والے والد بھی تھے۔ جس طرح وہ ایک سعادت مند بیٹے مشفق بھائی تھے اس ہی طرح شفقت کرنے والے والد بھی تھے۔ جنہوں نے اپنی اولاد کی کامیابی کے لئے بہت جدوجہد کی، یہی وجہ ہے کہ اولاد بھی آپ پر جان چھڑکتی ہے اور ان کے بچوں کے بچے بھی اپنے دادا نانا کی محبت میں ان کے شیدائی۔
ڈاکٹر بلند اقبال نے کہا
قبر میں انہیں اتار آیا۔۔۔ اور آج یاد آیا۔۔۔۔ خود کو تو وہیں چھوڑ آیا۔ حمایت علی شاعر کا جسد خاکی پکرنگ میں گوشہ نشین ہوگیا مگر وہ تو اپنی اولاد کے اندر ہی موجود رہے۔
ان کے افکار کی روشن خیالی میں وہی تو ہیں
ان کے علم اور ادب کا اوج کمال بھی وہ ہی تو ہیں
ان کے حسن کا زول جمال بھی وہی تو ہے
ان کی ذات کا بلند اقبال بھی یہیں تو ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں